Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی وفات

  علی محمد الصلابی

عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے سال سے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بخاری (البخاری فی تاریخہ الصغیر: صفحہ 73)

اور فسوی (المعرفۃ و التاریخ: جلد 3 صفحہ 322)

نے کہا کہ آپؓ کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی۔

(تاریخ الإسلام: حوادث سنۃ:  جلد 81 صفحہ 100 ھـاشیہ صفحہ 147)

خلیفہ بن خیاط (فی تاریخہ صفحہ 225)

وغیرہ کا قول ہے کہ آپؓ کی وفات 58ھ میں ہوئی۔

(تاریخ الإسلام حوادث سنۃ: جلد 81 صفحہ 100  ھ صفحہ 147)

ابوعبید اور ابوحسان زیادی کا قول ہے کہ آپ کی وفات 87ھ میں ہوئی۔

(تاریخ الإسلام: حوادث: جلد 81 صفحہ 100 ھ صفحہ 147)

ایک قول کے مطابق آپ کی وفات یزید کے زمانہ میں ہوئی اور یہی اکثر لوگوں کا قول ہے۔ آپ کی موت مدینہ میں ہوئی۔ دوسرے قول کے مطابق یمن میں۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔

(أسد الغابۃ: جلد 3 صفحہ 544)

عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھائیوں کی وفات میں ہمارے لیے عبرت اور زندہ دل لوگوں کے لیے نصیحت ہے، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما طائف میں دفن ہوئے، معبد رضی اللہ عنہ افریقہ میں شہید کیے گئے، قثم رضی اللہ عنہ سمرقند میں  اور عبیداللہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں دفن کیے گئے جب کہ وہ سب حقیقی بھائی تھے۔ فرمان الہٰی ہے 

 وَمَا تَدۡرِىۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا‌ وَّمَا تَدۡرِىۡ نَـفۡسٌۢ بِاَىِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ  اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ  ۞

سورۃ نمبر 31 لقمان آیت 34

ترجمہ: اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے، اور کسی متنفس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ کونسی زمین میں اسے موت آئے گی۔ بیشک اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھنے والا، ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔ 

 (تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 350)