فتنہ برپا ہونے کے وقت عربوں کے زبردست مدبر لوگ
علی محمد الصلابیقیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ مدبر لوگوں میں سے تھے، ابن شہاب کا قول ہے:
’’فتنے کے وقت عربوں میں پانچ لوگ زبردست مدبر شمار کیے جاتے تھے، اپنی تدبیروں میں انھیں
عقلمند قرار دیا جاتا ہے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، قیس بن سعد، مغیرہ بن شعبہ اور مہاجرین میں عبداللہ بن بدیل خزاعی رضی اللہ عنہم ، مغیرہ رضی اللہ عنہ سرزمین طائف میں الگ تھلگ تھے تاآنکہ دونوں حکم نے فیصلہ کیا اور سب مقام ’’اذرح‘‘ میں جمع ہوگئے۔‘‘
(تاریخ دمشق: جلد 52، صفحہ 288)
قیس رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
لَولَا الْاِسْلَامُ لَمَکَرْتُ مَکْرًا لَا تُطِیْقُہُ الْعَرَبُ۔
(تاریخ دمشق: جلد 52 صفحہ 287)
’’اگر اسلام مانع نہ ہوتا تو میں ایسی چال چلتا جس کا عربوں کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔‘‘