Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت محمدﷺ نے شیخین کریمینؓ کو ایک دفعہ عمر بن العاص رضی اللہ عنہ اور ایک دفعہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت فرما کر ان کے تابع حکم گردانا اگر وہ خلافت و امامت کے قابل ہوتے تو ایسی معمولی اشخاص کے تابع حکم نہ گردانے جاتے۔

جواب: اس طعن کا جواب دو طرح پر ہے ایک یہ کہ اعتراض تب ہو سکتا ہے کہ شیعہ صاحبان عمر بن العاص رضی اللہ عنہ یا اسامہؓ کی فضیلت کے قائل ہوں حالانکہ اس بات کے وہ بھی قائل نہیں ہیں پھر اعتراض کیسا؟ 

دوم: یہ کہ کسی خاص امر پر کسی بڑے آدمی کو کسی چھوٹے کے ماتحت رہ کر کام کرنے پر مامور کرنا اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ سلطان یا بادشاہ کی نظر میں وہ بڑا آدمی حقیر، اور چھوٹا اس سے زیادہ عزت رکھتا ہے یہ قاعدہ کی بات ہے کہ بادشاہ کو جب کبھی کسی آدمی کو بڑے رتبہ پر کرنا منظور ہوتا ہے پہلے اس کو کام سکھانے کے لیے کسی چھوٹے اہلکار کے ماتحت کر دیا جاتا ہے مثلاً ایسے ذی عزت خاندانی اشخاص کوسول میں پہلے پٹواری کے ماتحت کام سیکھنا پڑتا ہے ایسے ہی جو شخص صیغہ فوج میں ڈائرکٹ کمیشن حاصل کر کے جمعدار یا صوبیدار یا لیفٹیننٹ گھر سے ہی بھرتی کیا جاتا ہے اس کو کسی معمولی حوالدار کے ماتحت قواعد پریڈ سکھائی جاتی ہے لیکن یہ ہرگز خیال نہیں ہو سکتا کہ بادشاہ کی نگاہ میں پٹواری یا حوالدار کو ای، آئی، سی یا فوجی سردار پر فوقیت یا فضیلت حاصل ہے بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضورﷺ کی نگاہ میں جب شیخین کریمینؓ نے ایک وقت امامت و خلافت حاصل کرنی تھی اس لیے ان کو ماتحتی کی ڈیوٹی پر لگایا گیا تاکہ کام کی مشق اور ریاضت و تجربہ حاصل ہو اور تابع رہ کر ان کو اپنے زمانہ اقتدار متبوعیت میں ماتحتوں اور تابعین فرمان کی بھی قدر و منزلت ہو۔ 

سوم: سیدنا اسامہؓ عمر بن العاصؓ کی امارت ایک جزوی مصلحت کی وجہ سے تھی اور وہ یہ کہ روم و شام نے اسامہؓ کے باپ زیدؓ کو جنگِ موتہ میں بے دردی سے قتل کر دیا تھا اس کا انتقام اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ مقتول کا فرزند اسامہؓ خود اپنے باپ کا بدلہ لے کر دل ٹھنڈا کرے اس طرح عمرو بن العاصؓ منصوبہ اور تدبیر میں طاق تھے اور اس وقت ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا تھا جو بڑے مکار اور حیلہ جو تھے اس لیے اس کے مقابلے کے لیے ایسے ہی شخص کی ضرورت تھی جو اس فن (تدبیر امور) میں مہارت رکھتا ہو۔ 

چہارم: اگر اس خاص امارت سے فضیلت ثابت ہو سکتی ہے تو پھر جناب امیرؓ پر ان کی فضیلت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ جب حضورﷺ نے ان سے افضل علیؓ کو چھوڑ کر اسامہؓ و عمرو بن العاصؓ کو امیر بنا کر بھیجا غرض یہ طعن محض جہالت کی وجہ سے کیا گیا ہے جس کی کوئی وقعت نہیں ہے نہ اس سے شیخین کریمینؓ کی تنقیص پر دلیل ہو سکتی ہے نہ افضلیت امیر ثابت ہوتی ہے۔