شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک…

شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت

  نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 4
1: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ وقوع میں آیا کہ آپؓ نے اپنے مال سے پانچواں حصہ کی راہِ خدا میں وصیت کی، سو پانچویں حصے کی وصیت پر اصولاً کسی کو اعتراض نہ ہونا چاہیے۔ یہ تیسرے حصے سے کم ہے۔ تیسرے حصے سے زیادہ کرنا منع ہے۔اس سے کم کسی مقدار میں بھی وصیت کی جا سکتی ہے۔
یہ آپؓ کا اس وقت وصیت کرنا بتلاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اس وقت بفضلہٖ تعالیٰ اس ایمان و یقین سے اپنے سفرِ آخرت پر روانہ ہو رہے تھے جو آپؓ نے حضور اکرمﷺ سے حاصل کیا تھا اور آپؓ حضورﷺ کی اس تعلیم پر عمل کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ وقتِ وفات تہائی مال کے اندر اندر کسی مقدارِ مال کی وصیت کی جا سکتی ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے اور آپؓ اس وقت ہرگز ایمان سے تہی دامن نہ تھے جیسا کہ اثناء عشری لوگ خیال کرتے ہی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا پورا دورِ خلافت حضور اقدسﷺ کی پیروی میں گزرا اور آپؓ آخر دم تک ایمان و عمل پر قائم رہے۔
اگر خدانخواستہ آپؓ کی خلافت حضور اکرمﷺ سے بغاوت ہوتی اور معاذ اللہ آپؓ اندر سے مومن نہ ہوتے تو آپؓ کا آخری عمل شریعت کی تابعداری میں وصیت کرنے کا نہ ہوتا۔
2: حضرت سلمانؓ اور حضرت ابوذرؓ سے جو وقوع میں آیا وہ یہ رہا کہ یہ دونوں حضرات پوری عمر میں کبھی اس مقام پر نہ آئے کہ ان کے پاس کچھ نہ رہا ہو۔ حضرت امام نے فرمایا:
ولم يبلغا من امرهما بان صارا لا يملكان شياء البتعة كما تأمرون الناس بالقاء امتعتهم و شيئهم ويوثرون به على انفسهم و عیالاتهم.
ترجمہ: ”اور یہ دونوں اپنی عمر میں بھی اس مقام پر نہ پہنچے کہ وہ کسی چیز کے مالک نہ رہے ہوں جیسا کہ تم (صوفی لوگ) لوگوں کو اپنا پورے مال دے ڈالنے کا حکم دے رہے ہو۔‘‘
یہ تثنیہ کے صیغے ان دو کے اپنے حالات کے لیے ہیں۔ رہا زہد و تقویٰ تو اس میں یہ تینوں اپنے اپنے درجہ میں پورے ممتاز رہے۔
من ازهد من هولاء میں یہ تینوں حضرات مذکور ہیں۔ اور یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اس دور میں ان کے زہد و تقویٰ کی یہ شان درجہ شہرت میں عام تھی۔ سیدنا جعفر صادق یہاں اس خبرِ متواتر اور استفاضہ عام سے استدلال کر رہے ہیں کوئی الزامی جواب نہیں دے رہے۔ الزامی جواب کی باری تحقیقی جواب کے بعد آتی ہے۔ کیا یہاں سیدنا جعفر صادقؒ کا کوئی تحقیقی جواب موجود ہے کہ کہا جا سکے اب حضرت امام سے ایک الزامی جواب بھی سن لو۔ یہاں جمع حقیقت میں تین ہی کے لیے ہے۔ دو کے لیے تثنیہ کا جدا صیغہ ہے۔ جمع فوق الواحد عمومِ مجاز کے طور پر آتی ہے۔ اگر حقیقی جمع مراد لی جا سکے تو جمع فوق الواحد کا سہارا کا کوئی جواز پیدا نہیں کرتا۔ اگر اس تاویل کو جگہ بھی دی جائے تو بھی اس روایت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اوّل درجے کے فضل و زھد کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
