Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کی چھٹی دلیل

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ خلافت بلافصل سیدنا علی المرتضیٰؓ پر آیتِ تطہیر سے بھی استدلال کرتے ہیں:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا 

(سورۃ الاحزاب: آیت 33)

ترجمہ: خدا چاہتا ہے کہ اہلِ بیتؓ تم سے رجس (ناپاکی) اس کو دور کر دے اور تم کو پاک کر دے جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے۔

وجہ استدلال یہ ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِ بیتؓ جن میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی داخل ہیں معصوم تھے، اس لیے وہی امامت کے لائق تھے، غیر معصوم مقابلِ امامت نہیں ہو سکتا اس آیت سے شیعہ کا استدلال ہرگز درست نہیں ہوسکتا کیونکہ سیاق و سباق آیات سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے، کہ آیت حضرت محمدﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے اس کے ماقبل اور ما بعد تمام آیات میں ازواجِ مطہراتؓ سے خطاب ہے یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ پہلے اور پیچھے ازواج مطہراتؓ کا تذکرہ ہو اور درمیان میں ایک ٹکڑا اس کے خلاف سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدہ فاطمہؓ سیدنا حسینؓ کے خطابات میں آ جائے جوکہ بلاغت کے بالکل خلاف ہے بہرحال کوئی باسمجھ اور باانصاف شخص ماقبل اور مابعد دیکھ کر ہرگز خیال نہیں کر سکتا ہے کہ یہ آیت ازواجِ مطہراتؓ کے خطاب میں نہ ہو۔ 

دوم: لفظ اہلِ بیتؓ ہر ایک زبان میں عورتوں پر اطلاق ہوتا ہے فارسی میں اہلِ خانہ عورت کو کہتے ہیں ہندی میں گھر والی عورت سے مراد ہوتی ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ اس آیت میں اہلِ بیتؓ سے مراد ازواجِ رسول نہ ہو۔ 

سوم: قرآنِ کریم میں دوسری جگہ بھی اس لفظ کا اطلاق ازواج پر ہی ہوا ہے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہم السلام کی بیوی حضرت سائرہ کو جب فرشتوں نے فرزند کی بشارت دی اور انہوں نے اپنے بانجھ ہونے اور اپنے شوہر کے بوڑھا ہونے کے بعد اس بشارت پر تعجب کیا تو ارشاد ہوا:

اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ 

(سورۃ ہود: آیت 73)

ترجمہ: کیا خدا کے کام (قدرت) سے آپ تعجب کرتی ہیں خدا کی رحمت اور برکتیں اے اہلِ بیتؓ تمہارے شامل حال ہوں بے شک وہ حمد کیا ہوا بزرگ و برتر ہے اس جگہ لفظ اہلِ بیتؓ سے مراد بااتفاق (شیعوں کی تفسیر صافی میں اس آیت کے تحت لکھا ہے یعنی

اِنَّ ھَذِہٖ و امثالَھاَ مِمَّا یُکْرِمُکُمُ اللّٰه بِه یَا اَھْلَ الْبَیۡتِ النَّبُوَّةَ فَلَیْسَ ھَذَا مَکَان تَعَجّبٍ۔

ترجمہ: یعنی اے اہلِ بیت نبوت یہ اور اس کی مثل اور برکتیں اللہ تعالیٰ تم کو عطاء کرے گا بس یہ تعجب کا مقام نہیں۔ الخ'' اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت سارہ حضرت ابراہیم علیہم السلام کی اہلِ بیت ہیں کیونکہ تعجب کرنے والے وہی ہیں۔ 12) شیعہ و سنی حضرت سارا ہیں تو پھر یہ پھر آیتِ متنازعہ میں اہلِ بیتؓ سے سے مراد خلاف محاورہ قرآن غیر ازواج کیوں ہو؟

چہارم: اہلِ بیت گھر والے ہی ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے گھر میں ہی رہیں سو یہ وصف ازواج میں ہی پائی جاتی ہے جس کے گھر میں نکاح ہو گیا وہیں کی ہوگئیں لیکن بیٹیاں یا نواسے یا داماد چونکہ دوسرے گھر رہائش اختیار کر لیتے ہیں اس لئے ان پر ان پر اس لفظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا سیدنا علیؓ گھر میں رہتے تھے سیدہ فاطمہؓ بھی نکاح کے بعد اپنے شوہر علی المرتضیٰؓ کے گھر میں چلی گئی، حسینؓ کا تولد ہی دوسرے گھروں میں ہوا، پھر رسول اللہﷺ کے گھر میں رہائش رکھنے والی بیبیاں ہی تھیں اس لیے اہلِ بیت النبی بغیر ان کے کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

(واضح ہو کے صنف حضرت حسینؓ وغیرہ ہم کو اہلِ بیت سکونت سے خارج کر رہے ہیں نہ کہ مطلقاً کیونکہ حضرت حسنؓ حضرت حسینؓ از جہتِ ولادت حضورِ اکرمﷺ کے اہل بیت میں داخل ہیں نہ از جہت سکونت حضرت شیخ عبد الحی محدث دہلویؒ نے اہلِ بیت کی تشریح اس طرح فرمائی ہے

کی بیت است بیت نسب وبیت سکنیٰ بیت ولادت پس بنو ہاشم اولادِ عبدالمطلب اہل بیت پیغمبر اندﷺ از جہت نسب و اولاد جد قریب را بیت می خوانند ومے گوئید خانہ فلانے بزرگ است ازواجِ مطہرات آنحضرتﷺ اہل بیت سکنیٰ اند واطلاق اہلِ بیت برزنان مرد اخص دا عرف بحسب عرف و عادت است و اولاد شریف آنحضرتﷺ اہل بیت ولادت اند (اشعری اللمعات شرح مشکوٰۃ: جلد، 4 صفحہ، 692) اہلِ سنت و الجماعت تمام اہلِ بیت کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں چنانچہ کتبِ احادیث میں اہلِ بیت کے فضائل و مناقب کے بیان کے لیے علیحدہ علیحدہ ابواب مقرر ہیں ازواجِ مطہراتؓ امہاتُ المؤمنین مسلمانوں کی مائیں ہیں ان کو اہلِ بیتِ رسول سے خارج کرنا قرآن کا انکار کرنا ہے اللہ تعالیٰ منکرین کو ہدایت نصیب فرمائیں۔ احقر حسین غفرلہ)