Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا انھیں(عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو) یمن کا گورنر بنانا

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنایا، انھیں امیر الحج مقرر کیا، چنانچہ 36ھ و 37ھ میں لوگوں نے آپ کی امارت میں فریضۂ حج ادا کیا، 38ھ میں بھی انھیں امیر الحج بنا کر بھیجا، اور اسی سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید بن شجرہ الرہاوی رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا، دونوں کی ملاقات ہوئی، دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے سے مطالبہ تھا کہ وہ تابع ہو جائیں، لیکن دونوں نے اس بات کو نہ مانا، ان کے مابین اس پر مصالحت ہوئی کہ حج کے موقع پر لوگوں کو شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں، اس خبر سے متعلق سیرت نگاروں کے مابین اختلاف ہے، بعض لوگوں کے نزدیک اس خبر کا تعلق قثم بن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے۔

خلیفہ کا قول ہے: 40ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ابی ارطاۃ عامری رضی اللہ عنہ کو گورنر بنا کر یمن بھیجا، جب کہ وہاں کے گورنر عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور علی رضی اللہ عنہ کی شہادت تک باقی رہے۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1009)