امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے -…

امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

شرمگاہ کی خواہش کے غالب آنے کے نتائج میں سے شرم و حیا کا ختم ہو جانا ہے، جب خواہش کے غالب آنے پر بندہ گناہوں کے ارتکاب کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اس کو اس کی پروا ہی نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے قبیح افعال سے آگاہ ہو رہے ہیں، بلکہ اس طرح کے لوگ اپنے برے کاموں کو فخر سے بیان کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ شرم و حیا سے بالکل عاری ہو چکے ہیں۔

(

شرمگاہ کی خواہش کو معمولی انحراف سے بچانے کے سلسلے میں کوتاہی رفتہ رفتہ مزید انحراف تک پہنچا دیتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان شہوانیت کا ایسا شکار ہوجاتا ہے کہ اس کی برائیوں سے نجات مشکل ہوجاتی ہے، آخر میں دل بالکل سیاہ ہوجاتا ہے، اخلاقِ حسنہ سے بالکل عاری ہوجاتا ہے، مزید برآں اسے دیگر نفسانی و جسمانی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔

أمراض النفس: صفحہ 123)

اسلام نے شرمگاہ کی خواہش کے غالب آنے سے بچاؤ کی تدبیریں پیش کی  ہیں انہی میں سے درج ذیل تدبیریں ہیں:



صفحہ 4 از 4