نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے…

نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کی علی ابن ابی طالب کو ممانعت

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 5
ابوجہل کی بیٹی کو حضرت علیؓ کا پیغامِ نکاح
اس واقعے کو سیدنا زین العابدین علی بن حسینؓ اور ابومُلَیکہ نے حضرت مسوَر بن مخرمہ سے روایت کیا ہے، اور اس کی تائید حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ نیز سیدنا ابوحنظلہؓ اور سیدنا سوید بن غفلہؓ کی مرسل روایات بھی اس کی مؤید ہیں۔ امام بخاریؒ نے کتاب فرض الخمس، کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ اور کتاب النکاح میں، مسلم نے کتاب فضائل الصحابہ میں، ابوداؤد نے کتاب النکاح میں، ابنِ ماجہ نے کتاب النکاح میں، ترمذی نے کتاب المناقب میں اور حاکم نے کتاب معرفۃ الصحابہ میں متعدد سندوں سے ان روایات کو نقل کیا ہے۔
تفصیل اس قصے کی یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ابوجہل کا خاندان مسلمان ہو گیا تو حضرت علیؓ نے اس کی بیٹی سے (جس کا نام کسی نے جویریہ، کسی نے غورا اور کسی نے جمیلہ بیان کیا ہے) نکاح کرنا چاہا۔ لڑکی کے خاندان والوں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کی بیٹی پر بیٹی نہ دیں گے جب تک آپﷺ سے پوچھ نہ لیں۔ چنانچہ انھوں نے اس کا ذکر حضور اکرمﷺ سے کیا۔ ایک روایت کی رُو سے خود حضرت علی المرتضیٰؓ نے بھی اشارتاً کنایتاً حضور اکرمﷺ سے اجازت طلب کی۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے بھی ان باتوں کا چرچا سن لیا اور جا کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں عرض کیا کہ آپﷺ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپﷺ کو اپنی بیٹیوں کی پروا نہیں ہے۔ دیکھیے، یہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اب ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔‘‘ اس پر حضور ﷺ نے ایک خطبے میں فرمایا:
إِنَّ بَنِی هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِی أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِی بْنَ أَبِی طَالِبٍ فَلَا آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِی وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّمَا ابْنَتِی بَضْعَةٌ مِنِّی يَرِيْبُنِی مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِی مَا آذَاهَا۔
ترجمہ: بنی ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی سیدنا علیؓ بن ابی طالب کے نکاح میں دیں۔ میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، الا یہ کہ ابو طالب کا بیٹا میری لڑکی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح کر لے۔ میری لڑکی میرا ٹکڑا ہے۔ جو کچھ اسے ناگوار ہو گا وہ مجھے ناگوار ہو گا، اور جو چیز اسے تکلیف دے گی وہ مجھے تکلیف دے گی۔
وَإِنِّی لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللّٰهِ أَبَدًا۔
ترجمہ: میں حلال کو حرام اور حرام کوحلال نہیں کرتا، مگر خدا کی قسم، اللہ کے رسولﷺ کی بیٹی اور اللہ کے رسولﷺ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔‘‘
(وفی روایۃ) إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّی وَإِنِّی أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِی دِينِهَا
ترجمہ: ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں اپنے دین کے معاملے میں فتنے میں نہ پڑ جائے۔‘‘
اس واقعے پر آدمی کو یہ شبہہ لاحق ہو سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے خود بھی بہت سی شادیاں کیں اور عام لوگوں کو بھی چار تک بیویاں بیک وقت رکھنے کی اجازت دی۔ مگر خود اپنی بیٹی پر ایک سوکن کا آنا بھی آپﷺ نے گوارا نہ کیا۔ سوکن کے آنے سے جو اذیت آپﷺ کی بیٹی کو، اور بیٹی کی خاطر خود آپﷺ کو ہو سکتی تھی، وہی اذیت دوسری عورتوں اور ان کے ماں باپ کو بھی تو لاحق ہوتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپﷺ نے اپنے حق میں تو اسے برداشت نہ کیا اور دوسروں کے حق میں اسے جائز رکھا۔
بظاہر یہ ایک سخت اعتراض ہے اور معاملے کی سادہ صورت دیکھ کر آدمی بڑی اُلجھن میں پڑ جاتا ہے۔ لیکن تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس کی حقیقت سمجھ میں آ جاتی ہے۔ یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ ایک عورت کا شوہر اگر دوسری بیوی لے آئے تو اس عورت کو فطرتاً یہ ناگوار ہوتا ہے اور اس کے ماں، باپ، بھائی، بہن اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس سے اذیت ہوتی ہے۔شریعت نے ایک سے زیادہ نکاحوں کی اجازت اس مفروضے پر نہیں دی ہے کہ یہ چیز اس عورت کو اور اس کے رشتے داروں کو ناگوار نہیں ہوتی جس پر سوکن آئے۔ بلکہ اس امرِ واقعہ کو جانتے ہوئے شریعت نے اسے اس لیے حلال کیا ہے کہ دوسری اہم تر اور معاشرتی مصلحتیں اس کو جائز کرنے کی متقاضی ہیں۔ شریعت یہ بھی جانتی ہے کہ سوکنیں بہرحال سہیلیاں اور شوہر شریک بہنیں بن کر نہیں رہ سکتیں۔ ان کے درمیان کچھ نہ کچھ کش مکش اور چپقلش ضرور ہو گی اور خانگی زندگی تلخیوں سے محفوظ نہ رہ سکے گی۔ لیکن یہ انفرادی قباحتیں اس عظیم تر اجتماعی قباحت سے کم تر ہیں جو یک زوجی کو بطورِ قانون لازم کرنے سے پورے معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔اسی وجہ سے شریعت نے تعدد ازواج کو حلال قرار دیا ہے۔
صفحہ 1 از 5