قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب ایک خبر جو صحیح نہیں ہے
علی محمد الصلابیقیصر نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے پاس پیغام بھیجا کہ عربوں میں سے سب سے طویل شخص کا پاجامہ میرے پاس بھیج دو۔ انھوں نے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے خیال میں مجھے آپ کے پاجامے کی ضرورت ہے، چنانچہ ایک گوشے میں جا کر اپنا پاجامہ لے آئے، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، میرا مقصد یہ نہیں تھا، آپ گھر جا کر اسے میرے پاس بھیج سکتے تھے ۔ قیس رضی اللہ عنہ نے کہا:
أردت بہا کی یعلم الناس أنہا سراویل قیس و الوفود شہود
’’میرا مقصد ہے کہ لوگ جان جائیں کہ وہ قیس کا پاجامہ ہے، اور وفود حاضر رہیں۔‘‘
وألا یقولوا غاب قیس و ہذہ سراویل عادی نمتہ ثمود
’’اور یہ نہ کہیں کہ قیس غائب ہوگیا اور یہ قوم عاد کے کسی شخص کا پاجامہ ہے، جس کی حیثیت کو قوم ثمود نے بڑھایا ہے۔‘‘
و إنی من الحی الیمانی لسید و ما الناس إلا سید و مسود
’’اور میں بلاشبہ یمنی قبیلے کا سردار ہوں، اور لوگ یا تو سردار ہوتے ہیں یا دوسرے کی سرداری قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔‘‘
فکدہم بمثلی إن مثلی علیہم شدید و خلقی فی الرجال مدید
’’ان کے ساتھ میرے جیسے شخص کے ذریعہ سے چال چلو، بلاشبہ میں ان کے ساتھ سخت ہوں اور میرا قد لوگوں میں لمبا ہے۔‘‘
پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوج کے سب سے لمبے شخص کو حکم دیا، اس نے اس کو اپنی ناک پر رکھا تو زمین تک پہنچ گیا، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پاجامہ طلب کیا، آپ کے پاس لایا گیا، قیس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اپنے ان کپڑوں کو ہٹا دو، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
أما قریش فأقوام مسرولۃ و الیثربیون أصحاب التبابین
’’قریش والے پاجامہ پہننے والے ہیں اور مدینہ والے تو نیکر والے ہیں۔‘‘
قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
تلک الیہود التی یعنی ببلدتنا کما قریش ہم اہل السخاخین
( تاریخ دمشق:جلد 12 صفحہ 293، 295)
’’وہ یہود جو ہمارے شہر میں ہیں قریش کے مانند ہیں جو قصابوں کی چھریوں والے ہیں۔‘‘
دوسری روایت میں ہے کہ قیصر نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: میں آپ کے پاس دو آدمیوں کو بھیج رہا ہوں، ان میں سے ایک میرے ملک کا سب سے طاقتور آدمی ہے، دوسرا سب سے لمبا ہے، اس طرح کے مقابلے بادشاہوں میں چلتے رہتے تھے، اپنی حکومت سے ان میں سے ہر ایک کا مدمقابل پیش کرو، اگر تمھارے لوگ غالب آ گئے تو میں تمھارے پاس مال اور اتنے اتنے مسلمان قیدی بھیج دوں گا، اور اگر ہمارے لوگ غالب آ گئے تو میرے تین سال آرام اور آسانی سے گزریں گے، جب قیصر کا خط سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملا تو اس کو اہم سمجھتے ہوئے اپنے لوگوں سے مشورہ کیا، جواباً کہا گیا: طاقتور کے مقابلے کے لیے یا تو محمد بن حنفیہ کو بلایے یا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو، محمد بن حنفیہ کو بلایا جب کہ رومی طاقتور موجود تھے، ان کو بلانے کا مقصد بتایا، محمد نے اس رومی سے پوچھا: تو کیا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: ہم میں سے ہر ایک بیٹھے اور دوسرے کو اپنا ہاتھ دے دے، جو دوسرے کو اپنی جگہ سے ہٹا دے یا اٹھا دے وہ کامیاب ہوگا، اور جو عاجز رہے اور اس کے ساتھی نے اس کو مجبور کردیا ہو تو وہ مغلوب ہوگا۔ محمد نے کہا: تمھاری یہ بات منظور ہے، تمھی بتاؤ کون پہلے بیٹھے؟ اس نے کہا: تمھی بیٹھو، چنانچہ آپ بیٹھے اور اپنا ہاتھ اسے دے دیا، وہ پوری کوشش کرنے لگا کہ آپ کو اپنی جگہ سے ہٹا دے لیکن محمد بن حنفیہ نے اپنی جگہ سے ذرا بھی جنبش نہ کی، حاضرین کے سامنے رومی کا عاجز ہونا واضح ہوگیا، پھر اس سے محمد نے کہا: اب تم بیٹھو، وہ بیٹھا، آپ نے اس کے ہاتھ کو پکڑتے ہی اس کو اپنی جگہ سے اٹھا لیا، پھر زمین پر پھینک دیا، اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر موجود مسلمانوں کو خوشی ہوئی، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ اور رومی سے کہا: تم دونوں لمبائی میں مقابلہ کرو، قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا پاجامہ نکالتا ہوں، اسے یہ مدمقابل پہنے، اس سے ہماری لمبائی کا پتہ چل جائے گا، اپنا پاجامہ نکال کر رومی کو دیا، اس نے پہنا تو سینے تک پہنچ گیا، جب کہ کچھ حصہ زمین پر گھسٹ رہا تھا، اس پر بھی لوگ خوش ہوئے،
قیس رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر انصار نے کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے آپ نے بے وقار ہونے کا ثبوت دے دیا، اگر گھر جا کر اور پاجامہ ان کے پاس بھیج دیا ہوتا تو بہتر ہوتا، اس پر آپ نے کہا:
أردت بہا کي یعلم الناس أنہا سراویل قیس و الوفود شہود
’’میرا مقصد ہے کہ لوگ جان جائیں کہ وہ قیس کا پاجامہ ہے، اور وفود حاضر رہیں۔‘‘
وألا یقولا غاب قیس و ہذہ سراویل عادی نمتہ ثمود
’’اور یہ نہ کہیں کہ قیس غائب ہوگیا اور یہ قوم عاد کے کسی شخص کا پاجامہ ہے، جس کی حیثیت کو قوم ثمود نے بڑھایا ہے۔‘‘
و إنی من القوم الیمانین سید و ما الناس إلا سید و مسود
’’اور میں بلاشبہ یمنیوں کا سردار ہوں، اور لوگ یا تو سردار ہوتے ہیں یا دوسرے کی سرداری قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔‘‘
و فضلنی فی الناس أصلی و والدی و باع بہ أعلو الرجال مدید
(تاریخ دمشق: جلد 52 صفحہ 294)
’’مجھے لوگوں میں افضل بنایا ہے میرے نسب، میرے والد اور اس لمبے قد نے جس سے میں لوگوں پر غالب آ جاتا ہوں۔‘‘
اَندلس کے مشہور عالم حافظ ابوعمر ابن عبدالبر کا قول ہے:
’’معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کے پاجامہ کی خبر سراسر گھڑا ہوا جھوٹ ہے، اس کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ ہی قیس رضی اللہ عنہ کے اخلاق، سیرت اور پاکیزگی سے میل کھاتا ہے یہ گھڑا ہوا واقعہ اور مزور شعر ہے۔‘‘
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1293)