بیعت کے متعلق شیعہ کے دو مختلف قول
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کا ایک قول تو یہ ہے کہ جناب امیرؓ کو بذلت و رسوائی باندھ کر کھینچ گھسیٹ کر لے گئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر ابوبکرؓ کے ہاتھ میں دیا گیا اور اس طرح رسمِ بیعت بزور ادا ہوئی جیسا کہ جلاءُ العيون اردو: جلد، 1 صفحہ، 145 میں رسن بگردن گھسیٹ کر لے جانے کے واقعات کو لکھنے کے بعد یوں لکھا ہے پس خالد بن ولید دوڑا اور تلوار غلاف سے کھینچ کر کہا باخدا سوگند اگر بیعت نہ کرو گے تو میں تم کو قتل کروں گا جناب امیرؓ نے گریبان اس شقی کا پکڑ کر حرکت دی اور دور پھینک دیا کہ اس ہاتھ سے تلوار بھی گر پڑی ہر چند سعی کی مگر جناب امیرؓ نے بیعت کو ہاتھ دراز نہ فرمایا پس حضرت کا ہاتھ پکڑ لیا اور ابوبکرؓ نے دستِ نجس دراز کر کے حضرت کے ہاتھ تک پہنچایا۔ غور طلب اور عجیب بات یہ ہے کہ شیعہ حضرات جناب امیرؓ کی شجاعت کے بھی کرشمے دکھاتے جاتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا گریبان پکڑ کر آپ نے ایسی حرکت دی کہ تلوار گر پڑی لیکن آخر کار جناب موصوف کو ایسا مغلوب بنایا جاتا ہے کہ زور سے ان کا ہاتھ پکڑ لیا گیا اور ابوبکرؓ کے ہاتھ میں دے دیا گیا بہرحال اس روایت نے واقعہ بیعت کو جناب امیرؓ کی بے بسی اور مجبوری کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن شیعہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ آپ نے ایک مصلحت سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت بخوشی قبول کر لی۔
(شرح البلاغت مصنفہ سلطان محمود طبرسی: جلد، 2 میں ہے روی انہ كانت وجوه الناس الى على عليه السلام فلما ماتت فاطمه انصرفت وجوه الناس عنه وخرج من بيته فبايع ابابكر۔
ترجمہ: روایت ہے کہ پہلے لوگوں کی توجہ امیر کی طرف تھی جب سیدہ فاطمہؓ فوت ہوئیں تو لوگوں کی توجہ کم ہو گئی تو آپ اپنے گھر سے نکلے اور بیعت ابوبکر کر لی)
چنانچہ فروعِ کافی: جلد، 3 کتاب الروضہ: صفحہ، 139، میں یوں درج ہے:
عَنْ زَرَارَة عن ابى جَعْفَر عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ إِنَّ النَّاسَ لَمَّا صَنَعُوا إِذْ بَايَعُوْ أَبَا بَكْرٍ لَمْ يَمْنَعُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ أَنْ يَدْعُوا إِلَى نَفْسِهِ إِلَّا نَظْرَ للنَّاسِ وَتَحَرقا عَلَيْهِمْ أَن يَرْتَدُوا عَنِ الاسلام فَيَعْبُدُ الْأَوْثَانَ وَلَا يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهَ وَكَان عندهُ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى مَا صَنَعُوا مَنْ أَن يَرْتَدَوْا عَنْ جَمِيعِ الْإِسْلَامِ وَأَنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ رَكَبُوا فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَ دَخَلَ فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ عَلَى غَيْرِ عِلْمٍ وَلَا عَدَاوَةٍ لَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ علَى غَيْرِ عِلْمٍ وَلَا عَدَاوَةٍ لَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنْ ذَلِكَ لَا يُكْفِرهُ وَلَا يُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ فَذَلِكَ كَتَمَ عَلَى عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمْرَهُ وَبَايَعَ مُكْرَهًا حَيْثُ لَمْ يَجِدُ أَعْوَانًا۔
ترجمہ: زرارہ نے سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا لوگوں نے جب یہ بات کی کہ بیعت ابوبکرؓ کی کر لی تو امیر المؤمنینؓ کے لیے اور کوئی امر اس سے مانع نہ تھا کہ اپنی بیعت کی طرف سے لوگوں کو بلاتے، سوائے اسکے کہ آپ کو خوف ہوگیا تھا کہ اگر بیعت ابوبکر صدیقؓ سے ہٹا کر اپنی بیعت کی طرف بلائیں تو لوگ اسلام ہی سے پھر جائیں اور رسالتِ محمدﷺ سے منکر ہو جائیں، اور آپ اس بات کو زیادہ پسند کرتے تھے کہ ان کو اس بیعتِ ابوبکرؓ پر ٹھہرا رہنے دیں، اس سے کہ وہ سرے سے اسلام ہی چھوڑ بیٹھیں اور بہر حال وہ لوگ ہلاک ہوگئے جو بیعت ابوبکرؓ پر متفق ہوگئے ہاں جو لوگ اس منصوبہ میں شامل نہ تھے اور لوگوں کی دیکھا دیکھی بغیر علم و عداوت امیر المومنینؓ اس میں داخل ہو گئے، وہ کافر نہیں ہوئے اسلام سے خارج ہوۓ ہیں یہی وجہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے خلافت کے استحقاق کو چھپا رکھا اور مجبور ہو کر بیعت کر لی جبکہ اپنے مددگار نہ دیکھے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جناب امیر المؤمنین نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیعتِ ابوبکرؓ پر متفق ہو گئے ہیں اور آپ کا ساتھ بالکل چھوڑ دیا گیا ہے اور حالت ایسی نازک ہو گئی کہ اگر بیعتِ ابوبکرؓ سے منحرف ہو کر آپ اپنی بیت منوانا چاہیں تو لوگ اسلام ہی کو خیرآباد کہہ دیں تو آپ نے اپنے استحقاقِ خلافت کو اپنے سینے ہی میں مخفی رہنے دیا لوگوں کو ہرگز اپنی خلافت کا استحقاق نہیں جتایا اور مصلحتاً خود بھی بیعت کر لی نہ کسی نے آپ کو مار پیٹ کی نہ کوئی ناگوار قضیہ پیش آیا آپ نے عین مآل اندیشی سے وقت کی نزاکت کو محسوس کر کے اپنی بیعت کے لیے کسی فردِ بشر کو نہیں کہا بلکہ بطيبِ خاطر خود بیعت کر لی ایسے متعارض اقوال کے ہوتے ہوئے شیعہ اپنے دعویٰ میں کامیاب نہیں رہتے بلاشبہ تنقیح چہارم بھی بحقِ اہلِ سنت الجماعت خلاف اہلِ تشیع ثابت ہو جاتی ہے۔