شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک…

شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 4
ہاں یہ صحیح ہے کہ آپؓ نے اپنے دورِ خلافت میں اپنی رعایا میں زکوٰۃ کا نظام اسی تسلسل میں قائم رکھا جو پہلے تین خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے قائم کیا ہوا تھا اور آپ اپنے نظامِ خلافت میں بالکل پہلے تین خلفاء کرام رضی اللہ عنہم کے نقشِ قدم پر ہی چلے۔
تاریخ گواہ ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے زکوٰۃ کو اپنے ادوار میں کبھی اسلام کے معاشی نظام سے خارج نہیں کیا تھا۔ غریب کی تمام ضرورتیں پوری ہوں تو بھی کوئی شخص مستحقِ زکوٰة مل ہی جاتا ہے۔ یہ صرف دورِ آخر میں ہو گا کہ مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ اب اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا۔ لا یقبلہ احد۔
اس وقت ہمارا یہ موضوع نہیں۔ ہم یہاں صرف صوفیوں کے زہد و تقویٰ پر بات کر رہے ہیں جو مطلقاً جمع مال کے حق میں نہیں ہوتے اور وہی لوگ سیدنا جعفرؒ کی مجلس میں آئے تھے۔
یہ لوگ جب درویشوں کی ادا میں بات کرتے ہیں تو ایک پیرائے میں زہد و تقویٰ کی تلقین ہوتی ہے۔ اسے شریعت کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔ علماء جب حدیث و فقہ کا درس دیتے ہیں تو اسے شریعت اور فتویٰ کی زبان ملتی ہے۔ اہلِ طریقت کے اپنے احوال اور ظروف ہیں۔ صوفی لوگ ہر ایک سے ملتے ہیں۔ ان میں انسانی محبت جاگتی ہے۔ ان میں تعصب نہیں ہوتا۔ یہ ترکِ دنیا کی تعلیم نہیں دیتے۔ البتہ دنیا کے فانی ہونے کا نقشہ ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے کھچا رہتا ہے اور وہ دوسروں کو بھی تصویر کا یہی رخ دکھاتے ہیں۔
صوفی حضرات کا ایک گروہ کہیں چلتے چلتے سیدنا جعفر صادقؒ کے پاس آ نکلا اور ان سے آپ کے لباس فاخرہ پر سوال کیا۔ اس وقت سنی شیعہ کے فاصلے کہیں قائم نہ تھے اور نہ سنی شیعہ تفریق کہیں قائم تھی۔ یہ لوگ حضرت امام کے ہاں انہیں ایک بزرگ سمجھ کر حاضر ہوئے اور وہ سمجھنا چاہتے تھے کہ مسلمان کس حد تک مال سے دور رہ سکتا ہے۔ ان حضرات نے اپنے موقف پر کوئی دلائل پیش نہ کیے تھے اور نہ وہ آپ کے پاس کسی مناظرہ کے لیے آئے تھے نہ صوفیوں اور درویشوں کا یہ انداز ہوتا ہے نہ یہ حضرت امام کی شان کے لائق تھا کہ ہر آنے والے وفد سے مناظرے کے لیے تیار ہو جائیں۔ وہ تو اس وقت سب کے بزرگ سمجھے جاتے تھے۔ ایسا کوئی نہ تھا جو اس وقت ان کو اپنا مقابل سمجھتا ہو اور یہ ائمہ حضرات ان پر اصولِ مناظرہ کی مشقیں کرتے ہوں۔ آپ نے انہیں اس وقت جو کچھ کہا سمجھانے کے لیے کہا، مناظرہ کرنے کے لیے نہ کہا تھا۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے آدمی کے لیے وہ مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں یہ ان کے (حضرت امام) مرتبہ علمی اور بزرگی کے خلاف تھا۔ کسی ڈھگو کی یہ بات قبول کرنے کے لائق نہیں کہ اتنا بڑا علم کا پہاڑ ان درویشوں سے مناظرے پر اترا ہوا تھا، عقل کو بالکل فارغ کر دینا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
عام پند و نصائح میں کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے؟
