شہوت کو کنٹرول کرنے کے لیے روزے کی ترغیب - دفاعِ اہلِ سنت |…

شہوت کو کنٹرول کرنے کے لیے روزے کی ترغیب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

جب انسان کسی سبب سے نان و نفقہ کی قدرت نہ رکھتا ہو اور اسی بناء پر شادی نہ کرسکے تو اسے چاہیے کہ روزے رکھ کر شہوت کو بے قابو ہونے سے بچائے، اس لیے کہ روزے شہوت کو کنٹرول میں رکھتے ہیں، اس سلسلے میں امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ علیہا نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَ أَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَہٗ وجاء۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 400)

’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کرے، بلاشبہ شادی نگاہوں کو پست کرنے والی اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے، بلاشبہ روزہ شہوت کو توڑنے والی چیز ہے۔‘‘

یعنی روزہ شہوت کے غلبے کو ختم کر دیتا ہے، اور اسی طرح ان غذاؤں کو کم کرنا ہے، جو شہوت کو ابھارنے والی ہوتی ہیں تاکہ اس کی شدت کم ہو جائے۔ جب انسان ان سے بچاؤ کی تدبیروں کا حریص نہیں ہوگا اور ان پر عمل پیرا نہیں ہوگا اور دل انحراف کے لیے تیار ہو گا تو شہوت کے زہریلے تیر اس میں ضرور پیوست ہو جائیں گے، دل اپنی اس بیماری میں بڑھتا ہی جائے گا، شہوت روز بروز غالب ہوتی چلی جائے گی، پھر انسان برائی کے دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔

(أمراض النفس: صفحہ 126)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا یہ قول

کَانَ خَارِجًا مِنْ سُلْطَانِ فَرْجِہِ فَلَا یَسْتَخِفُّ لَہُ عَقْلَہُ وَ لَا رَأْیَہُ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’اپنی شرمگاہ کا غلام نہیں تھا، چنانچہ اس کے پیچھے اپنی عقل و رائے کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔‘‘

شرمگاہ کی شہوت کو قابو میں رکھنے کی صریح دعوت ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

کَانَ إِذَا جَامَعَ الْعُلَمَأَ یَکُوْنُ عَلَی أَنْ یَسْمَعَ أَحْرَصَ مِنْہُ أَنْ یَّتَکَلَّمَ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’علماء کی مجلس میں بولنے سے زیادہ سننے کا حریص ہوتا۔‘‘

اس قول میں علماء کے عزت و احترام اور ان سے استفادہ کا تذکرہ ہے، چنانچہ ان کی عزت اور ان کا احترام مسنون ہے، فرمان نبویﷺ ہے:

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ یُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَ یَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُعَرِّفْ لِعَالِمِنَا حَقَّہَ۔

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 1986، صحیح ابن حبان: حدیث نمبر 1913)

’’وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا، بڑوں کی عزت نہیں کرتا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام نہیں دیتا، اور عالم کا حق نہیں پہچانتا۔‘‘

سلف صالحین علماء کا بڑا ادب و احترام کرتے تھے، مجلس میں عالم کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے، کس طرح گفتگو کی جائے، اس سلسلے میں اہل علم نے کافی گفتگو کی ہے، جو بالتفصیل ’’آداب العالم و المتعلم‘‘ پر مشتمل کتابوں میں موجود ہے۔

اس سلسلے میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اقوال نہایت جامع ہیں ان کا قول ہے:

’’عالم کا حق یہ ہے کہ اس سے زیادہ سوال نہ کرو، نہ لاجواب کرنے کی کوشش کرو، جواب نہ دینا چاہے تو اس پر اصرار نہ کرو، اٹھنا چاہے تو اس کا کپڑا نہ کھینچو، اس کا کوئی راز فاش نہ کرو، اس کے پاس کسی کی غیبت نہ کرو، اس سے کوئی چوک ہوجائے تواس کا عذر قبول کرو، جب تک وہ اللہ کے اوامر کو بجا لاتا ہو اللہ کے واسطے اس کی توقیر و تعظیم کرو، اس کے سامنے برابری میں نہ بیٹھو، ضرورت پڑنے پر لوگ اس کی خدمت کریں۔‘‘

(جامع بیان العلم و فضلہ: جلد 1 صفحہ 129)

انھی کا قول ہے:

’’عالم کا حق ہے کہ جب تم اس کے پاس آؤ تو اسے خصوصی اور لوگوں کو عمومی طور پر سلام کرو، اس کے آگے کی طرف بیٹھو، ہاتھوں اور آنکھوں کے اشاروں سے بچو، یہ نہ کہو کہ فلاں کا قول، آپ کے قول کے خلاف ہے، اس کا کپڑا نہ کھینچو، سوال کرنے میں اصرار نہ کرو، بلاشبہ وہ رطب کھجور کے درخت کی طرح ہے جس سے کچھ نہ کچھ تمھیں ملتا رہتا ہے۔‘‘

(جامع بیان العلم و فضلہ: جلد 1 صفحہ 146)

عبدالرحمٰن بن مہدی رحمۃاللہ کا قول ہے

’’جب کوئی عالم اپنے سے بڑے عالم کو پاتا ہے تو وہ اس کے لیے غنیمت کا دن ہوتا ہے، اس سے پوچھتا ہے، علم حاصل کرتا ہے، جب اپنے سے چھوٹے عالم کو پاتا ہے تو اس کو علم سکھاتا ہے، اس کے سامنے تواضع و خاکساری کا اظہار کرتا ہے اور جب اپنے ہمسر عالم سے ملتا ہے تو اس سے مختلف موضوعات پر مباحثہ و مناقشہ کرتا ہے۔‘‘ 

(المحدث الفاصل للرامہرمزی: صفحہ 206، قواعد فی التعامل مع العلماء: عبدالرحمٰن بن معلا اللویحق: صفحہ 86)

اہل علم سے طلبِ علم اور استفادہ، ان کی باتوں کو سننے، ان کا احترام کرنے کی سلف صالحین نے بہترین مثالیں قائم کی ہیں، اس کے شاہد وہ واقعات ہیں جنھیں خطیب بغدادیؒ وغیرہ نے اس سلسلے میں نقل کیا ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

کَانَ أَکْثَرَ دَہْرِہِ صَامِتًا فَإِذَا قَالَ بَذَّ الْقَائِلِیْنَ، کَانَ لَا یُشَارِکُ فِی دَعْوَی وَ لَا یَدْخُلُ فِی مِرَائٍ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’اکثر اوقات خاموش رہتا، جب بولتا تو بولنے والوں پر فوقیت لے جاتا، کسی دعوے اور جھگڑے میں دخل اندازی نہ کرتا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے اس قول کے ذریعہ سے جھگڑے سے بچنے اور کم گفتگو کی دعوت دے رہے ہیں، فرمان نبویﷺ ہے:

إِذَا أَصْبَحَ الْعَبْدُ فَإِنَّ الْأَعْضَائَ کُلَّہَا تُکَفِّرُ اللِّسَانَ، تَقُوْلُ: اِتَّقِ اللّٰہَ فِیْنَا، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِکَ فَإِذَا اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَ إِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا۔

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2407، حسنہ اللالبانی فی الصحیح الجامع: جلد 1 صفحہ 5136)

’’جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے جسم کے تمام اعضاء زبان سے نہایت عاجزی سے عرض کرتے ہیں، کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ اس لیے کہ ہمارا معاملہ تیرے ساتھ وابستہ ہے اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اگر تو ٹیڑھی ہوئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔‘‘

صفحہ 1 از 2