Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اختلاط کی حرمت عورتوں کو حجاب کا حکم

  علی محمد الصلابی

اس بارے میں بہت ساری قرآنی آیات اور احادیث نبویہ وارد ہیں، فرمان الہٰی ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞سورۃ الأحزاب آیت 59

ترجمہ: اے نبی! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَاِذَا سَاَ لۡتُمُوۡهُنَّ مَتَاعًا فَسۡئَـــلُوۡهُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 53)

ترجمہ: اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا۔ 

امام بخاری اور امام مسلم نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِیَّاکُمْ وَ الدُّخُوْلِ عَلَی النِّسَائِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَفَرَأَیْتَ الْحِمْوَ؟ قَالَ: اَلْحِمْوَ الْمَوْتُ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2172)

’’تم (غیرمحرم) عورتوں کے پاس جانے سے گریز کرو، ایک انصاری شخص نے کہا: شوہر کے قریبی رشتہ دار کی بابت فرمائیے؟ آپﷺ نے فرمایا: شوہر کا قرابت دار تو موت ہے۔‘‘

(حمو) شوہر کا بھائی اور اس کے مشابہ شوہر کے دوسرے رشتہ دار جیسے بھائی کا لڑکا، چچا، چچا کا لڑکا وغیرہ جو محرم نہ ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ’’اَلْحِمْوُ الْمَوْتُ‘‘ کے معنیٰ یہ ہیں کہ دوسروں کے مقابلے میں اس سے زیادہ خوف ہے، اس لیے کہ اجنبی کے بالمقابل اس کا عورت کے پاس بلا روک ٹوک آنے جانے اور تنہائی میں ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

(شرح النووی: علی صحیح مسلم: جلد 14 صفحہ 153)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِاِمْرَأَۃٍ إِلَّا وَ مَعَہَا ذَوْ مَحْرِمٍ وَ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَۃِ إِلَّا مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1341)

’’کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے مگر اس حالت میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم رشتہ دار ہو، اور عورت محرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

اسی طرح متعدد حدیثوں میں مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کی چال ڈھال اور لباس میں مشابہت اختیار کرنے پر سخت وعید آئی ہے، اس لیے کہ اس سے شہوانی خواہشات ابھرتی ہیں، اور ان میں انحراف پیدا ہوتا ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نقل کی ہے وہ کہتے ہیں:

لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم الْمُتَشَبِّہِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَائِ وَ الْمُتَشَبِّہَاتِ مِنَ النِّسَائِ بِالرِّجَالِ۔ 

(صحیح البخاری مع الفتح: کتاب اللباس: جلد 7 صفحہ 55)

’’عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔‘‘