ایسے مواقع پر اخبارِ احاد سے کام نہیں لیا جاتا۔ اخبارِ متواترہ اور عام مشاہدات سے استدلال کیا جاتا ہے۔اخبارِ احاد مفید ظن ہوتی ہیں ان سے علم قائم نہیں ہوتا۔ اخبارِ متواترہ مفید علم ہوتی ہیں، علم کی دنیا میں کسی کو اس سے انکار نہیں۔ حضرت امام نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عمل سے استدلال کیا۔ اس میں ایک وجہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں وہ شہرت عام تھی کہ آپؓ اپنے پرائے سب کے ہاں ایک بڑے زاہد مانے ہوئے تھے۔ ایک جزو اس روایت کا یہ ہے کہ آپؓ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے مال سے پانچویں حصے کی وصیت عام صدقات کی کی تھی۔ اس سے سیدنا جعفرؒ کا استدلال یہ تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت بھی کچھ نہ کچھ اپنا مال ضرور تھا۔ سو اپنے پاس مال کا ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ آپ کے اس استدلال سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے زہد و تقویٰ کی عام شہرت تھی جو ان درویشوں کو بھی معلوم تھی۔ اور یہ اس طرح عام تھی جس طرح حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت سلمان فارسی کے زہد و تقویٰ کے عام چرچے تھے۔
شیعہ کتبِ حدیث میں فضائل صحابہ کے موضوع پر کسی حدیث کا اس درجے میں بھی ثابت ہو جانا بلکہ پوری روایت میں ایک پہلو اس تیز روشنی کا نکل آنا یہ بھی دراصل انہی بزرگوں کی کرامت ہے جس کا مقابلہ کوئی سخت حیلہ جو بھی نہیں کر سکتا۔ جو لوگ مخالفانِ لٹریچر سے اس قسم کی حدیثوں کے طالب ہوتے ہیں۔ جو اہلِ سنت کے ہاں فضائل صحابہ میں باب در باب پائی جاتی ہیں۔ وہ علمی دنیا کی اس چمک سے پورے اندھیرے میں ہیں۔ ہم شیعہ لٹریچر سے بس اتنی روایت بھی سامنے لے آئیں تو اس کے بوجھ سے ان کا بڑا سے بڑا مجتہد بھی نہ نکل سکے گا۔
يقول: إن الناس قد يسألونك ولا يعذرونك فإذا أعطيت جميع ما عندك من المال كنت قد حسرت من المالفهذه أحاديث رسول الله (صلى الله عليه وآله) يصدقها الكتاب والكتاب يصدقه أهله من المؤمنين وقال أبوبكر عند موته حيث قيل له: أوص فقال: أوصی بالخمس والخمس كثير فإن الله تعالى قد رضی بالخمس فأوصى بالخمس وقد جعل الله عزوجل له الثلث عند موته ولو علم أن الثلث خير له أوصى به، ثم من قد علمتم بعده فی فضله وزهده سلمان وأبوذر رضی الله عنهما فأما سلمان فكان إذا أخذ عطاه رفع منه قوته لسنته حتى يحضر عطاؤه من قابل فقيل له: يا أبا عبدالله أنت فی زهدك تصنع هذا وأنت لا تدری لعلك تموت اليوم أو غدا فكان جوابه أن قال: مالكم لا ترجون لی البقاء كما خفتم علی الفناء، أما علمتم يا جهلة أن النفس قد تلتاث على صاحبها إذا لم يكن لها من العيش ما يعتمد عليه فإذا هی أحرزت معيشتها اطمانت، وأما أبوذر فكانت له نويقات و شويهات يحلبها ويذبح منها إذا اشتهى أهله اللحم أو نزل به ضيف أو رأى بأهل الماء الذين هم معه خصاصة نحر لهم الجزور أو من الشياه على قدر ما يذهب عنهم بقرم اللحم فيقسمه بينهم ويأخذ هو كنصيب واحد منهم لا يتفضل عليهم، ومن أزهد من هؤلاء وقد قال فيهم رسول الله (صلى الله عليه وآله) ما قال ولم يبلغ من أمرهما أن صارا لا يملكان شيئا البتة كما تأمرون الناس بإلقاء أمتعتهم وشيئهم ويؤثرون به على أنفسهم وعيالاتهم.
(الكافی، الشيخ الكلينی: جلد، 5 صفحہ، 68)
شیعہ کی اس روایت میں ایک اور چمک
صفحہ 2 از 4