تنقيح سوم
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہکیا سیدنا علیؓ خود طالب خلافت تھے؟
اس امر کا فیصلہ کرنے کے لیے کہے جناب امیر رضی اللہ عنہ وفاتِ نبویﷺ کے بعد خلافت حاصل کرنے کے شائق تھے اور اس کے لیے جدوجہد کی اور حسبِ زعم شیعہ اس کوشش میں مہاجرین و انصار کے گھروں میں حسینؓ کو ساتھ لیے در بدر پھرتے رہے یا صرف جناب امیرؓ پر اتہام و بہتان ہے ہم جنابِ ممدوح کے چند اقوال نہج البلاغۃ سے پیش کرتے ہیں اول وہ خطبہ جو جناب امیرؓ نے عباسؓ اور ابو سفیانؓ کے خطاب میں فرمایا جب انہوں نے آپ سے بیعت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
1: نہج بلاغۃ: صفحہ، 27، 47 مطبوعہ مصر میں ہے:
يايها الناس شقوء امواج الفتن بسفن النجاة و اعرضوا عن طريق المنافرة وضعوا عن تیجان المفاخرة افلح من نهض بجناح او استسلم فاراح هذا ماء أجن ولقمة يغص بها أكلها ومجتنى التمرة بغير وقت ايناعها بغير ارضه۔
ترجمہ: اے لوگو! فتنہ کی موجوں کو نجات کی کشتیوں میں طے کرو اور مسلمانوں میں منافرة (مخالفت) پیدا کرنے کا طریق چھوڑ دو اور فخر و غرور کے تاج اتار دو کامیاب وہ ہے کہ وہ قوتِ بازو پر کھڑا ہو یا اطاعت کر کے آسائش حاصل کرے، یہ تلخ پانی ہے اور ایسا لقمہ کے کھانے والے کا گلا پکڑتا ہے جو شخص میوه کو تیار ہونے سے پہلے توڑتا ہے وہ ایسا ہے کہ گویا دوسرے شخص کی زمین میں کھیتی کرے۔
اس خطبہ میں جناب امیر رضی اللہ عنہ اپنے دعویٰ خلافت کو قبل از وقت تصور کرتے ہیں۔ 2: نہج البلاغت: صفحہ، 216 میں ہے:
وَأَنَا لَكُمْ وَزِيْراً خَيْرٌلَّكُمْ مِنِّى أَمِيرًا۔
ترجمہ: میرا وزیر رہنا تمہارے لیے میرے امیر ہونے سے بہتر ہے۔
اس کلام سے صاف ظاہر ہے کہ آپ خلافت و عمارت کے ہرگز خواہاں نہ تھے اور آپ نے صاف فرما دیا کہ خلفائے ثلاثہؓ کی وزارت کو میں اپنی عمارت و خلافت پر ترجیح دیتا ہوں۔
3: نہج البلاغۃ: صفحہ، 519، 347، مطبوعہ مصر میں ہے:
وَاللَّهِ مَا كانَتْ لِی فِی الْخَلَافَةِ رَغْبَةً وَلَا فِی الْوَلَايَةِ ارْبَةً وَلَكِنَكُمْ دَعَوْتُمُونِی إِلَيْهَا وَحَمَّلْتُمُونِی عَليْها۔
ترجمہ: خدا کی قسم مجھے خلافت کی خواہش نہ تھی البتہ تم نے مجھے خلافت کی طرف بلایا اور اس پر مجھے برا نگیختہ کیا۔
اس کلام سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے وقت میں بھی خلافت اپنی خواہش سے قبول نہیں کی بلکہ آپ کو مجبوراً دوسروں کے اصرار سے منصبِ خلافت اختیار کرنا پڑا اگرچہ اس بارہ میں اور بھی جناب امیرؓ کے اقوال موجود ہیں مگر چونکہ خطبات مسطوره بالا سے ہمارا دعویٰ پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے اس لیے بخوفِ طوالت باقی اقوال کو ترک کیا جاتا ہے پھر جب اس قدر تحقیق سے اقوالِ صریحہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ آپ خلافتِ بالافصل تو کیا بلکہ اپنے وقت کی خلافت کے بھی چنداں خواہاں نہ تھے بلکہ قوم نے آپ کو اس کے لیے انتخاب کر کے ان کو تختِ خلافت پر متمکن ہونے کے لیے مجبور کر دیا تھا اور آپ انکار نہ کر سکے تھے تو یہ امر کے آپ کو خلافتِ بلافصل حاصل کرنے کا اس قدر اشتیاق تھا کہ اس کے چھن جانے پر عوام کی طرح اپنی بیوی بچوں کو ہمراہ لے کر مہاجرین و انصار کے در بدر پھرتے رہے بالکل روافض کی گھڑت ہے اور تنقیح سوم بھی ہمارے حق میں خلافِ شیعہ ثابت ہے۔