شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک…

شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 4
ملا محمد بن یعقوب الکلینی (328ھ) فروع کافی میں سیدنا جعفر صادقؒ کی زندگی کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ان کے ہاں کچھ صوفی لوگ آ نکلے اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت امام نے ایک قیمتی جبہ زیب تن کر رکھا ہے۔ ان صوفیوں نے آپ کو اپنے زہد و تقویٰ کی دعوت دی۔ آپ نے ان کے سامنے حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت سلمانؓ کے زہد سے استدلال فرمایا اور اپنے عمل پر ان کی شہادتیں پیش کیں اور اس پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا اول نمبر پر ازهد الناس ہونا واضح طور پر بیان فرمایا اور انہیں اور سیدنا ابوذرؓ اور سیدنا سلمانؓ کو ایک فہرست میں ذکر کیا۔
یہاں دوسرے نمبر پر سیدنا ابوذرؓ کو لانا بتلاتا ہے کہ حضرت امام اس وقت کوئی الزامی بات نہ کر رہے تھے کیونکہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا موقف جمع مال کے بارے میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے موقف سے کھلے طور پر مختلف تھا گو جمہور صحابی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ شیعہ لوگ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عام لہر ارتداد سے مستثنیٰ رکھتے ہیں وہ تین صحابی ہیں۔ 
1: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ
2: حضرت سلمان رضی اللہ عنہ
3: حضرت مقداد رضی اللہ عنہ
سو واضح ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ اسلامی زہد کی اس وضاحت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت ابوذرؓ اور حضرت سلمانؓ کو الزاماً پیش نہیں کر رہے اور نہ حضرت امام کے ہاں ان صوفی حضرات کی یہ حاضری کسی مجلسِ مناظرہ کے طور پر تھی۔ صوفیوں کو مناظرہ سے کیا مطلب؟
پھر ان دنوں شیعہ مذہب بھی ابھی مدون نہ ہوا تھا۔ سیدنا جعفر صادقؒ کی وفات (148 ہجری) میں ہوئی اور شیعہ مذہب کی سب سے پہلی حدیث کی کتاب الکافی چوتھی صدی ہجری کے شروع میں مرتب ہوئی اور اس سے اثناء عشری مذہب آگے چلا۔ سیدنا جعفر صادقؒ کی مجلسوں میں سنی شیعہ عقائد کے یہ فاصلے نہ تھے جو آج ان دو حلقوں میں پائے جاتے ہیں۔ اثناء عشری عقائد کا خاتم المحدثین ملا محمد باقر مجلسی (1110ھ) اس وقت کے حالات کا نقشہ اس طرح کھینچتا ہے۔
"جمعے از راویاں کہ در اعصار ائمه بوده انداز شیعان اعتقاد بعصمت ایشان نداشته اند بلکه ایشان را از علماء نیکو کار مے دانسته اند چنانچه از رجال کشی ظاہری شود ومع ذلک ائمہ حکم بایمان بلکہ بعدالت ایشاں مے کردہ اند‘‘
 (حق الیقین: صفحہ، 544 طبع ایران)
ترجمہ: ’’راویوں کا ایک طبقہ جو ائمہ اہلِ بیتؓ کے دور میں بطور شیعہ معروف رہا ہے وہ ان ائمہ اھل البیتؓ کو معصوم نہ جانتے تھے۔ انہیں وہ علماء نیکو کار کے طور پر جانتے تھے جیسا کہ رجال کشی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس عقیدہ عدمِ عصمت کے باوجود ائمہ اہل البیتؓ انہیں مومن قرار دیتے تھے بلکہ انہیں عادل راوی جانتے تھے۔”
