Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

روایات اہلِ سنت اس بارے میں مختلف ہیں اکثر روایات میں یوں ہے کے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حضورِ اکرمﷺ نے پہلے ہی سے امیر حج مقرر فرما کر بھیجا تھا بعد ازاں سورت برأت کا نزول ہوا تو آپﷺ نے اس کی تبلیغ کے لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو روانہ فرمایا اس سورت میں معترض کا اعتراض سرے سے ہی غلط ٹہرتا ہے کہ جس کام کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے یعنی مناسکِ حج کی تعلیم کے لیے وہ کام آخر تک انہوں نے ہی انجام دیا اور سیدنا علیؓ کو جس ڈیوٹی پر بعد میں روانہ کیا گیا آپ نے ادا کی اس میں اعتراض ہی کیا ہو سکتا ہے؟ دوسرا قول (بیضاوی عدارک زاہدی تفسیر نظام منشا پوری جذبات القلویہ شرح مشکوٰۃ میں یہی روایت اختیار کی گئی ہے) یہ ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ امیرِ حج مقرر کر کے روانہ کیے گئے تو یہ کام بھی آپ کے سپرد کیا گیا کہ سورت برأت کے احکام کی تبلیغ کر دی جائے لیکن بعد میں سیدنا علیؓ کو دوسرے کام کے انجام دہی کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہاتھ بٹانے کے لیے روانہ کیا گیا جو انہوں نے بما تختی سیدنا ابوبکر صدیقؓ انجام دیا عادت عرب یہ تھی کہ جب کوئی معاہدہ کرنا یا اس کو توڑنا ہوتا اور صلح یا جنگ کا معاملہ درپیش ہوتا وہ ایسے شخص کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوسکتا تھا جو بادشاہ کی قوم میں سے اس کا فرزند یا داماد ہو دوسرا کوئی شخص خواہ کی اتنی بڑی شخصیت رکھتا ہو اس کام کے لیے منتخب نہیں ہو سکتا تھا یہی وجہ ہے کہ سورۃ برأت میں اس امر کا اعلان مقصود تھا کہ سابقہ معاہدات ختم ہو چکے اب مشرکین کو مسجد نبوی اور حرم محترم میں داخلہ کی اجازت نہیں ہے اس لیے یہ فرض بغیر سیدنا علیؓ کے جو آپﷺ کے عم زادہ بھائی اور داماد تھے اور دوسرے سے ہوتا تو کفار کا حسبِ دستور اعتراض ہوتا کہ اگر ایسا اعلان مقصود تھا تو کسی شاہی خاندان کے خاص آدمی کے ذریعے اس کا اعلان کیوں نہیں کیا گیا کفار کے اس عذر کے دفع کرنے کے لیے سیدنا علیؓ کو اس ڈیوٹی کے انجام دہی کے لیے بھیجا گیا اس میں قابلیت عدمِ قابلیت کا کوئی سوال نہیں ہے اگر حضورﷺ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے قابلیت نہ پاتے تو ابتداء میں آپ ان کا کام اس کے لیے کیوں انتخاب فرماتے بے شک ان سے بھی بڑے بڑے ذمہ داری کے کاموں کے لیے آپ صدیقِ اکبرؓ ہی کا انتخاب پسند فرمایا کرتے تھے اور یہاں بھی جو کام سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے سپرد کیا گیا وہ بہت بڑا اہم اور ذمہ داری کا کام تھا کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ لاکھوں نفوس کے سردار قرار دیئے گئے جا کر احکامِ حج کی تبلیغ اور انتظام کے لیے بھیجے گئے تھے اور جس قدر واقعات و حوادث وہاں رونما ہونے والے تھے اس ان سب کا تصیفہ و فصلِ خصومات کا کام صدیقِ اکبرؓ کے سپرد تھا جس قدر شرعی مسائل پیش آنے والے تھے سب کا فتویٰ آپ نے صادر کرنا تھا ایسے کام کے لیے ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو بڑا مجتہد بڑا منتظم بڑا ہی مدبر اور سلیم العقل ہو بخلاف اس کے سورت برأت کی چند آیات بآآواز بلند پڑھ کر سنا دینا ایک معمولی کام تھا جو ہر ایک حافظِ قرآن جہیر الصوت اس کو پورا کر سکتا تھا اس لیے قیاس نہیں ہو سکتا کہ امارتِ حج کا عظیم الشان کام انجام دینے کے قابلیت جس شخص میں تھی وہ ایک سورۃ قرآن کے جابجا سنا دینے کے قابل نہیں غرض اس سے نہ تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے نہ اس سے سیدنا علیؓ کو آپ پر کوئی فضیلت ثابت ہوسکتی ہے کتبِ حدیث سے سیر سے ثابت ہے کہ اس موقعہ پر جناب امیر رضی اللہ عنہ ہر ایک امر میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اقتداء کرتے تھے نماز ان کے پیچھے ادا کرتے تھے اور مناسک حج میں بھی ان کے متابعت فرماتے تھے کتبِ حدیث میں بھی یہ تصریح ہے کہ جناب امیر رضی اللہ عنہ بسواری ناقہ قطع مسافت کر کے بعجلت تمام حضرات ابوبکر صدیقؓ کے پاس جا پہنچے تو آپ نے پوچھا: اَمِیْراً جِئْتَ اَمْ مَامُوْراً۔

ترجمہ: کیا آپ امیر ہو کر آۓ ہیں یا مامور ہو کر؟ آپ نے جواب میں فرمایا: جِئْتُ مَامُوْراً میں آپ کے ماتحت مامور ہو کر آیا ہوں۔ 

خلاصہ: یہ کہ امیر الحج کے ذمہ جو چند لاکھ نفوس کے سردار تھے اتنا بڑا کام تھا کہ ان سے اصالتاً سورۃ برأت کا جا بجا ہر خیمہ اور ڈیڑہ میں جا کر سنانا متعزر تھا اسی لیے اس کام کے لیے علیحدہ شخص کا مقرر ہونا ضروری تھا چنانچہ جناب امیرؓ نے یہ کام بوجہ احسن پورہ کیا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیا اور یوں حضورﷺ کی نیابت کا پورا پورا حق ادا کیا پھر کتنی بڑی بے انصافی ہے کہ ان ہر دو اصحاب میں سے کسی ایک کی بے قدری کی جائے۔