Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شہوت کو کنٹرول کرنے کے لیے روزے کی ترغیب

  علی محمد الصلابی

جب انسان کسی سبب سے نان و نفقہ کی قدرت نہ رکھتا ہو اور اسی بناء پر شادی نہ کرسکے تو اسے چاہیے کہ روزے رکھ کر شہوت کو بے قابو ہونے سے بچائے، اس لیے کہ روزے شہوت کو کنٹرول میں رکھتے ہیں، اس سلسلے میں امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ علیہا نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَ أَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَہٗ وجاء۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 400)

’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کرے، بلاشبہ شادی نگاہوں کو پست کرنے والی اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے، بلاشبہ روزہ شہوت کو توڑنے والی چیز ہے۔‘‘

یعنی روزہ شہوت کے غلبے کو ختم کر دیتا ہے، اور اسی طرح ان غذاؤں کو کم کرنا ہے، جو شہوت کو ابھارنے والی ہوتی ہیں تاکہ اس کی شدت کم ہو جائے۔ جب انسان ان سے بچاؤ کی تدبیروں کا حریص نہیں ہوگا اور ان پر عمل پیرا نہیں ہوگا اور دل انحراف کے لیے تیار ہو گا تو شہوت کے زہریلے تیر اس میں ضرور پیوست ہو جائیں گے، دل اپنی اس بیماری میں بڑھتا ہی جائے گا، شہوت روز بروز غالب ہوتی چلی جائے گی، پھر انسان برائی کے دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔

(أمراض النفس: صفحہ 126)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا یہ قول

کَانَ خَارِجًا مِنْ سُلْطَانِ فَرْجِہِ فَلَا یَسْتَخِفُّ لَہُ عَقْلَہُ وَ لَا رَأْیَہُ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’اپنی شرمگاہ کا غلام نہیں تھا، چنانچہ اس کے پیچھے اپنی عقل و رائے کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔‘‘

شرمگاہ کی شہوت کو قابو میں رکھنے کی صریح دعوت ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

کَانَ إِذَا جَامَعَ الْعُلَمَأَ یَکُوْنُ عَلَی أَنْ یَسْمَعَ أَحْرَصَ مِنْہُ أَنْ یَّتَکَلَّمَ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’علماء کی مجلس میں بولنے سے زیادہ سننے کا حریص ہوتا۔‘‘

اس قول میں علماء کے عزت و احترام اور ان سے استفادہ کا تذکرہ ہے، چنانچہ ان کی عزت اور ان کا احترام مسنون ہے، فرمان نبویﷺ ہے:

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ یُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَ یَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُعَرِّفْ لِعَالِمِنَا حَقَّہَ۔

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 1986، صحیح ابن حبان: حدیث نمبر 1913)

’’وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا، بڑوں کی عزت نہیں کرتا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام نہیں دیتا، اور عالم کا حق نہیں پہچانتا۔‘‘

سلف صالحین علماء کا بڑا ادب و احترام کرتے تھے، مجلس میں عالم کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے، کس طرح گفتگو کی جائے، اس سلسلے میں اہل علم نے کافی گفتگو کی ہے، جو بالتفصیل ’’آداب العالم و المتعلم‘‘ پر مشتمل کتابوں میں موجود ہے۔

اس سلسلے میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اقوال نہایت جامع ہیں ان کا قول ہے:

’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس سے زیادہ سوال نہ کرو، نہ لاجواب کرنے کی کوشش کرو، جواب نہ دینا چاہے تو اس پر اصرار نہ کرو، اٹھنا چاہے تو اس کا کپڑا نہ کھینچو، اس کا کوئی راز فاش نہ کرو، اس کے پاس کسی کی غیبت نہ کرو، اس سے کوئی چوک ہوجائے تواس کا عذر قبول کرو، جب تک وہ اللہ کے اوامر کو بجا لاتا ہو اللہ کے واسطے اس کی توقیر و تعظیم کرو، اس کے سامنے برابری میں نہ بیٹھو، ضرورت پڑنے پر لوگ اس کی خدمت کریں۔‘‘

(جامع بیان العلم و فضلہ: جلد 1 صفحہ 129)

انھی کا قول ہے:

’’عالم کا حق ہے کہ جب تم اس کے پاس آؤ تو اسے خصوصی اور لوگوں کو عمومی طور پر سلام کرو، اس کے آگے کی طرف بیٹھو، ہاتھوں اور آنکھوں کے اشاروں سے بچو، یہ نہ کہو کہ فلاں کا قول، آپ کے قول کے خلاف ہے، اس کا کپڑا نہ کھینچو، سوال کرنے میں اصرار نہ کرو، بلاشبہ وہ رطب کھجور کے درخت کی طرح ہے جس سے کچھ نہ کچھ تمھیں ملتا رہتا ہے۔‘‘

(جامع بیان العلم و فضلہ: جلد 1 صفحہ 146)

عبدالرحمٰن بن مہدی رحمۃاللہ کا قول ہے

’’جب کوئی عالم اپنے سے بڑے عالم کو پاتا ہے تو وہ اس کے لیے غنیمت کا دن ہوتا ہے، اس سے پوچھتا ہے، علم حاصل کرتا ہے، جب اپنے سے چھوٹے عالم کو پاتا ہے تو اس کو علم سکھاتا ہے، اس کے سامنے تواضع و خاکساری کا اظہار کرتا ہے اور جب اپنے ہمسر عالم سے ملتا ہے تو اس سے مختلف موضوعات پر مباحثہ و مناقشہ کرتا ہے۔‘‘ 

