پیارے رسولﷺ سے پیارے دوست کی آخری باتیں
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہروافض فضائل ابوبکر صدیقؓ کو کہاں تک چھپائیں گے ان کی کتابیں بھی آپ کے فضائل کے شاہد ہیں کتاب جلاءُ العیون اردو جلد، 1 صفحہ، 88 میں تصریح ہے کہ پیارے رسولﷺ سے آخری ہم کلامی کا جس شخص کو شرف حاصل ہوا وہ ابوبکر صدیقؓ ہوئی تھے۔ چنانچہ حضورﷺ نے تمام راز کی باتیں اپنے ہمراز یارِ غار ابوبکر صدیقؓ کو ہی بتلائیں زہے نصیب ابوبکرؓ زہے قسمت ابوبکرؓ کتاب مذکور صفحہ 88 میں یوں درج ہے:
ثعلبی نے روایت کی ہے کہ جس وقت مرضِ حضرت رسول اللہﷺ پر سنگین ہوا اس وقت ابوبکرؓ آئے اور کہا یا حضرت آپ کس وقت انتقال کریں گے حضرت نے فرمایا میری اجل حاضر ہے ابوبکرؓ نے کہا آپ کی بعض گشت کہاں ہے حضورﷺ نے فرمایا جانب سدرۃ المنتہیٰ و جنت الماویٰ رفیقِ اعلیٰ و عیش گوارا وجر عہاۓ شرابِ قرب حق تعالیٰ میری بازگشت ہے ابوبکرؓ نے کہا آپﷺ کو غسل کون دے گا آپﷺ نے فرمایا (میرے اہلِ بیتؓ) جو مجھ سے بہت قریب ہیں ابوبکرؓ نے پوچھا کس چیز میں آپﷺ کو کفن کریں گے حضرت نے فرمایا انہی کپڑوں میں جو میں پہنے ہوئے ہوں یا جامہائے یمنی و مصری میں ابوبکرؓ نے پوچھا کس طرح آپ پر نماز پڑھیں گے اس وقت جوش و خروش غلغلہ آواز مردم بلند ہوا اور در و دیوار کانپنے لگے حضرت ﷺ نے فرمایا صبر کرو خدا تم لوگوں سے عفو کرے۔
اس وجہ سے ثابت ہوا کہ رسول اللہﷺ آخری دم تک سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو اپنا صادق الوداد اور محرم راز دوست سمجھتے تھے کہ تمام راز و نیاز کی باتیں اسی خاص دوست سے فرمائیں۔
شیعہ غور کریں کہ آخری وقت میں رسول اللہﷺ نے ایک منافق کو بخش سکتے تھے کہ نہ علیؓ کو دیگر اہلِ بیتؓ کو اس امر کے لیے منتخب فرمایا بلکہ اپنے قدیم دوست پرانے تابعدار یارِ غار رضی اللہ عنہ کو ہی شرفِ عطاء ہوا سچ ہے:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خداۓ بخشدہ
اور جب حضرت ابوبکر صدیقؓ آخری دم تک پروانہ وار شمع جمال احمدی پر اپنی جان نثار کیے ہوئے تھے پھر کیوں کر ممکن تھا کہ نمازِ جنازہ رسول اللہﷺ سے غیر حاضر ہوں اب اس باطل کا طعن کما ینبغی قلع قمع ہوچکا۔ اب ہم شیعہ کے ایک اور مشہور طعن کے دفعیہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو تمام مطاعن کی بنیاد ہے۔