ابن کثیر کا قول ہے
علی محمد الصلابی’’سیرت نگاروں کے یہاں یہ خبر مشہور ہے، لیکن میرے نزدیک اس کی صحت مشکوک ہے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 334)
بلاشبہ اس مرحلے میں حتیٰ کہ بصرہ و صفین کے دنوں میں جب کہ طرفین کے مابین جنگ جاری تھی، بے گناہوں کا قتل نہیں ہوا، تو امن کے مرحلے میں بچوں اور بے گناہوں کا قتل کیسے ہو سکتا ہے، بنا بریں مسلمانوں کے دین، اخلاق اور معاملات کے خلاف یہ معاملات قابلِ قبول نہیں ہوسکتے۔
(الإنصاف: دیکھیے حامد: صفحہ 575)
اسی طرح دو بچوں کے بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کی روایت کو ابن سعدؒ نے واقدی کے طریق سے ذکر کیا ہے، جب کہ وہ متروک ہے، اور اسے طبری نے بھی اپنی تاریخ میں آنے والی سند سے ذکر کیا ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 139، الطبقات بتحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 213)
زیادبکائی سے مروی ہے وہ عوانہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا … یہ سند منقطع ہے، ساتھ ہی ساتھ عوانہ بن حکم اخباری متکلم فیہ ہیں۔
(الطبقات بتحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 213)
ابن عبدالبر نے الاستیعاب (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 89)
میں عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے لڑکے کو بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کا واقعہ ہشام کلبی کے طریق سے ذکر کیا ہے، وہ ابومخنف سے روایت کرتے ہیں، جب کہ وہ دونوں متروک ہیں۔
(الطبقات بتحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 213)
شیعیت میں ہشام بن محمد بن سائب کلبی کے غلو پر سب کا اتفاق ہے، امام احمدؒ کا قول ہے:
’’اس سے کوئی حدیث بیان کرتا ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اس سے حدیث بیان کرتا ہو۔‘‘
دار قطنی کا قول ہے: ’’وہ متروک ہے۔‘‘
(المجروحین لابن حبان: جلد 3 صفحہ 91، تذکرۃ الحفاظ: جلد 1 صفحہ 343)
ابن حبان کا قول ہے: ’’وہ شیعیت میں غلو پسند تھا۔‘‘
(المجروحین: جلد 3 صفحہ 91)
ابن عساکر کا قول ہے: ’’وہ رافضی اور غیر ثقہ ہے۔‘‘
(تذکرۃ الحفاظ: جلد 1 صفحہ 343)
امام ذہبی کا قول ہے: ’’وہ رافضی نسب گو ہے۔‘‘
(سیر ٔاعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ 102)
ابومخنف لوط بن یحییٰ:
’’اس کے بارے میں ابن عدی کا قول ہے: وہ سخت قسم کا شیعی اور ان کی خبروں کو بیان کرنے والا ہے۔‘‘
(الکامل فی ضعفاء الرجال: جلد 6 صفحہ 2110)
ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے اس کو شیعوں میں شمار کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے:
’’وہ متروک اور کذاب ہے۔‘‘
(منہاج السنۃ: جلد 5 صفحہ 82)
یمن اور حجاز میں علی رضی اللہ عنہ کے مؤیدین کو بسر رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کا واقعہ ثقہ مؤرخ خلیفہ بن خیاط نے اپنی تاریخ (تاریخ خلیفۃ: صفحہ 198)
اور طبقات (طبقات ابن خیاط: صفحہ 27)
میں ذکر نہیں کیا ہے، البتہ انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے انھیں یمن اور حجاز پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجنے کا تذکرہ کیا ہے، اسی طرح امام بخاریؒ نے التاریخ الکبیر
(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 2 صفحہ 123)
اور حاکم نے المستدرک (المستدرک: جلد 3 صفحہ 591) میں کیا ہے۔
اس طرح کسی بھی حال میں یمن میں عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے دو لڑکوں کو بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کا قتل کرنا صحیح نہیں ہے، اہل شام کا خیال ہے کہ بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثوں کو سنا ہے، اور وہ ان لوگوں میں سے ایک تھے جنھیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مصر کو فتح کرنے میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے بھیجا تھا، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے بعض مؤرخین نے کہا: وہ چار تھے، زبیر، عمیر بن وہب، خارجہ بن حذافہ اور بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہم۔
اکثر مؤرخین کا قول ہے کہ وہ زبیر، مقداد، عمیر بن وہب اور خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہم تھے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
(الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 88)
پہلی حدیث: بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو حدیثیں روایت کی ہیں:
لَا تُقْطَعُ الْأَیْدِیْ فِی الْمَغَازِیْ
(مسند أحمد: جلد 4 صفحہ 181، حدیث صحیح ہے۔)
