نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے…

نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کی علی ابن ابی طالب کو ممانعت

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 5
اب دیکھیے کہ رسول اللہﷺ کے معاملے میں کیا پیچیدگی واقع ہوتی ہے۔ شرعاً آپﷺ کی بیٹی پر بھی سوکن لانا آپﷺ کے داماد کے لیے حلال تھا۔ اسی لیے حضرت علی المرتضیٰؓ نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا۔ اور اسی وجہ سے حضور اکرمﷺ نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لیے یہ فعل حرام ہے۔ بلکہ آپﷺ نے خود تصریح فرمائی کہ میں حلال کو حرام نہیں کرتا۔ لیکن یہاں حضور اقدسﷺ کی ایک ہی شخصیت میں دو مختلف حیثیتیں جمع تھیں۔ ایک حیثیت میں آپﷺ انسان تھے اور فطرتاً یہ ممکن نہ تھا کہ آپﷺ کی صاحب زادی کے گھر میں سوکن آنے سے جو تلخی پیدا ہو، اس کا تھوڑا یا بہت اثر آپﷺ کی طبیعت پر نہ پڑے۔ دوسری حیثیت میں آپﷺ اللہ کے رسول تھے، اور رسول کی حیثیت سے آپﷺ کا مقام یہ تھا کہ آپﷺ کے ساتھ اگر کسی شخص کے تعلقات خراب ہو جائیں اور کوئی شخص آپ کے لیے موجب اذیت ہو جائے تو اس کے دین و ایمان کی بھی خیر نہ تھی۔ اسی وجہ سے حضور اقدسﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اور بنی ہشام بن مغیرہ کو بھی اس کام سے روک دیا۔ کیونکہ اگرچہ شرعاً یہ حلال تھا مگر اس کے کرنے سے یہ اندیشہ تھا کہ یہ چیز حضرت علیؓ ؓ اور ان کی دوسری بیوی اور اس کے خاندان والوں کے ایمان اور ان کی عاقبت کو خطرے میں ڈال دے گی۔
ایک اور بات جس کا حضور اکرمﷺ نے اپنے خطبے میں ذکر فرمایا، وہ یہ تھی کہ بنی ہشام بن مغیرہ اسلام اور رسول اللہﷺ کے بدترین دشمن رہ چکے تھے اور فتح مکہ کے بعد تازہ تازہ مسلمان ہوئے تھے۔ خود اس لڑکی کے باپ ابوجہل کے متعلق تو سب کو معلوم ہے کہ حضورﷺ کی دشمنی میں وہ تمام کفار سے بازی لے گیا تھا۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ جنگِ بدر میں وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا خاندان برسوں اس کے جذبۂ انتقام میں تڑپتا رہا۔ اب اگرچہ یہ لوگ اسلام قبول کر چکے تھے، لیکن یہ تحقیق ہونا ابھی باقی تھا کہ یہ قبولِ اسلام واقعی پورے اخلاص اور قلوب کی مکمل تبدیلی کا ثمرہ ہے یا محض شکست کا نتیجہ۔ اس حالت میں اس خاندان کی لڑکی، اور وہ بھی خاص ابوجہل کی بیٹی کا اس گھر میں سوکن بن کر پہنچ جانا، جہاں رسول اللہﷺ کی صاحب زادی ملکۂ اہلِ بیتؓ تھیں ،بڑے فتنوں کا سبب بن سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تالیفِ قلب تو کی جا سکتی تھی اور کی بھی گئی، لیکن اسلام کے ساتھ ان کے تعلق کا حال جب تک ٹھیک ٹھیک معلوم نہ ہو جائے،انھیں عین خاندان رسالت میں گھسا لانا اور خود رسول اکرمﷺ کی صاحب زادی کے بالمقابل لاکھڑا کرنا سخت نامناسب اور پُرخطر تھا۔ اس وجہ سے بھی حضور اکرمﷺ نے اس رشتے کو ناپسند کیا اور علی الاعلان کہا کہ خدا کے رسولﷺ کی بیٹی اور خدا کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ نیز اس بات کی طرف بھی آپﷺ نے اشارہ فرما دیا کہ اس سے سیدہ فاطمہؓ کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص کو اپنے بیاہ شادی کے معاملے میں (اگرچہ وہ بجائے خود حلال ہی سہی) ایسی آزادی نہیں دی جا سکتی جس سے ایک پوری ملت کے لیے فتنہ و شر کا خطرہ پیدا ہو جائے۔
بے شک یہاں یہ اعتراض اٹھ سکتا ہے کہ ابوجہل کے خاندان سے ابوسفیان کا خاندان اسلام کی عداوت میں کچھ کم نہ تھا، پھر اگر ابوجہل کے خاندان کی لڑکی کا خانوادۂ رسالت میں آنا موجبِ فتنہ ہو سکتا تھا تو ابو سفیان کی صاحب زادی (حضرت اُمِ حبیبہؓ) کا خود نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ میں شامل ہو جانا کیوں خطرے سے خالی تھا؟ لیکن دونوں کے حالات کا فرق نگاہ میں ہو تو یہ اعتراض آپنے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابوجہل کی لڑکی اور اُم المؤمنین سیدہ اُمِ حبیبہؓ کا سرے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ابوجہل کی لڑکی اور اس کے چچا اور بھائی، سب کے سب فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے۔ ان کے بارے میں یہ امتحان ہونا ابھی باقی تھا کہ ان کا ایمان کس حد تک اخلاص پر مبنی ہے اور کہاں تک اس میں شکست خوردگی کا اثر ہے۔ بخلاف اس کے حضرت اُمِ حبیبہ رضی اللہ عنہا اس بڑے سے بڑے امتحان سے گزر کر، جو اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بھی کم ہی کسی کو پیش آیا تھا، اپنے کمالِ اخلاص اور اپنی صداقتِ ایمانی کا پورا ثبوت دے چکی تھیں۔ انھوں نے دین کی خاطر وہ قربانیاں کی تھیں جن کی نظیر مشکل ہی سے کہیں اور نظر آ سکتی ہے۔
صفحہ 2 از 5