فروعِ کافی کی اس روایت کا درجہ اسناد
محمد بن یعقوب الکلینی (328 ھجری) نے الکافی (اصول بھی اور فروع دونوں) حضرت امام منتظر کی غیبتِ صغریٰ میں مرتب کی تھی اور حضرت امام نے اپنے پہلے ظہور میں اس پوری کتاب کو دیکھا اور اس کی تصدیق فرما دی تھی۔ هذا كاف لشيعتنا 
ترجمہ: یہ کتاب ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے ۔
آپ کا یہ تاریخی جملہ فروع کافی طبع لکھنو کے سرورق پر جلی الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔ یہ کتاب اثناء عشریوں کے اصولِ اربعہ میں سب سے پہلی کتاب شمار ہوتی ہے۔ سو امام کی اس تصدیق کے بعد اس کے راویوں کی تعدیل کی کوئی مزید ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اگر کوئی ضد کا مارا پھر بھی سند کے پیچھے لگا رہے تو اسے کون روک سکتا ہے۔
کہتے ہیں اس کا ایک راوی سعدہ بن برقہ سنی تھا۔ سو جاننا چاہیے کہ حسبِ اصولِ شیعہ کسی راوی کے سنی ہونے سے اس کی روایت مسترد نہیں ہو سکتی۔ مشہور شیعی محدث عبدالرزاق لاہجی نے شیعہ اصولِ حدیث پر ایک رسالہ گوہر مراد لکھا ہے۔ اس میں اہلِ سنت کے تمام علماء میں محدثین کو اہلِ انصاف تسلیم کیا ہے۔ سو اگر ان کی روایت قبول نہ ہو گی تو اور کس کی ہو گی۔ علامہ حیدر علی نے منتہی الکلام میں اسے نقل کیا ہے:
بہار (بھارت ) کے مقتدر عالم جناب ولایت حسین نے گوہر مراد کی یہ عبارت اس طرح نقل کی ہے:
’’اہلِ انصاف در فرقہ سنیاں محدثین ایشانند که هرچه از جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بآنهار سیدہ بے کم و کاست روایت مے کنند مختصراً کذافی منتهی الکلام‘‘
(کشف التلبیس: حصہ، اول صفحہ، 24 سید ولایت حسین بہاری)
یہ کہنا ہرگز صحیح نہیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے ان زاہدوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر محض اپنے جذبہ پسری کی وجہ سے کیا ہے آپ ان کی اولاد میں سے تھے اکثر فرماتے:  ولدنی ابوبکر مرتین  اور آپ کی والدہ حضرت اُمِ فروہ حضرت ابوبکرؓ کی حقیقی پوتی تھیں۔ حضرات اہلِ بیتؓ نے ایمان کے مقابل کبھی اپنے آباء سے خیر خواہی روا نہیں رکھی۔حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اپنے ایک خطبہ میں کہتے ہیں:
ولقد كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نقتل ابائنا وابناءنا واخواننا و اعمامنا ما يزيد ذلك الا ايمانا و تسليما و مضياء على اللقم و صبراً على مضف الالم
(نہج البلاغہ جلد، 1 صفحہ، 403 خط نمبر، 55)
ترجمہ: اور ہم بیشک حضور اکرمﷺ کے ساتھ اپنے باپ دادوں، اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے اعمام کو قتل کرتے رہے اس سے ہمارا ایمان اور بڑھتا اور سر تسلیم کرنے کی اور ہمت ہوئی اور تکالیف پر صبر کا جذبہ اور ابھرتا۔
علامہ طبرسی صاحبؒ تفسیر مجمع البیان ایک مقتدر شیعہ عالم ہیں مگر دیکھئے وہ کس طرح اپنی کتاب میں مجاہد قتادہ اور سعدی سے روایات لائے ہیں اور انہیں رد نہیں کرتے کہ یہ سنیوں کی روایات ہیں۔ اس سے پتہ چلا کہ شیعہ علماء نے سنی روایات سے اصولاً کبھی انکار نہیں کیا۔ وہ سنی رواۃ حدیث کو ہمیشہ اہلِ انصاف تسلیم کرتے آئے ہیں۔

صفحہ 4 از 4