شہوت کو کنٹرول کرنے کے لیے روزے کی ترغیب - دفاعِ اہلِ سنت |…

شہوت کو کنٹرول کرنے کے لیے روزے کی ترغیب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سلف صالحین اپنی گفتگو کے سلسلے میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا کرتے تھے، اس لیے کہ زبان دیگر اعضاء کے بالمقابل زیادہ آسانی سے چلنے والی ہے اور بندے کے حق میں زیادہ مضر بھی ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زبان کو پکڑ کر کہا کرتے تھے:

ہٰذَا أَوْرَدَنِیَ الْمَوَارِدَ۔

(جہاد النفس: صفحہ 76 )

’’اس نے مجھے کئی گھاٹ کا پانی پلایا۔‘‘

گفتگو تمھاری قید میں ہوتی ہے، تمھارے منہ سے نکل جانے کے بعد تم اس کے قیدی ہوجاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر بولنے والے کی زبان سے باخبر ہے۔

فرمان الہٰی ہے:

مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ ۞ (سورۃ ق آیت 18)

ترجمہ: انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔

زبان کی دو عظیم آفتیں ہیں، انسان اگر ایک سے بچ جاتا ہے تو دوسری سے نہیں بچتا، گفتگو کی آفت، خاموشی کی آفت، اپنے اپنے وقت میں دونوں میں سے ہر ایک بہت بڑے گناہ کا باعث ہوتی ہیں، واضح رہے کہ حق بات پر چپ رہنے والا گونگا شیطان ہے، اللہ کا نافرمان، ریاکار اور حق کو چھپانے والا ہے، باطل گفتگو کرنے والا، بولنے والا شیطان ہے، اللہ کا نافرمان ہے۔ اکثر لوگ اپنی گفتگو اور خاموشی میں منحرف ہوتے ہیں، وہ انھی مذکورہ دو قسموں میں سے ہوتے ہیں، بیچ والی قسم کے لوگ جو صراط مستقیم والے ہیں غلط باتوں سے اپنی زبانوں کو بچاتے ہیں، آخرت میں نفع بخش باتوں میں انھیں استعمال کرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایسی بات نہیں کرتا جو بے مقصد ہو، چہ جائیکہ وہ آخرت میں مضر ہو، بندہ قیامت کے دن پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئے گا، لیکن اسے پتہ چلے گا کہ اس کی زبان نے ان تمام نیکیوں کو برباد کر دیا ہے، اور پہاڑوں کے برابر برائیاں لے کر آئے گا، لیکن اسے پتہ چلے گا کہ اس کی زبان نے ذکر الہٰی اور اس کے متعلقات میں مشغول ہونے کے باعث ان برائیوں کو ختم کردیا ہے۔

(الداء و الدواء لابن القیم: صفحہ 379)

نہ گفتگو کا مطلقاً حکم دیا گیا ہے نہ ہی خاموشی کا، بلکہ بھلی گفتگو کرنا اور بری گفتگو سے بچنا ضروری ہے، لوگ عموماً لایعنی اور بری باتیں کرتے ہیں اور ان پر خاموشی چوں کہ مشکل ہوتی ہے، اس لیے سلف اکثر و بیشتر اس خاموشی کی تعریف کرتے تھے اور اپنے آپ کو لایعنی باتیں نہ کرنے کا عادی بناتے تھے۔

(جہاد النفس: صفحہ 77)

فضیل بن عیاض رحمۃاللہ کا قول ہے

’’حج، سرحدوں کی حفاظت، جہاد، ان میں سے کوئی بھی زبان کو کنٹرول کرنے سے زیادہ مشکل نہیں، اگر تم اپنی زبان کے تابع ہوگئے تو تمھیں شدید غم لاحق ہوگا۔‘‘

انھی کا قول ہے:

’’زبان کی پابندی مومن کی پابندی ہے، اگر تم اپنی زبان کے تابع ہوگئے تو تمھیں شدید غم لاحق ہوگا۔‘‘

(جامع العلوم و الحکم: صفحہ 162)


صفحہ 2 از 2