عبداللہ بن جعفر، حسن بن علی اور عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے مابین موازنہ
علی محمد الصلابیابوالزناد کہتے ہیں، پوچھا گیا: تینوں میں کون زیادہ سخی ہیں، عبداللہ بن جعفر، یا حسن بن علی یا عبید اللہ بن عباس؟ تو انھوں نے جواب دیا: زیادہ مقدار میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ دینے والا ہم نے نہیں دیکھا، اور زیادہ یا کم مقدار میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے زیادہ دینے والا نہیں دیکھا، اور عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر سے جب بھی گزر ہوا تو تازہ کھانا دیکھا، اپنے مجزرہ میں ہر دن اونٹ ذبح کرتے تھے، اور یہی مجزرۂ ابن عباس کی وجہ تسمیہ ہے، میں نے کہا: اونٹ کی قیمت پندرہ بیس دینار ہوگئی ہے تو عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے ڈانٹتے ہوئے کہا: اس کی قیمت جوڑی نہیں جاتی، اللہ کی قسم میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔
(تاریخ دمشق: جلد 39، صفحہ 357، الطبقات: جلد 2 صفحہ 23 اس کی سند ضعیف ہے۔