Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اپنے خاندان سمیت حبشہ سے مدینہ آنا

  علی محمد الصلابی

جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھ حبشہ کی جانب ہجرت کرنے والے فتح خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (حبشہ سے واپس) آئے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی اسماء اور بچے عبداللہ، عون اور محمد رضی اللہ عنہم تھے، ان کے آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نجاشی کے پاس سے لانے کے لیے عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا، چنانچہ وہ انھیں دو کشتیوں میں لے کر چلے، آپ کے پاس فتح خیبر کے دن پہنچے، جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلے کے دوسرے لوگ بھی آئے، چنانچہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: ہم یمن میں تھے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کی خبر ملی، آپ کی جانب ہجرت کرتے ہوئے میں اور میرے دو بھائی نکلے، میں سب سے چھوٹا تھا، ان دونوں میں سے ایک ابوبردہ تھے، دوسرے ابورُہم، ہم اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کے ساتھ نکلے، ہم سب کی تعداد ترپن یا باون تھی، ہم کشتی میں سوار ہوئے، کشتی نے ہمیں حبشہ کے نجاشی کے پاس پہنچا دیا، چنانچہ ہم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، ہم سب نے وہیں قیام کیا، پھر فتح خیبر کے وقت ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی: حدیث نمبر 4230، 4231، معین السیرۃ: صفحہ 253)