Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کی دلیل پنچم

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

ایک اور دلیل آیت ذیل سے دی جاتی ہے:

قُلْ لَّاۤ اَسۡئَـــلُـكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِى الۡقُرۡبٰى‌ الخ۔

(سورۃ الشوریٰ: آیت 23) 

ترجمہ: میں تم سے اس تبلیغ پر اجر نہیں مانگتا ہاں یہ چاہتا ہوں کہ قرابت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو۔

اس آیت کا شیعہ حضرات یہ معنیٰ کرتے ہیں کہ میں تم سے اور تو کچھ اجر نہیں مانگتا اتنا اجر مانگتا ہوں کہ میرے قریبوں (اہلِ بیتؓ) سے دوستی رکھو۔ اس آیت میں بھی مسئلہ خلافتِ علی رضی اللہ عنہ پر کوئی اشارہ تک نہیں پایا جاتا اگر یہی معنیٰ تسلیم کر لیا جائے کہ حضورﷺ کے اقربا سے دوستی رکھنا ضروری ہے تو اہلِ سنت کو اس سے کب انکار ہو سکتا ہے؟ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مان لو جناب ممدوح خود اس کا مطالبہ قبل از وقت قرار دیتے ہیں جیسے کہ آگے ذکر ہوگا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رابع تسلیم کرنے سے بھی محبت اور مؤدت میں کچھ فرق نہیں آتا اور اگر آیت کا وہ معنیٰ کریں جو شیعہ کرتے ہیں تو حضرت محمدﷺ کی شانِ نبوت پر حرف آتا ہے جب حق تعالیٰ نے تمام انبیآء علیہم السلام کا مقولہ قرآنِ کریم میں بیان فرمایا ہے کہ ہم تبلیغ رسالت پر کچھ اجرت نہیں مانگتے تو ختم المرسلینﷺ کی نسبت یہ اعتقاد کے آپ اس امر پر اجر طلب کرتے تھے حضورﷺ کی شانِ اقدس کے منافی ہے نیز یہ آیت دوسری آیت کے مخالف ہو جاتی ہے جو یوں ہے:

قُلۡ مَاۤ اَسۡئَــلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ‏ 

(سورۃ ص: آیت 86)

ترجمہ: کہہ دیں کہ میں تم سے تبلیغ اور رسالت پر کسی قسم کا اجر نہیں مانگتا نہ کچھ تکلیف چاہتا ہوں۔ 

اگر آیت کا مضمون یہ ہو کہ میں تم سے اور تو کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں، یہ ضرور چاہتا ہوں، کہ تم میرے رشتہ داروں سے دوستی کرو، جس کا دوسرا معنیٰ یہ ہوگا کہ ان سے مروت و سلوک کرو، اور ان کی جان و مالی امداد کرتے رہو تو یہ رسالت نہیں بلکہ خود غرضی میں داخل ہوگا جس کا حضرت محمدﷺ کی نسبت گمان کرنا بھی کفر ہے علاوہ اس کے چونکہ کے قرآن میں اس قسم کے اقوال جو انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف سے بیان ہوئے ہیں ان سب میں مخاطب قوم کفار ہے پھر اس سورت میں یہ قباحت لازم آتی ہے کہ کفار جبکہ رسالتِ مآب دشمنی رکھتے تھے تو اس حالت میں آپ ان کو کس طرح کہہ سکتے تھے کہ میرے رشتہ داروں سے محبت دوستی رکھو نیز آیت میں لفظ القربیٰ واقع ہے ذوی القربیٰ نہیں سو قربیٰ کہ معنیٰ رشتہ داری ہے رشتہ دار اس کے معنیٰ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ 

صحیح مفہوم آیت کا یہی ہے کہ آپ کفار و مشرکین سے کہہ دیجئے کہ تم میرے ساتھ ناحق دشمنی کرتے ہو میں تم سے تبلیغ رسالت کا کچھ اجر تو نہیں مانگتا، یعنی اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے چونکہ میں تمہارا رشتہ دار بھی ہوں، اس لیے بجائے دشمنی کے تم سے محبت وہ مؤدت کی وجہ کہ مجھے امید ہونی چاہیے پھر اس آیت کا مفہوم وہی لیا جائے جو شیعہ کہتے ہیں تو بھی اس میں اس امر کی کہاں تخصیص ہے کہ وہ حضرت کے قرابتدار یہی چار افراد علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسین رضی اللہ عنہ ہی ہیں اس میں تو جمیع رشتہ دار داخل ہو سکتے ہیں نیز شیعہ کا اس آیت سے استدلال اس لیے بھی صحیح نہیں ہے کہ آیت مکی ہے اور اس کے نزول کے وقت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے نہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت علی المرتضیٰؓ کی زوجیت میں آئی تھی بلکہ یہ واقعات ہجرت کے بعد ہیں، خواہ آیت کا معنیٰ کچھ ہی کیوں نہ لیا جائے شیعہ اس سے ہرگز استدلال نہیں کر سکتے۔