امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے -…

امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

دوسری قسم: ایسا کھانا جو اپنی مقدار اور حد سے تجاوز کرنے پر دل کو خراب کردے، جیسے حلال چیز کو حد سے زیادہ کھا لینا، ایسا کھانا دل کو اطاعتوں سے روک دیتا ہے، پیٹ بھرنے والی چیزوں کے حصول اور کوشش میں اسے مشغول کر دیتا ہے، حاصل ہو جانے پر ان کو بکثرت کھانے اور ان کے نقصانات سے بچنے کی کوشش میں مشغول کر دیتا ہے، خواہشات کو اس پر غالب کر دیتا ہے، شیطان کی راہوں کو کشادہ کر دیتا ہے، بلاشبہ وہ انسان کی رگوں میں خون کی مانند دوڑتا ہے، روزہ اس کی راہوں کو تنگ بلکہ اس کے راستوں کو بند کر دیتا ہے، اور ضرورت سے زیادہ کھانا ان راہوں اور راستوں کو وسیع اور کشادہ کر دیتا ہے، چنانچہ جو زیادہ کھاتا ہے، زیادہ پیتا ہے، وہ زیادہ سو کر زیادہ گھاٹا اٹھاتا ہے۔

(مدارج السالکین: جلد 1 صفحہ 458، 459)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کی شرح

وَ کَانَ خَارِجًا مِنْ سُلْطَانِ فَرْجِہِ فَلَا یَسَتخِفُّ لَہُ عَقْلَہُ وَ لَا رَأْیَہُ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’اپنی شرمگاہ کا غلام نہیں تھا، چنانچہ اس کے پیچھے اپنی عقل و رائے کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شرمگاہ کی خواہش پر قابو پانے کی دعوت دے رہے ہیں، اور (بتاتے ہیں کہ) اسے منجانب اللہ مشروع طریقے ہی سے پوری کرنی چاہیے اس لیے کہ اس طریقے سے تجاوز کرنے کے نتائج خطرناک ہیں، جیسے دل کی سختی، ایمان کی کمزوری وغیرہ، شرمگاہ کی خواہش جتنا ہی غالب ہوگی اتنا ہی دل کی سختی، تاریکی اور وحشت بڑھے گی، اس خواہش کی ابتداء محرمات کو دیکھنے سے ہوتی ہے، پھر اختلاط ہوتا ہے، پھر زنا کا معاملہ معمولی معلوم ہونے لگتا ہے، اور اس کا راستہ ہموار ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کا ارتکاب ہو جاتا ہے، پھر یہ بیماری دل میں سرایت کر جاتی ہے، ایمان کی حقیقت اس سے دور ہونے لگتی ہے، یہی اس فرمانِ نبویﷺ کا مصداق ہے:

لَا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ وَ لَا یَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَ یَشْرَبُہَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ۔

(صحیح البخاری مع الفتح کتاب الحدود: جلد 8 صفحہ 13، مسلم: رقم: 57)

’’زناکار زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا، شرابی شراب پینے کے وقت مومن نہیں ہوتا۔‘‘

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی روایت کے وقت فرمایا: یعنی وہ کامل مومن نہیں ہوتا، نیز ایمان کی روشنی سے محروم ہوتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

إِذَا زَنَی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ الْاِیْمَانُ فَکَانَ فَوْقَ رَأْسِہِ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ذٰلِکَ الْعَمَلِ رَجَعَ إِلَیْہِ الْاِیْمَانُ۔ 

(المستدرک للحاکم: جلد 1 صفحہ 22۔ امام ذہبی رحمۃاللہ نے موافقت کی ہے۔)

’’بندہ جس وقت زنا کرتا ہے اس وقت ایمان اس سے نکل کر اس کے سر پر چھتری کے مانند رہتا ہے، جب وہ اس کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کی جانب لوٹ جاتا ہے۔‘‘

