نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے…

نبی کریمﷺ کی طرف سے بنی ھشام ابن مغیرہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کی علی ابن ابی طالب کو ممانعت

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 5
علی بن حسین کا بیان ہے وہ لوگ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو ان سے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے تو میں نے ان سے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی تلوار دے سکتے ہیں؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ سے اسے چھین لیں گے، اللہ کی قسم! اگر آپ اسے مجھے دے دیں گے تو اس تک کوئی ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ میرے نفس تک نہ پہنچ جائے۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)
سنن ابی داؤد، كتاب النكاح: حدیث، 2069)
فوائد و مسائل: 
1: حضرت فاطمہ رضی اللہ کی اپنے گھر میں اذیت رسولﷺ کے باعث اذیت ہوتی جو حضرت علی رضی اللہ کے لیے ہلاکت کا باعث ہوتی۔ 
اس لیے انہیں بطورِ خاص اس رشتے سے منع کر دیا گیا اور یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رسول اللہﷺ کو کسی طرح سے بھی اذیت دینا حرام ہے خواہ وہ فعل اصل میں مباح ہی ہو۔ 
قرآن مجید میں ہے کہ:
وَمَا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰهِ ۞(سورۃ الأحزاب: آیت، 53)
ترجمہ: اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ۔ 
2: عترتِ رسولﷺ کو کسی طرح سے دکھ دینا اور ان کی ہتک کرنا، رسول اکرمﷺ کی ناراضی کا باعث ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو مستلزم ہے۔ 
مگر لازمی شرط ہے کہ آلِ رسولﷺ کہلانے والے اس کی شریعت کے حامل بھی ہوں۔ 
3: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اقدسﷺ کی محبوب ترین صاحبزادی تھیں اور وہ اس امت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ 
4: جائز ہے کہ انسان اپنی بیٹی کی وجہ سے غیرت اور غصے میں آئے لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو رسول اللہﷺ اور حضرت فاطمہؓ پر قیاس کرنے لگے تو یہ ایک لغو قیاس ہے۔ 
5: صاحبِ فضل داماد کی مدح و توصیف کی جا سکتی ہے۔ 
(سنن ابی داؤد شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی: حدیث، صفحہ نمبر، 2069)

صفحہ 5 از 5