Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پینتیسواں مسئلہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کی مستند کتاب فروعِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 522 میں لکھا ہے: کہ جو شخص محرم عورتوں ماں بہن بیٹی وغیرہ سے نکاح کر کے جماع کر لے اس کو زنا نہیں کہتے بلکہ من وجہ یہ فعل حلال ہے اور من وجہ حرام ہے اس کو سفاح کہیں گے زنا نہیں کہہ سکتے اولاد پیدا ہو اس کو اولادِ زنا کہنا جائز نہیں جو ایسے مولود کو ولدُ الزنا کہے وہ قابلِ سزا ہے ملحض عبارت یوں ہے:

اَلَّذىْ يَتَزَوج ذَاوَاتَ الْمَحَارمِ الَّتِىْ ذَكَرَهُ اللّٰه عَزِّوَجَلَّ تَحْرِيْمَهَا فِى الْقُرْآنُ مِنَ الْاُمَّهَاتِ وَالْبَنَاتِ اِلىٰ اٰخِرِ الْاٰيَة كُُلُّ ذٰلِکَ حَلَالٌ مِنْ جِهَة التَّزْوِيْج حَرَامٌ مِنْ جَهةِ مَا نَهَى اللّٰه عَزِّوَجَلَّ عَنْهُ لَايَكُوْنَ اَوْ لَادهُمْ مَنْ الوَجْهِ نوجْهِ اَوْلَادَ اَلزِّنَا وَمِنْ قَذَفَ الْمِوْلُوْدِ مِنْ هٰذالْوَجْهِ جُلَدَ الحدِّلَا لِأنَّهُ مَوْلُوْدٌ بِتَزْوِيج رُشْدَةٍ۔

ترجمہ: جو شخص محرم عورتوں کو جن کی حرمت کا خدا نے قرآن میں ذکر کیا ہے ماؤں، بیٹیوں وغیرہ سے (جن کا آخر آیت تک ذکر ہے) نکاح کریں یہ سب حلال ہیں نکاح کی جہت سے اور حرام ہے اس وجہ سے کہ اللہ نے اس سے منع فرمایا ہے اور ان کی اولاد اس وجہ سے اولاد زنا نہیں ہے جو شخص ان لڑکوں کو جو اس وجہ سے پیدا ہوں تہمت دیں کہ وہ ولد الزنا ہیں اس کو سزائے تازیانہ دی جائے گی کیونکہ وہ نکاح صحیح سے پیدا ہوئے ہیں۔

اللہ اللہ شیعہ کے مسائل کا کیا کہنا شاعر کہتا ہے۔

یَلاَ زَْمكَ الّخَطَاءُ بِكُلِ رَای    

عُرِىْ أَنْتَ اَزكىَ الَرْكِيَاء