عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک سال چھوٹے تھے۔
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1009)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر بارہ سال تھی، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور آپ سے حدیث کی سماعت کی تھی۔
(الطبقات: جلد 1 صفحہ 214)
سنن النسائی میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی روایت کردہ حدیث یہ ہے:
إِنَّ الْغُمَیْصَائَ أَوِ الرُّمَیْصَائَ أَتَتِ النَّبِیَّ صلي الله عليه وسلم تَشْتَکِیْ زَوْجَہَا أَنَّہٗ لَا یَصِلُ إِلَیْہَا، فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ جَائَ زَوْجَہَا فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ہِیَ کَاذِبَۃٌ، وَ ہُوَ یَصِلُ إِلَیْہَا وَ لٰکِنَّہَا تُرِیْدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَی زَوْجِہَا الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلي الله عليه وسلم لَیْسَ ذٰلِکَ حَتّٰی تَذُوْقِیَ عُسْیَلْتَہُ۔
(سنن النسائی: جلد 6 صفحہ 148، اور مطبوع نسخے میں محرف ہو کر عبداللہ ہو گیا ہے۔)
’’غمیصاء یا رمیصاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں کہ وہ ان کے پاس نہیں آتا ہے، جلد ہی ان کے شوہر آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول یہ جھوٹی ہے، میں اس کے پاس جاتا ہوں، لیکن وہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹ جانا چاہتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ایسا نہیں ہو گا تاآنکہ تم اس کا مزہ چکھ لو۔‘‘
امام احمدؒ نے اسی سند سے ہیثم کے طریق سے نقل کیا ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں، مگر اس میں واقعہ کے وقت عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے حاضر ہونے کی صراحت نہیں ہے۔
(مسند أحمد: جلد 1 صفحہ 214)
ہیثمی نے اس کو عبیداللہ و فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مختصراً مجمع الزوائد (مجمع الزوائد: جلد 4 صفحہ 340، رواہ ابویعلیٰ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔)
میں نقل کیا ہے اور کہا ہے: اس کو ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 513)
امام ذہبیؒ مذکورہ حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ مرسل ہے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 513)
ان سے ان کے بیٹے عبداللہ، عطاء، ابن سیرین اور سلیمان بن یسار رحمھم اللہ وغیرہ نے حدیثوں کو روایت کیا ہے، وہ امیر، شریف، سخی اور لوگوں کے نزدیک لائقِ تعریف تھے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 513)
الف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ کے لڑکوں عبداللہ، عبید اللہ اور کثیر رضی اللہ عنہم کو ایک قطار میں کھڑا کرتے تھے:
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَصِفُ عَبْدَاللّٰہِ وَ عُبَیْدَ اللّٰہِ وَ کَثِیْرًا بَنِی الْعَبَّاسِ ثُمَّ یَقُوْلُ: مَنْ سَبَقَ إِلَیَّ فَلَہُ کَذَا فَیَسْتٰبِقُوْنَ إِلَیْہِ فَیٰقُعُوْنَ عَلَی ظَہْرِہٖ وَ صَدْرِہِ فَیُقَبَلِّہُمْ وَ یُلْزِمُہُمْ۔
(مسند أحمد: جلد 1 صفحہ 459 حدیث نمبر 1836)
’’عبداللہ بن حارث سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹوں عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر رضی اللہ عنہم کو قطار میں کھڑا کر کے فرماتے: جو دوڑ کر سب سے پہلے مجھ تک پہنچے گا اسے انعام ملے گا، چنانچہ وہ سب دوڑ لگاتے، اور آپ کی پیٹھ اور سینے پر گر پڑتے آپﷺ انھیں بوسہ دیتے اور چمٹا لیتے۔‘‘
ب: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک عبید اللہ رضی اللہ عنہ، قثم رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب تھے۔
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور عباس رضی اللہ عنہما کے دو بیٹے قثم اور عبید اللہ رضی اللہ عنہما بچے تھے، کھیل رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہو کر پہنچے اور کہا: اسے مجھے اٹھا دو، چنانچہ آپﷺ نے مجھے اپنے سامنے سوار کر لیا، اور قثم رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: اسے مجھے اٹھا دو، چنانچہ انھیں اپنے پیچھے سوار کر لیا، حالانکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک عبید اللہ رضی اللہ عنہ قثم رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب تھے، آپﷺ نے چچا کی پروا نہ کرتے ہوئے عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر قثم رضی اللہ عنہ کو سوار کر لیا۔
(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 353، الطبقات: بتحقیق السلمی: جلد 2 صفحہ 14؛ اس کی سند حسن ہے)