ایک مصیبت زدہ عورت
علی محمد الصلابیایک دفعہ قحط سالی والے سال ایک عورت بصرہ آئی، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، سال بھی نہیں گزرا کہ ان کا انتقال ہو گیا، اور اس نے ان دونوں کو دفن کر دیا اور دونوں کی قبر کے درمیان بیٹھ کر کہنے لگی:
فللّٰہ عینای اللذان نراہما قریبین منی و المزار بعید
’’اللہ کی قسم میرے انھی دونوں نور نظر نے جن کو ہم اپنے سے قریب دیکھتے ہیں جب کہ گھر دور ہے۔‘‘
ہما ترکا عینيّ لا ماء فیہا و شکا سواد القلب فہو عمید
’’میری دونوں آنکھوں کا آنسو خشک کر دیا، اور دل کو بہت تکلیف پہنچائی ہے چنانچہ وہ بہت رنجیدہ ہے۔‘‘
مقیمان بالبیداء لا یبرحانہا و لا یسألان الرکب أین یرید
’’یہ دونوں چٹیل میدان میں پڑے ہیں آنے والے قافلوں سے پوچھ بھی نہیں سکتے کہ کہاں جا رہے ہو۔‘‘
اس کو بتایا گیا کہ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاکر اپنی پریشانی بیان کرو، چنانچہ وہ آپ کے پاس پہنچی اور کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچیرے بھائی! نہ تو میں کسی رشتہ دار کے پاس ہوں جو میری حفاظت کرے، اور نہ ہی قبیلے کے پاس جو مجھے پناہ دے، میں ایسے شخص کا پتہ چلا رہی تھی جس سے توقع قائم کی جاسکے، جس کے عطیہ کی امید کی جاسکے، جو مانگنے والے کو دیتا ہو، چنانچہ آپ کی جانب میری رہنمائی کی گئی، اس لیے میرے لیے تین میں سے کوئی ایک کام کر دیجیے، یا تو میری پریشانی ختم کر دیں، یا اچھا عطیہ دیں، یا مجھے میرے اہل وعیال تک پہنچا دیں، عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمھاری تینوں خواہشیں پوری کی جائیں گی۔
(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 358)