صفہ اسلامک آنلائن ریسرچ سنٹر کے مفتیان کرام سے ادارہ دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ کے چند سوالات اشکالات اور گزارشات
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓصفہ اسلامک آنلائن ریسرچ سنٹر کے مفتیان کرام سے ادارہ دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ کے چند سوالات اشکالات اور گزارشات
آپ نے اپنے صفہ دارالافتاء نامی واٹس گروپ میں دو سوالوں کے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ
"جواب سے پہلے بطور تمہید کے یہ سمجھ لیں کہ اہل تشیع کے بعض گروہوں کےعقائد باطل اور گمراہ ہیں اور بعض کے کفریہ، اس لیے ان سے بلا ضرورت قلبی اور برادارنہ تعلق رکھنا درست نہیں بالخصوص جبکہ ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی وجہ سے اپنے عقائد خراب ہونے یا ان کے عقائد فاسدہ کی برائی دل سے نکلنے کا خطرہ ہو ۔البتہ اگر کبھی کبھار ان کے گھر سے کوئی کھانے کی چیز آجائے تو اگر ان کی امدنی حلال ہو اور کھانے میں کوئی حرام اور ناپاک چیز شامل نہ ہو تو اس کا کھانا جائز ہوگا اب اپنےدونوں سوالوں کا جواب بالترتیب ملاحظہ کرلیں:"
مفتیان کرام۔۔!
آپ نے اس تمہید میں جو فرمایا ہے آپ شیعہ کے ان بعض گروہوں کی نشان دہی فرما دیں کون کون سے ہیں؟؟ اور پاکستان میں کون سا گروہ پایا جاتا ہے؟ ان کا حکم کیا ہے؟؟
کیا آپ نے جواب دیتے ہوئے شیعہ مذہب کی بنیادی کتب کا مطالعہ کیا ہے؟ یقیناً نہیں کیونکہ آپ کے جواب سے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ شیعہ کے عقائد و نظریات سے واقف نہیں ہیں۔ اگر مکمل طور پر شیعہ کے عقائد و نظریات سے واقف ہوتے تو شیعہ کے متعلق اس قدر نرم گوشہ کبھی نہ رکھتے۔
مفتیان کرام۔۔!
آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ
آپ نے جو بعض گروہوں کا کہا، اب فتویٰ پوچھنے والے ان کی پہچان کیسے کریں گے؟ اگر خود پہچان کر سکتے تو فتویٰ لینے کیلئے آپ کی ضرورت ہی کیوں پڑتی؟؟
اس وقت پاکستان میں بلکہ ایران، انڈیا، عراق، شام، مصر اور کئی ممالک میں جو شیعہ پائے جاتے ہیں عموماً شیعہ اثناء عشری ہی ہیں۔ اس کے علاوہ جو دیگر شیعہ ہیں جن میں اسماعیلی، نصیری، بوہری وغیرہ شامل ہیں ان کے ساتھ بھی معاملات قطعاً ناجائز ہیں کیونکہ یہ زندیق کے حکم میں ہیں۔
فتاویٰ مفتی محمود میں آپ پاکستانی شیعہ کے بارے پڑھ سکتے ہیں۔
دوسری بات!
آپ نے جواب دیا کہ "اگر کبھی کبھار ان کے گھر سے کوئی کھانے کی چیز آجائے تو اگر ان کی آمدنی حلال ہو اور کھانے میں کوئی حرام اور ناپاک چیز شامل نہ ہو تو اس کا کھانا جائر ہو گا"
مفتیان کرام
کیا قادیانیوں کے گھر سے بھی اگر انہی حدود و قیود سے کھانا آجائے تو اس کو کھانا جائز ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں نہیں اور وجہ بتاتے ہیں کہ قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں تو آپ کو یقیناً اس بات کا علم ہوتا اگر آپ اہل علم میں سے ہوتے کہ تمام شیعہ بارہ اماموں کو مانتے ہیں، یہ ماننا عام ماننا نہیں بلکہ شیعہ ان بارہ اماموں کو انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل اور معصوم مانتے ہیں اسی وجہ سے چودہ سو سال کے تمام علمائے محققین نے شیعہ کو ختمِ نبوت کا منکر لکھا ہے۔ قادیانیوں نے ایک کو نبی مانا تو آپ ان کے گھر کا کھانا حرام کہتے ہیں اور شیعہ بارہ کو انبیاء سے افضل اور انبیاء کی طرح معصوم مانتے ہیں تو کیسے آپ ان کی کمائی یا ان کا کھانا مسلمانوں کیلئے جائز ہونے کا فتویٰ دے رہے ہیں؟؟؟؟
آپ نے تمہید کے بعد پہلا جواب تحریر فرمایا کہ
١ ۔ اگر اہل تشیع پڑوسی ہونے کے ناتے کبھی پھل یاسبزی بطور ہدیے کے دے دیں تو اس کا لینا اور استعمال کرنا جائزہے ،البتہ اگر کسی معتبر ذرائع سے معلوم یہ ہوجائے کہ ان کا ہدیہ دینے سے مقصود اپنے مذہب کی محبت دل میں بٹھانا ہے تو پھر کوئی ایسی حکمتِ عملی اپنائی جائے کہ جس سے وہ ہدیہ نہ دے۔
مفتیان کرام۔۔۔!