(المحدث الفاصل للرامہرمزی: صفحہ 206، قواعد فی التعامل مع العلماء: عبدالرحمٰن بن معلا اللویحق: صفحہ 86)

اہل علم سے طلبِ علم اور استفادہ، ان کی باتوں کو سننے، ان کا احترام کرنے کی سلف صالحین نے بہترین مثالیں قائم کی ہیں، اس کے شاہد وہ واقعات ہیں جنھیں خطیب بغدادیؒ وغیرہ نے اس سلسلے میں نقل کیا ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

کَانَ أَکْثَرَ دَہْرِہِ صَامِتًا فَإِذَا قَالَ بَذَّ الْقَائِلِیْنَ، کَانَ لَا یُشَارِکُ فِی دَعْوَی وَ لَا یَدْخُلُ فِی مِرَائٍ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’اکثر اوقات خاموش رہتا، جب بولتا تو بولنے والوں پر فوقیت لے جاتا، کسی دعوے اور جھگڑے میں دخل اندازی نہ کرتا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے اس قول کے ذریعہ سے جھگڑے سے بچنے اور کم گفتگو کی دعوت دے رہے ہیں، فرمان نبویﷺ ہے:

إِذَا أَصْبَحَ الْعَبْدُ فَإِنَّ الْأَعْضَائَ کُلَّہَا تُکَفِّرُ اللِّسَانَ، تَقُوْلُ: اِتَّقِ اللّٰہَ فِیْنَا، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِکَ فَإِذَا اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَ إِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا۔

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2407، حسنہ اللالبانی فی الصحیح الجامع: جلد 1 صفحہ 5136)

’’جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے جسم کے تمام اعضاء زبان سے نہایت عاجزی سے عرض کرتے ہیں، کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ اس لیے کہ ہمارا معاملہ تیرے ساتھ وابستہ ہے اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اگر تو ٹیڑھی ہوئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔‘‘

سلف صالحین اپنی گفتگو کے سلسلے میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا کرتے تھے، اس لیے کہ زبان دیگر اعضاء کے بالمقابل زیادہ آسانی سے چلنے والی ہے اور بندے کے حق میں زیادہ مضر بھی ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زبان کو پکڑ کر کہا کرتے تھے:

ہٰذَا أَوْرَدَنِیَ الْمَوَارِدَ۔

(جہاد النفس: صفحہ 76 )

’’اس نے مجھے کئی گھاٹ کا پانی پلایا۔‘‘

گفتگو تمھاری قید میں ہوتی ہے، تمھارے منہ سے نکل جانے کے بعد تم اس کے قیدی ہوجاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر بولنے والے کی زبان سے باخبر ہے۔

فرمان الہٰی ہے:

مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ ۞ (سورۃ ق آیت 18)

ترجمہ: انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔

زبان کی دو عظیم آفتیں ہیں، انسان اگر ایک سے بچ جاتا ہے تو دوسری سے نہیں بچتا، گفتگو کی آفت، خاموشی کی آفت، اپنے اپنے وقت میں دونوں میں سے ہر ایک بہت بڑے گناہ کا باعث ہوتی ہیں، واضح رہے کہ حق بات پر چپ رہنے والا گونگا شیطان ہے، اللہ کا نافرمان، ریاکار اور حق کو چھپانے والا ہے، باطل گفتگو کرنے والا، بولنے والا شیطان ہے، اللہ کا نافرمان ہے۔ اکثر لوگ اپنی گفتگو اور خاموشی میں منحرف ہوتے ہیں، وہ انھی مذکورہ دو قسموں میں سے ہوتے ہیں، بیچ والی قسم کے لوگ جو صراط مستقیم والے ہیں غلط باتوں سے اپنی زبانوں کو بچاتے ہیں، آخرت میں نفع بخش باتوں میں انھیں استعمال کرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایسی بات نہیں کرتا جو بے مقصد ہو، چہ جائیکہ وہ آخرت میں مضر ہو، بندہ قیامت کے دن پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئے گا، لیکن اسے پتہ چلے گا کہ اس کی زبان نے ان تمام نیکیوں کو برباد کر دیا ہے، اور پہاڑوں کے برابر برائیاں لے کر آئے گا، لیکن اسے پتہ چلے گا کہ اس کی زبان نے ذکر الہٰی اور اس کے متعلقات میں مشغول ہونے کے باعث ان برائیوں کو ختم کردیا ہے۔

(الداء و الدواء لابن القیم: صفحہ 379)

نہ گفتگو کا مطلقاً حکم دیا گیا ہے نہ ہی خاموشی کا، بلکہ بھلی گفتگو کرنا اور بری گفتگو سے بچنا ضروری ہے، لوگ عموماً لایعنی اور بری باتیں کرتے ہیں اور ان پر خاموشی چوں کہ مشکل ہوتی ہے، اس لیے سلف اکثر و بیشتر اس خاموشی کی تعریف کرتے تھے اور اپنے آپ کو لایعنی باتیں نہ کرنے کا عادی بناتے تھے۔

(جہاد النفس: صفحہ 77)

فضیل بن عیاض رحمۃاللہ کا قول ہے

’’حج، سرحدوں کی حفاظت، جہاد، ان میں سے کوئی بھی زبان کو کنٹرول کرنے سے زیادہ مشکل نہیں، اگر تم اپنی زبان کے تابع ہوگئے تو تمھیں شدید غم لاحق ہوگا۔‘‘

انھی کا قول ہے:

’’زبان کی پابندی مومن کی پابندی ہے، اگر تم اپنی زبان کے تابع ہوگئے تو تمھیں شدید غم لاحق ہوگا۔‘‘

(جامع العلوم و الحکم: صفحہ 162)