کبائر کے مرتکبین سے ایمان کی روشنی چھین لی جاتی ہے، ان کے دلوں سے اللہ کی تعظیم جاتی رہتی ہے، اس لیے کہ جو زنا، چوری، شراب نوشی وغیرہ جیسے کبائر کا مرتکب ہوتاہے اس کے دل سے خشیتِ الہٰی، خشوع و خضوع اور ایمان کی روشنی جاتی رہتی ہے، اگرچہ اس میں تصدیق کی بنیاد باقی رہ جاتی ہے اور یہی مفہوم ہے ارتکابِ کبیرہ کے وقت ایمان کی روشنی چھین لینے کا۔

(کتاب الإیمان لابن تیمیۃ: صفحہ 29)

شرمگاہ کی خواہش کے غالب آنے کے نتائج میں سے معاصی کا بکثرت ارتکاب ہے، معصیت اگرچہ چھوٹی ہو دوسری معصیت کا راستہ ہموار کرتی ہے، اس طرح بکثرت معاصی کا ارتکاب ہونے لگتا ہے، اور مرتکب اس کی ہولناکیوں کا احساس نہیں کرتا، چنانچہ کسی اجنبی عورت کی جانب ایک نگاہ سوچنے پرمجبور کرتی ہے، پھر دل میں داعیہ پیدا ہوتا ہے، پھر شہوت پیدا ہوتی ہے، نتیجتاً زنا کے ارتکاب کا پختہ ارادہ ہوتا ہے، پھر اگر حالات سازگار ہوئے تو زنا کا ارتکاب کر لیتا ہے، اسی لیے کسی اجنبی عورت کی جانب دیکھنے کو زنا کی تمہید اور اس تک پہنچانے والے دروازوں میں سے ایک دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ امام مسلمؒ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

کُتِبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ نَصِیْبُہُ مِنَ الزِّنَا، مُدْرِکْ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ، فَالْعَیْنَانِ زِنَاہُمَا النَّظْرُ، وَ الْأُذُنَانِ زِنَاہُمَا الْاِسْتِمَاعُ، وَ اللِّسَانُ زِنَاہُ الْکَلَامُ، وَالْیَدُ زِنَاہَا الْبَطْشُ وَ الرِجْلُ زِنَاہَا الْخَطْأُ، وَالْقَلْبُ یَہْوِیْ وَ یَتَمَنَّی وَ یُصَدِّقْ ذٰلِکَ الْفَرْجُ أَوْ یَکْذِبُہُصحیح۔

(صحیح مسلم: رقم: 2657)

’’انسان کے لیے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ یقیناً اسے پانے والا ہے، آنکھوں کا زنا (نامحرم عورت کی طرف) دیکھنا ہے، کانوں کا زنا (حرام آواز کا) سننا ہے، زبان کا زنا (ناجائز )کلام کرنا ہے، ہاتھ کا زنا (ناجائز) پکڑنا اور پاؤں کا زنا (ناجائز کام کی طرف) چل کر جانا ہے، اور دل خواہش اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔‘‘

اس طرح معصیت رفتہ رفتہ بندے کے دل میں گھر کرتی اور اس پر اثر انداز ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کی پروا نہیں کرتا، نہ اسے چھوڑ سکتا ہے، بلکہ زیادہ کا طلبگار ہوتا ہے۔

(أمراض النفس: صفحہ 121)

اس سلسلے میں ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’معصیتیں دوسری معصیتوں کو جنم دیتی ہیں تاآنکہ بندہ ان سے الگ تھلگ نہیں ہو سکتا، وہ معصیتیں لازمی صفت، مستقل عادت اور فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں، عاصی اگر معصیت چھوڑنا اور اطاعت شعاری کرنا چاہے تو وہ اپنے آپ میں سخت تنگی محسوس کرتا ہے تاآنکہ معصیت کا دوبارہ ارتکاب نہ کر لے، بہت سارے فاسق معصیت کا ارتکاب کسی لذت کے لیے نہیں کرتے ہیں بلکہ اس تکلیف سے بچنے کے لیے جو معصیت کو ترک کرنے کی صورت میں انھیں لاحق ہوتی ہے۔‘‘

(الجواب الکافی: صفحہ 59، 60)

صفحہ 3 از 4