اولا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

اولا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

قیس بن سعد بن عبادہ کا نسب

قیس بن سعد بن عبادہ بن دُلیم بن حارثہ بن ابوخزیمہ بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ بن کعب۔

کنیت: ابوعبداللہ ہے۔ آپ امیر، مجاہد، خزرج کے سردار، ان کے سردار ابوثابت کے بیٹے، انصاری، خزرجی، ساعدی، صحابی رسول اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے تھے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 102)

قیس بن سعدؓ کا شمار صاحب فضیلت صحابہ، دور اندیش اور شریف عربوں میں ہوتا تھا، بہتر رائے والے، دلیر و بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ جنگی چالوں سے بخوبی واقف تھے، سردار گھرانے کے اور بلامقابل اپنی قوم کے سردار تھے۔

(أسد الغابۃ: جلد 4 صفحہ 450)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، انھی میں سے درج ذیل حدیثیں ہیں:

عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ کَانَ سَہْلُ بْنُ حُنِیْفٍ وَ قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَیْنِ بِالْقَادَسِیَّۃِ فَمَرَّتْ بِہِمَا جَنَازَۃٌ فَقَامَا فَقِیْلَ إِنَّمَا ہُوَ مِنْ أَہْلِ الْأَرْضِ فَقَالَا: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم مَرَّتْ بِہِ جَنَازَۃٌ، فَقَامَ، فَقِیْلَ: إِنَّمَا ہِیَ جَنَازَۃُ یَہُوْدِیٍّ، فَقَالَ: أَلَیْسَتْ نَفْسًا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 1312)

’’ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہتے ہیں: سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے، یہ دونوں کھڑے ہوگئے، عرض کیا گیا: جنازہ تو ذمیوں کا ہے، اس پر انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا، آپﷺ اس کے لیے کھڑے ہوگئے، پھر آپﷺ سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا، آپﷺ نے فرمایا: کیا یہودی کی جان نہیں ہے؟‘‘

اس حدیث میں انسان کی بحیثیت انسان تکریم ہے۔

وَ عَنْ أَبِیْ عَمَّارٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِیُّ صلي الله عليه وسلم أَنْ نَصُوْمَ عَاشُوْرَائَ قَبْلَ أَنْ یَّنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ لَمْ یَأْمُرْنَا وَ لَمْ یَنْہَنَا وَ نَحْنُ نَفْعَلُہُ

(مسند أحمد: جلد 3 صفحہ 422)

’’ابوعمار قیس بن سعدؓ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے کہا: رمضان کے روزوں کی مشروعیت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، رمضان کے روزوں کی مشروعیت کے بعد نہ آپﷺ ہمیں حکم دیتے، نہ منع کرتے اور ہم اس روزے کو رکھا کرتے تھے۔‘‘

وَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرَحْبِیْلٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم فَوَضَعْنَا لَہُ مَائً فَأَغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَیْنَاہُ بِمِلْحَفَۃٍ وَرْسِیَّۃٍ، فَالْتَحَفَ بِہَا فَکَأَنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَی عُکَنِہِ

(تاریخ دمشق: جلد 52 صفحہ 271)

’’محمد بن شرحبیل قیس بن سعد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نے آپﷺ کے لیے پانی رکھا، آپﷺ نے غسل کیا، پھر ہم نے آپﷺ کو ورس سے رنگی ہوئی چادر دی، آپﷺ نے اسے اوڑھ لیا، آپﷺ کے پیٹ کی تہ پر میں ورس کا اثر دیکھ رہا تھا۔‘‘

آپﷺ سے انس، ثعلبہ بن ابومالک، ابومیسرہ، عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ، عروہ، (الإصابۃ: جلد 5 صفحہ 361)

عبداللہ بن مالک جیشانی، ابوعمار ہمدانی، میمون بن ابوشبیب، عریب بن حمید ہمدانی، ولید بن عبدہ اور دوسرے لوگوں نے حدیثیں روایت کی ہیں۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 102)

قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے کوفہ، شام اور مصر میں حدیثیں بیان کیں، 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 102)

وہ بھاری بھرکم، خوبصورت اور اتنے لمبے تھے کہ جب گدھے پر سوار ہوتے تو آپ کے پاؤں زمین پر پہنچتے تھے۔

(الإصابۃ: جلد 5 صفحہ 360)

آپ کی ماں آپ کے والد کے چچا کی بیٹی تھیں، ان کا نام فکیہہ بنت عبید بن ولیم ہے۔

(الإصابۃ: جلد 5 صفحہ 360)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آپ کی حیثیت ایسی ہی تھی جیسی کسی حاکم کے یہاں پولیس محکمہ کے ذمہ دار کی ہوتی ہے۔ بعض غزوات میں آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اٹھانے والے رہے۔ آپ نے انھیں صدقات جمع کرنے کا ذمہ دار بنایا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 354)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی جنگوں میں شریک ہوئے۔

(الإصابۃ: جلد 5 صفحہ 360 ،361)

بعض ایسی لڑائیوں میں بھی شریک رہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک نہیں تھے، ان میں سے بعض درج ذیل ہے: