شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک…

شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 4
اس روایت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ازهد الناس ہونا ہی مذکور ہیں، آپؓ کا اپنے آخری وقت میں اپنے مال میں وصیت کرنے کا بھی ذکر ہے۔ اگر خدانخواستہ آپؓ کی خلافت حضور اکرمﷺ سے بغاوت ہوتی اور آپ رضی اللہ عنہ معاذ اللہ اندر سے مومن نہ ہوتے تو آپؓ کا آخری عمل شریعت کی تابعداری میں وصیت کرنے کا بھی نہ ہوتا۔ افسوس کہ ملا کلینی اس واقعہ کو روایت کرتے بھی اپنے تعصب کا لاوا آپ پر گرانے سے نہیں چوکا۔ اس کے ان الفاظ پر غور کریں:
’’وہ جانتا ہوتا کہ تیسرے حصے کی وصیت میں زیادہ ثواب ہے تو وہ ایسا ہی کرتا۔‘‘
نفلی ثواب کے زیادہ لینے اور کم لینے سے کسی پر جرح نہیں کی جا سکتی۔ تیسرے حصے کی وصیت سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مال سے زیادہ سے زیادہ تیسرے حصے کی ہی وصیت کر سکتا ہے۔ اس سے زیادہ وصیت کرنا وارثوں کے حقوق میں دخل اندازی ہو گی۔ ہاں اس سے کم وہ جو وصیت بھی کرے شریعت اسے مسترد نہیں کرتی۔ سو پانچویں حصے کی وصیت میں شرعاً کوئی جرح راہ نہیں پاتی۔ مگر ملا کلینی کا تعصب دیکھیئے، کس طرح وہ اسے بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اس منقبت پر کہ سیدنا جعفر صادقؒ آپ کو ازهد الناس سمجھتے تھے بہت جلا ہوا ہے اور وہ اسے صرف بادل نخواستہ روایت کر رہا ہے۔
پھر حضرت امام کا یہ کہنا کہ وہ جانتا ہوتا کہ تیسرے حصے کی وصیت میں ثواب زیادہ ہے تو وہ ایسا ہی کرتا، بتلاتا ہے کہ
آپ کے ہاں حضرت صدیقِ اکبرؓ کس طرح دل سے شریعت کے پاسدار تھے اگر انہوں نے تیسرے حصے کی وصیت نہ کی تو یہ بات اس وقت ان کے ذہن میں نہ آئی۔ ورنہ وہ بھی شریعت سے ایک انچ بھی نہ ہٹتے۔
ملا محمد بن یعقوب الکلینی نے یہاں سیدنا جعفر صادق سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے زہد کا اقرار محض اس کی شہرت عام سے کیا ہے یہ نہیں کہ ملا کلینی ان کے لیے کوئی قصیدہ منقبت پڑھ رہا ہے۔ سچی بات کبھی دشمنوں کی زبان پر بھی بے اختیار آ جاتی ہے اور وہ اسے چھپائے بھی چھپا نہیں سکتے۔ اس خلافِ ارادہ کہی بات کا وزن بہت زیادہ ہونا چاہیے نہ کہ اس کی سندوں پر بحث شروع کر دیں۔
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
دیکھے کلینی دل سے جو سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو مومن بھی نہیں جانتا کس بے خبری میں اس نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے زہد و تقویٰ کی شہرتِ عام کے آگے سر جھکا دیا ہے اور کس طرح اس نے اپنے عقیدہ میں حضرت ابوبکرؓ کو دل سے شریعت کا شیدا بنا دیا اور وہ سیدنا جعفر صادق کی زبان سے سیدنا ابوبکرؓ کی اس روحانی فضیلت کا مدعی بن گیا ہے۔
شیعہ سیدنا ابوذرؓ اور سیدنا سلمانؓ کو اپنے حلقے کے لوگوں میں سمجھتے ہیں اور انہیں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جگہ نہیں دیتے جو خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہے۔ حضرت امام نے اپنے اس ارشاد میں ان دونوں کا نام بھی لیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ان تینوں کو ایک مسلک کے افراد سمجھتے تھے۔ سو آپ کے اس ارشاد کو الزامی صورت جواب کسی طرح نہیں کہا جا سکتا۔ 
ہم نہیں کہتے کہ فروع کافی کی یہ پوری روایت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی منقبت میں ہے۔ یہ ساری روایت ایک شیعہ عقیدے کی ہے لیکن اسے اسلام کا اعجاز کہیے یا خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کا صدق و خلوص کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی منقبت کا کوئی نہ کوئی جزئیہ پھر بھی ان کی زبان پر بھی آ ہی جاتا ہے۔
ملا محمد بن یعقوب الکلینی (328ھ) کی فروع کافی کی اس روایت کو دیکھیئے:
”کچھ صوفی حضرات سیدنا جعفر صادقؒ کے پاس گئے۔ حضرت امام کو اچھے لباس میں دیکھا۔ حضرت سفیان الثوریؒ نے آپ کو کہا کہ یہ لباس آپ کا معلوم نہیں ہوتا۔ حضرت امام نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے مال کے پانچویں حصے کی وصیت کی تھی اس سے ظاہر ہے کہ وہ سارا مال خرچ کر دینے کے حق میں نہ تھے۔ اور ان کے بعد تم جانتے ہو کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی مال پورا خرچ کر دینے کے حق میں نہ تھے۔ اس پر حضرت امام نے یہ جملہ فرمایا:
ثم من قد علمتم بعده فی فضله و زهده سلمان و ابوذر
(فروع کافی کتاب المعیشہ: جلد، 5 صفحہ، 28 جلد، 42 لکھنو)
ترجمہ: ”پھر آپ کے فضل و زہد میں آپ کے بعد تم جانتے ہی ہو حضرت سلمانؓ اور حضرت ابوذرؓ ہیں۔”
ہم پہلے کہہ آئے ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب اثناء عشری مذہب ابھی قائم نہ ہوا تھا۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت ابوذرؓ اور حضرت سلمانؓ سب ایک ہی عقیدے کے لوگ سمجھے جاتے تھے۔ ائمہ اہلِ بیتؓ کے حلقوں کے سنی رواۃ بھی ان ائمہ کے ہاں مؤمن شمار ہوتے تھے۔ عصمتِ ائمہ کا مسئلہ ابھی وضع نہ کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت آپس میں کوئی مناظرہ کی فضا نہ تھی۔ صرف اس لیے کہ روایت کا انکار ہو سکے اسے خواہ مخواہ مناظرہ قرار دینا اور جواب کو الزامی بتانا کسی صاحبِ علم کو زیب نہیں دیتا۔ پھر حضرت امام کا یہ کہنا کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوتا کہ تیسرے حصے کی وصیت میں ثواب زیادہ ہے تو وہ ویسا ہی کرتے بتلا رہا ہے کہ حضرت امام سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دل سے پورا مومن سمجھتے تھے ورنہ جو دل سے مسلمان نہ ہو، اس کے بارے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسے اس نیکی کا علم ہوتا تو وہ ضرور اس پر عمل کرتا۔ آپ نے ان کے علم پر تو جرح کی لیکن ایمان پر نہیں۔ رہی یہ بات کہ وصیت کرنے والا اگر اس سے پہلے کچھ وصیت کر چکا تھا تو ضروری نہیں کہ اب وہ اس کا بھی اعلان کرے۔ اس روایت میں سب سے پہلے ازهد کا لفظ حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں ہے اور پھر سیدنا سلمان فارسیؓ اور پھر سیدنا ابوذر غفاریؓ کے بارے میں ہے۔ اس ترتیبِ کلام سے مفہوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلمانؓ اور سیدنا ابوذرؓ اپنے زہد و فضل میں سیدنا ابوبکرؓ کے طریقہ پر تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اول تھے اور یہ دونوں ان کے بعد اس وصف میں معروف ہوئے۔ا ب ان تینوں کو زاہدین و متقین میں شمار کرنا اور من ازهد من هولاء میں ان تینوں کو لانا، ان میں کوئی بات خلافِ سباق نہیں ہے۔ ہاں حالات تینوں کے اپنے اپنے رہے۔
صفحہ 3 از 4