’’جنگوں میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔‘‘
دوسری حدیث دعا کے سلسلے میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰہُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأَمُوْرِ کُلِّہَا وَ أَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ۔
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 181، اس کی سند حسن ہے۔)
’’اے اللہ! تمام کاموں میں ہمارا انجام ٹھیک کردے، اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے ہمیں بچا لے۔‘‘
غیرجانبدارانہ بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ عامری کے ہاتھوں عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے دو لڑکوں کا قتل ثابت نہیں ہے۔ کتب تاریخ و ادب میں موجود دونوں بچوں کی والدہ عائشہ بنت عبداللہ کی جانب منسوب درج ذیل اشعار بے بنیاد اور بے اصل ہیں:
ہا من أحسن بابنی اللذین ہما کالدرتین تشظی عنہما الصدف
’’کون ہے جس نے سیپ سے نکلے دو موتیوں کے مانند میرے دونوں بچوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔‘‘
ہا من أحسن بابنی اللذین ہما سمعی وعقلی، فقلبی الیوم مختطف
’’کون ہے جس نے میرے ان دونوں بچوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جو میرے کان اور میری عقل تھے، آج میرا دل چھین لیا گیا ہے۔‘‘
حدثت بسرا و ما صدقت ما زعموا من میلہم و من الاثم الذی اقترفوا
’’مجھے خبر ملی ہے کہ بسر نے (جب کہ میں لوگوں کی اس تہمت کی تصدیق نہیں کرتی کہ وہ بھٹک گئے تھے اور جرم کا ارتکاب کیا تھا)‘‘
أنحی علی ودجی ابنی مرہفۃ مشحوذۃ، و کذاک الاثم یقترف
’’میرے بچوں کی شہ رگ پر تیز اور دھار دار تلوار سے حملہ کر کے قتل کیا، اور گناہ کا ارتکاب ایسے ہی کیا جاتا ہے۔‘‘
لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھی تھیں، چنانچہ ایام حج میں جابجا کھڑی ہو کر ان اشعار کو پڑھتی تھیں اور ماری ماری پھرتی تھیں۔
(الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 89)
اسی طرح عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی جانب منسوب اشعار بے بنیاد ہیں، مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانے میں آئے، تھوڑی گفتگو کے بعد عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے:
یابن صخر و ابن حرب تبیّن من تقیسون بعبد المطلب
’’اے صخر و حرب کے بیٹے سوچو کس کو عبدالمطلب کے برابر کر رہے ہو؟‘‘
من إذا رأت قریش وجہہ عظموا المرء و خروا للرکب
’’جسے قریش کے لوگ دیکھ کر گھٹنوں کے بل ہو کر تعظیم کرتے ہیں۔‘‘
صاحب الفیل و ساقی زمزم ثمت الفدیۃ رأس فی العرب
’’جو صاحب فیل، صاحب زمزم، صاحب فدیہ اور عربوں کا سردار ہے۔‘‘
و ہدی آخرنا و آخرکم فیہ الملک لکم أجری الحقب
’’ہمارا اور تمھارا رہبر ہے، ایک زمانے تک تمھارا حکمراں رہا۔‘‘
إن بسرا قتل ابنی و ما بین بسر و بنی فہر نسب
’’بسر نے میرے دو بیٹوں کو قتل کر دیا، بسر اور بنوفہر کے مابین کوئی خاندانی رشتہ نہیں۔‘‘
فأقتل العبد بفرخی ہاشم إن ہذا من بواء العجب
’’کیا میں بنوہاشم کے دو بچوں کے بدلے اس کو قتل کردوں گا، بلاشبہ یہ تعجب خیز بدلہ ہوگا؟‘‘
أجعل الفضۃ فینا ذہبا ونضار القوم فینا کالغرب
’’کیا میں کسی چاندی کو اپنے سونے اور اپنے خالص سونے کو عام سونے کے برابر مان لوں گا؟‘‘
لا یقر العین إلا قتل من سبب القتل و للقتل سبب
’’قتل میں جن کا بھی ہاتھ تھا، ان سب کو قتل کرنے سے آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوگی اور قتل میں لوگوں کا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔‘‘
ذاک ما ذاک ابن حرب إنہ قطب الشر و للشر قطب
(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 354، 355)
’’وہ ابن حرب ہی نہیں، بلاشبہ وہ جنگ کا محور ہے، اور جنگ کا محور ہوتا ہے۔‘‘
لوگوں کا خیال ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اشعار میں ان اشعار کا جواب دیا، جن میں سے بعض اشعار یہ ہیں:
إن بسرا قتل ابنیک علی غیر جرم قاطعا منک النسب
’’بلاشبہ بسر نے تمھارے دو لڑکوں کو بغیر جرم اور تعلقات کو ختم کرتے ہوئے قتل کردیا۔‘‘
أنزل اللّٰہ ببسر بأسہ و علی بسر من اللّٰہ الغضب
’’اللہ تعالیٰ بسر کو سزا دے اور بسر پر اللہ کا غضب نازل ہو۔‘‘
أضرب العبد علی یافوخہ ضربۃ تذہب منہ ما ذہب
’’میں اس شخص کی پیشانی پر تلوار کا ایسا وار کروں گا جو اس کا کام تمام کردے جس طرح ‘‘
فی مقیل الدہر من ضعف بہ لیس ہذا من مناف بعجب
(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 354، 355)
’’اس نے زمانۂ گزشتہ میں کمزوروں کا کام تمام کیا ہے، یہ قبیلۂ مناف سے بعید چیز نہیں۔‘‘