معلوم ہوا کہ ان دنوں عقیدہ عصمتِ ائمہ ابھی پورے طور پر قائم نہ ہوا تھا۔ نہ ان ائمہ کو عمومی پیرایہ میں کہیں معصوم سمجھا جاتا تھا ورنہ صوفی حضرات کو کبھی جرأت نہ ہوتی کہ امام کو نصیحت کرنے کے درپے ہوتے۔“
پس جب ان دنوں سنی شیعہ فاصلے اس طرح قائم نہ تھے جیسا کہ اب ہیں تو ظاہر ہے کہ ان دنوں ان ائمہ کی مجالس میں مناظرے نہ ہوتے تھے نہ اصولِ مناظرہ کے حوالے سے ائمہ کرام کسی سوال کرنے والے کو الزامی جواب دیتے تھے۔ ائمہ کی ان مجالس میں ان کی اپنی تشریف فرمائی بھی انہیں ایک مقتدر سنی عالم سمجھنے کے طور پر تھی اور شیعوں کے اپنے علیحدہ عقائد ابھی مرتب نہ ہو پائے تھے ورنہ یہ ائمہ کرام اپنی مجالس کے ان سنی راویوں کو حدیث کے عادل راوی ہونے کا بھی درجہ نہ دیتے۔ عبداللہ بن سباء جو اس سے بہت پہلے ہوا وہ یہودیوں کے ایجنٹ کے سوا کچھ نہ تھا اور حضرت علی مرتضیٰؓ نے اسے سزائے موت دی تھی۔
شیعہ کے بعض اصولِ حدیث
نامناسب نہ ہو گا کہ ہم یہاں شیعہ نقطہ نظر سے روایتِ حدیث کا ایک مختصر خاکہ ہدیہ قارئین کر دیں، تاکہ معلوم ہو کہ ان کی کتابوں میں کسی روایت کے کسی راوی کا سنی ہونا اس روایت کو ہرگز مسترد نہیں کرتا۔ ان کے ہاں ثقہ کے نیچے ممدوح کا ایک درجہ ہے جس میں راوی پھر بھی لائق مدح ہی رہتا ہے۔ شیعہ روایات حدیث کے راویوں کا یہ خاکہ ملاحظہ فرمائیں۔
“راوی ثقہ ہوں مگر عقیدہ امامت نہ رکھتے ہوں تو ان کی حدیث قوی شمار ہو گی۔ بعض راوی امامی ہوں اور بعض غیر امامی مگر ہوں ثقہ تو بھی حدیث قوی سمجھی جائے گی۔ کسی حدیث کے بعض راوی ممدوح ہوں اور امامی ہوں اور بعض دوسرے راوی ثقہ ہوں مگر غیر ممدوح ہوں تو یہ حدیث بھی قوی ٹھہرے گی‘‘ 
(دیکھیئے جامع الرواۃ: جلد، 2 صفحہ، 470)
صوفی لوگ علماء کی مجالس میں مناظرہ کرنے نہیں آتے تھے۔
صوفی حضرات کا ایک اپنا خاص مشرب ہے وہ مطلق جمع مال کے حق میں نہیں ہوتے، گو وہ اسے حرام بھی نہیں کہتے وہ صرف اسے پسندیدہ نہیں سمجھتے۔ ہاں ان کی اس بات کو شریعت نہیں کہا جاتا۔ اگر اسے قانون کی شکل دی جائے تو پھر زکوٰۃ آخر کن لوگوں پر فرض ہو گی؟ یہ تو انہی لوگوں پر فرض ہوتی ہے جن کے پاس مال ہو۔ صوفی حضرات کے ہاں نہ جمع مال ہے نہ حولان حول اور نہ فرضیتِ زکوٰۃ۔ ظاہر ہے کہ فقہاء ان کا ساتھ نہ دے سکتے تھے۔ سیدنا علی مرتضیٰؓ نے خود کہا:
فما وجبت علی زكوة مال
وهل تجب الزكوة على الجواد
ترجمہ: مجھ پر کبھی مال کی زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی کیا، کبھی سخی پر بھی زکوٰۃ دینے کی نوبت آتی ہے۔
یہ کسی صحیح روایت میں نہیں کہ حضرت علی المرتضیٰؓ ہر سال محتاجوں اور مسکینوں کو مسجد میں بیٹھنے کے لیے کہتے اور پھر نماز میں رکوع کی حالت میں ان کی طرف زکوٰۃ کی ادائیگی میں انگوٹھی پھینکتے تھے۔
ایک حدیث بھی روایت کی جاتی ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے رکوع کی حالت میں ایک محتاج کی طرف اپنی انگوٹھی پھینکی۔ 
حافظ ابنِ کثیرؒ سورہ مائدہ کی تفسیر میں زیر آیت 5، 6 لکھتے ہیں:
بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں۔ رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت ہے اور صحیح نہیں ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں حضرت عبادہ بن صامتؓ کے بارے میں نازل ہوئیں۔
(تفسیر ابنِ کثیر جلد، 1 صفحہ، 113)
صفحہ 1 از 4