Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غض بصر اور ستر عورت

  علی محمد الصلابی

 شہوت کے تیر جس راستے سے دل میں پیوست ہوتے ہیں وہ نگاہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور شرمگاہوں کو حرام کاری سے بچانے کا حکم دیا ہے۔ فرمان الہٰی ہے:

قُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ يَغُـضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِهِمۡ وَيَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَهُمۡ‌ ذٰلِكَ اَزۡكٰى لَهُمۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌبِمَا يَصۡنَـعُوۡنَ ۞(سورۃ النور آیت 30)

ترجمہ: مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے۔ وہ جو کاروائیاں کرتے ہیں اللہ ان سب سے پوری طرح باخبر ہے۔

فرمان نبویﷺ ہے:

لَا یَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَ لَا الْمَرْأَۃُ إِلَی عَوْرَۃِ الْمَرْأَۃِ وَ لَایُفْضِی الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ وَ لَا تُفْضِی الْمَرْأَۃُ إِلَی الْمَرْأَۃِ فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ۔ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 338)

’’مرد مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ عورت عورت کے ستر کو دیکھے، اور نہ مرد مرد کے ساتھ برہنہ ایک کپڑے میں لیٹے، اور نہ عورت عورت کے ساتھ برہنہ ایک کپڑے میں لیٹے۔‘‘

ابن القیم رحمہ اللہ کا قول ہے

’’اللہ تعالیٰ نے آنکھ کو دل کا آئینہ بنایا ہے، جب بندہ نگاہ کو نیچی رکھتا ہے تو دل کی شہوت اور ارادے کو کنٹرول میں رکھتا ہے، اور جب نگاہ کو کھلی چھوٹ دے دیتا ہے تو شہوت کو بھی آزاد کر دیتا ہے۔‘‘

(روضۃ المحبین: صفحہ 109)

نیز انھی کا قول ہے: نگاہ دل میں ویسے ہی اثر کرتی ہے جیسے تیر شکار میں، اگر اس کا کام تمام نہیں کر دیتی تو کم از کم زخمی ضرور کرتی ہے، نگاہ آگ کے اس انگارے کے مانند ہے جسے خشک گھاس میں پھینک دیا جائے، اگر وہ تمام گھاس کو نہیں جلاتا تو کچھ کو ضرور جلا دے گا، کسی شاعر نے کہا ہے:

کل الحوادث مبدأہا من النظر و معظم النار من مستصغر الشرر

’’تمام حوادث کی ابتداء نظر سے ہوتی ہے، بڑی آگ کی ابتداء چھوٹی چنگاری سے ہوتی ہے۔‘‘

کم نظرۃ فتکت فی قلب صاحبہا فتک السہام بلا قوس ولا وتر

’’کتنی ہی نگاہیں ہیں جو صاحبِ نگاہ کے دل میں تیروں کی مانند پیوست ہو جاتی ہیں۔‘‘

و المرء مادام ذاعین یقلبہا فی أعین الغید موقوف علی الخطر

’’انسان جب تک حسیناؤں سے نگاہیں لڑاتا رہتا ہے خطرے میں ہوتا ہے۔‘‘

یسر مقتلہ ما ضر مہجتہ لامرحبا بسرور عاد بالضرر

(روضۃ المحبین: صفحہ 114)

’’روح کے لیے مضر چیز ہی اس کی نگاہ کو خوش کرتی ہے، ایسی خوشی کو دور سے سلام، جو نقصان دہ ہو۔‘‘