عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: آپ علم کیوں حاصل کرتے ہیں ؟ جواب دیا: نشیط ہونے کی صورت میں علم میری لذت ہے، اور مغموم ہونے کی حالت میں میری دلجوئی ہے۔
(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 332، تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 364)
عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: آپ علم کیوں حاصل کرتے ہیں ؟ جواب دیا: نشیط ہونے کی صورت میں علم میری لذت ہے، اور مغموم ہونے کی حالت میں میری دلجوئی ہے۔
(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 332، تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 364)