نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے…

نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کی علی ابن ابی طالب کو ممانعت

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 5
توخز مطابقة الترجمة من كون فاطمۃ ما كانت ترضیٰ بذالك، فكان الشقاق بينهما وبين على متوقعاً فاراد رضى الله عنه دفع وقوعه
(شرح كرماني: جلد، 19 صفحہ، 156)
”امام بخاریؒ کا اس باب میں اس حدیث کو نقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس نکاح پر راضی نہ تھیں، اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نکاح کر لیتے تو دونوں کے مابین شقاق اور اختلافات کا خدشہ پیدا ہوتا، لہٰذا نبی کریمﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو نکاح سے روک کر دونوں کے درمیان واقع ہونے والے شقاق و اختلاف کو روک دیا ہے۔“
امام کرمانی رحمۃ اللہ کی وضاحت سے مناسبت کا واضح پہلو اجاگر ہوتا ہے آپ کا مقصد یہ تھا کہ اگر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس عورت سے نکاح کر لیتے تو سیدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا اور ان کے درمیان شدید اختلافات نمودار ہو جاتے، لہٰذا اس اختلافات کی وجہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ نے تحت الباب اس حدیث کو نقل فرمایا ہے، امام کرمانی کی تطبیق پر حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: 
وهی مناسبة جيدة   (فتح الباری لابنِ حجر: جلد، 90 صفحہ، 345)
ترجمہ: ”یہ ایک بہترین مناسبت ہے۔“
ابنِ التین میں ترجمۃ الباب پر اعتراض فرمایا ہے کہ ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت موجود نہیں ہے، چنانچہ اس اعتراض کو دور کرتے ہوئے حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ جواب دیتے ہیں کہ: 
واعترضه ابن التين بأنه ليس فيه دلالة على ترجم به، ونقل ابن بطال قبله عن المهلب قال: انما حاول البخاری يايراده ان يجعل قول النبى صلى الله عليه وسلم فلا اذن  
(فتح الباری لابنِ حجر: جلد، 10 صفحہ، 340)
ترجمہ: ”ابن التین نے ترجمۃ الباب پر یہ کہا کہ حدیث سے اس کی کوئی دلالت موجود نہیں ہے، اس کو ابنِ بطال اور مہلب سے نقل کیا ہے کہ ابنِ مہلب نے فرمایا: امام بخاری رحمۃ اللہ نے اس ارادے سے اس حدیث کو پیش فرمایا ہے تحت الترجمۃ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے، ”میں اس کی اجازت نہیں دوں گا“۔ 
یعنی نبی کریمﷺ اس کی اجازت اسی وجہ سے نہیں دے رہے تھے کہ آپﷺ کو ان میاں بیوی میں ناچاکی اور نااتفاقی کا اندیشہ تھا، لہٰذا امام بخاری رحمۃ اللہ کا مقصود یہی ہے۔ 
ابن الملقن رحمۃ اللہ نے بھی یہی مناسب دی ہے۔ دیکھیے: 
(التوضيح لشرح الجامع الصحيح: جلید، 24 صفحہ، 327)
ابنِ المنیرؒ فرماتے ہیں کہ: 
”امام بخاریؒ کے استدلال کا احتمال (ترجمۃ الباب سے) اس حدیث پر ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا، فلا أذن لهم  پس یہ اشارہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے اس عورت سے شادی نہیں کر سکتے تھے۔“  (المتوری: صفحہ، 299)
دراصل وہ حدیث جس کا ذکر امام بخاریؒ نے تحت الباب فرمایا ہے اس حدیث کا ٹکڑا ہے جسے امام بخاریؒ نے کتاب النکاح میں درج کیا ہے، حدیث میں جو الفاظ ہیں وہ یہ ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع ہوں۔ 
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اب تطبیق میں مزید اضافہ ہوا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ناراضگی کا ڈر اس چیز پر منحصر نہیں تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوسرا نکاح کر رہے تھے کیونکہ اس دور میں آدمی کا دوسری یا تیسری شادی کرنا ایک عام رجحان تھا لیکن سیدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کی ناپسندیدگی کا اظہار اس عمل پر موقوف تھا کہ وہ لڑکی ابوجہل کی بیٹی تھی، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے دشمن کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے دوست کی بیٹی ایک آدمی کے نکاح میں کس طرح سے جمع ہو سکتی تھیں؟ 
یہی وجہ تھی نبی کریمﷺ کے انکار کی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ناراضگی کی۔
(عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری: جلد دوئم، حدیث، صفحہ، 105)   
مولانا عطاء اللہ ساجد حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ابنِ ماجہ، تحت الحديث: 1998  
غیرت کا بیان 
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ”ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے“۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) 
(سنن ابنِ ماجہ، كتاب النكاح: حدیث، 1998)
اردو حاشہ: 
فوائدومسائل: 
1: نبی اکرمﷺ کو کسی بھی انداز سے پریشان کرنا جائز نہیں، اگرچہ وہ کام اصل میں جائز ہی ہو لیکن رسول اللہﷺ کو کسی خاص وجہ سے ناگوار محسوس ہو رہا ہو۔ 
2: رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے سے اس لیے منع کیا کہ اس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف ہو گی، اس وجہ سے رسول اللہﷺ کا بھی دل دکھے گا۔ اور حضرت علی کو نبیﷺ کو پریشان کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی حاصل ہو گی۔ 
گویا اس ممانعت میں بھی سیدنا علیؓ پر شفقت ہے۔ 
3: منع کی دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا غیرت محسوس کریں گی جس کی وجہ سے شاید اپنے خاوند کے بارے میں محبت کے وہ جذبات قائم نہ رکھ سکیں جو مطلوب ہیں۔ اس طرح یہ رشتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک امتحان بن جائے گا۔ اور یہ کیفیت نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ 
4: اپنی اولاد کی تکلیف محسوس کرنا محبت اور شفقت کا ثبوت ہے۔ 
اس تکلیف کو دور کرنے کے لیے جائز حدود میں کوشش کرنا جائز ہے۔ 
(سنن ابنِ ماجہ شرح از مولانا عطاء اللہ ساجد: حدیث، صفحہ نمبر، 1998)   
الشيخ عمر فاروق سعيدی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ابی داؤد، تحت الحديث 2069  
ان عورتوں کا بیان جنہیں بیک وقت نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔ 
صفحہ 4 از 5