پھل اور سبزی لینا کیسے جائز ہے؟؟ کیا قادیانی پڑوسی کے لیے بھی آپ کا یہی حکم ہے؟ آپ قادیانیوں سے بھی سبزی اور پھل لے سکتے ہیں؟؟
افسوس کی بات ہے صفہ دارالافتاء کے مفتیان صاحبان یہاں معاملات کے شرعی احکام کے تحت مرتد کے بارے شرعی حکم بیان کیا جائے۔
کیا آپ قادیانیوں کو مرتد سمجھتے ہیں؟ کیا آپ اسی طرح اثناء عشریہ کو مرتد کے حکم میں نہیں سمجھتے؟؟؟ کما صرح الفقہاء فی کتبہ
دوسری بات۔۔!
تقیہ شیعہ کے دین کا 9/10 حصہ ہے تو فتویٰ پوچھنے والے ان کی نیت کی خبر کون سے معتبر ذرائع سے لے سکتے ہیں؟
مفتیان کرام آپ نے دوسرا جواب تحریر فرمایا ہے کہ
٢ ۔ اہل تشیع کے تہوار اور مذہبی تقریبات ومجالس چونکہ ان کے خاص مذہب کی تائیدکے لیے ہوتی ہیں اور ان کے خیرات اور نذرو نیاز عام طور پر غیر اللہ کے لیے ہوتی ہے اور اس کو باعث ثواب سمجھتے ہیں لہٰذا اس کا کھانا جائز نہیں، اگر یہ نیاز اللہ کے نام پر بھی ہو تو پھر بھی دیگر بہت سی خرابیوں کی وجہ سے اس کھانے سے اجتناب کریں اور اچھے انداز سے ان سے معذرت کر لیں ۔تاہم اگر کسی طرح ان تقریبات کی اشیاء گھر میں آجائیں تو انہیں کسی فقیر کو دے دیا جائے۔
مفتیان کرام..!
جیسے ہر مسلمان کا ایمان عزیز ہے تو کیا اس فقیر کا ایمان کسی قیمت کا نہیں؟ آپ فرما رہے ہیں اس فقیر کو دے دیا جائے جبکہ شیعہ کھانے میں تھوک اور نجاست ملا کر دیتے ہیں اس پر درجنوں مثالیں موجود ہیں اور فتاویٰ محمودیہ میں بھی واضح لکھا ہے کہ شیعہ کھانے میں نجاست ملاتے ہیں۔
شیعہ کھانے میں تھوک ملانے کو سنت سمجھتے ہیں اور اہلِ سنت کے کھانے میں نجاست ملانے کو باعثِ ثواب سمجھتے ہیں۔
اور اپنے عقیدہ تقیہ کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنے عقائد پر مطلع بھی نہیں ہونے دیتے۔
مفتیان کرام!
جواب دوم میں آپ کا مسئلہ آپ کی ہی تمہید کے برعکس ہے، براہ مہربانی موجودہ دور کے تمام شیعہ جو کہ اثناء عشریہ ہیں ان کے حکم پر سوال کا جواب دیا کریں یا پھر جو آپ جواب دیتے ہیں اس کی دلیل و ثبوت قرآن وحدیث اور چودہ سو سالہ محدثین و فقہاء کرام، اور محققین علماء و مفتیان کرام رحمہم اللہ سے ثابت شدہ مسئلہ بیان کیا کریں تاکہ آپ جن کو جواب دیتے ہیں وہ اچھی طرح مطمئن ہو سکیں۔ آپ سے جواب لینے والے جب سوشل میڈیا پر شیعہ کے نہایت کفریہ عقائد دیکھتے اور پڑھتے ہیں تو آپ کے جوابات کو مشکوک قرار دیتے ہیں۔
منجانب:- ٹیم www.sunnilibrary.com