سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے دور خلافت کی بعض اہم شخصیات
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کے حالات پُر پیچ اور سخت تھے، اس لیے کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جاری تھی، انھی حالات میں اہل کوفہ نے 40ھ میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کی بیعت کی، بنا بریں حسن رضی اللہ عنہ کے پاس اداری تبدیلیوں اور گورنروں کے تبادلوں کے لیے کافی وقت نہیں تھا، کوفہ کو چھوڑ کر اور جگہوں میں اپنے والد کے مقرر کردہ گورنروں کو باقی رکھا، کوفہ کا گورنر اس کے سابق گورنر ہانی بن نخعی کے بدلے مغیرہ بن نوفل کو مقرر کیا۔
(تاریخ خلیفۃ بن خیاط نقلا عن الحسن بن علی: فتیخان: صفحہ 85، التبیین فی أنساب القرشیین: صفحہ 80، 81)
سعد بن مسعود ثقفی مدائن کے گورنر باقی رہے۔
(أنساب الاشراف: جلد 5 صفحہ 214، نھایۃ الأرب: جلد 2 صفحہ 266)
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی جانب سے وہی اس شہر کے گورنر تھے۔
(التاریخ الکبیر: للبخاری: جلد 4 صفحہ 50)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے انھیں اپنی خلافت میں باقی رکھا، اور ان کی خلافت کے آخری وقت تک گورنر رہے، بعض روایتوں کے مطابق عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما خلیفۂ راشد علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی جانب سے بصرہ کے گورنر تھے، اور وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مصالحت تک اس کے گورنر رہے، پھر سیاست چھوڑ کر تعلیم و تعلّم کی غرض سے مکہ کا رخ کیا۔
(الحلۃ السیراء للقضاعی نقلاً عن الحسن بن علی: فتیخان: صفحہ 8)
فارس کے گورنر زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے،
(الحسن بن علی: صفحہ 86)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں فارس کچھ باغیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے بھیجا تھا، اس میں انھیں کامیابی ملی اور ان کا خاتمہ کرنے میں کامیاب رہے۔
(الحسن بن علی: صفحہ 86)
پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بھی انھیں فارس کا گورنر مقرر کیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت ہونے تک گورنر رہے۔
(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 15، الحسن بن علی: صفحہ 86)
اسی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان موظفین کو باقی رکھا جو ان کے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے کام کر رہے تھے، چنانچہ عبید اللہ بن ابی رافع کو کاتب (محاضرۃ الأبرار لابن العربی: جلد 1 صفحہ 66، الحسن بن علی: صفحہ 87)، شریح بن حارث کو کوفہ کا قاضی (مختصر التاریخ لابن الکمازرونی: صفحہ 80، معقل بن قیس کو پولیس محکمہ کا ذمہ دار باقی رکھا۔
(نہایۃ الأرب: جلد 5 صفحہ 223)
سیدنا حسنؓ کے دور خلافت کی اہم شخصیت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سگے بھائی حسین بن علی رضی اللہ عنہما تھے، ان پر ایک مستقل کتاب ان شاء اللہ لکھوں گا، اسی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کی اہم شخصیات میں قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی، عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب ہاشمی، عبداللہ بن جعفر بن ابو طالب ہاشمی رضی اللہ عنہم تھے، آخر کی تین شخصیات کی سوانح درج ذیل ہے: