فدک کی تعریف
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہسو فدک جیسا کہ قاموس میں ہے ایک چھوٹے سے قریہ کا نام ہے جو خیبر کے نواح میں ہے اور جو یہود کے قبضے میں تھا جب حضرت محمدﷺ کی فتح خیبر سے واپس ہوئی تو محیصہ بن مسعود انصاری کو اہلِ فدک کے پاس آپ نے تبلیغِ اسلام کے لیے بھیجا اس بستی کا سردار یوسف بن نون نام ایک یہودی تھا یہودیوں نے حضورﷺ کے پاس صلح کا پیغام بھیجا اور صلح کے عوض فدک کی آدھی زمین دینی منظور کی اس وقت سے یہ باغ اسلام کے قبضے میں آیا چونکہ یہ جائیداد قبضہ اسلام میں بدوں لڑائی بطورِ صلح آئی تھی اس لیے اسے فَے کہتے ہیں اور فَے کے متعلق جو حکم قرآن میں ہے وہی قابلِ عمل ہوگا فی الحقیقت فدک کی کل کائنات چند کھجوریں ہیں جن کے متعلق اس قدر دوہائی مچائی جاتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خاتونِ جنت کی جائیداد چھین لی خاتونِ جنت نے مقدمہ بازی کی معتبر شہادت گزاری جو مسترد کی گئی اور دعویٰ خارج کیا گیا لیکن شیعہ کے نزدیک فدک ایک ملک کا نام ہے جو ایک لاکھ 24 ہزار روپے کی مالیت کا ہے یعنی اس کی آمدنی اتنی ہے۔
فدک کی حقیقت شیعی نقطہ خیال سے:
شیعہ کے معتبر کتاب اصولِ کافی: صفحہ، 355 میں ایک طولانی حدیث لکھی ہے جس میں حضرت ابو الحسن موسیٰ نے خلیفہ مہدی سے فدک کی واپسی کے متعلق مکالمہ کیا ہے اس میں لکھا ہے:
فقال لہ المھدی یا ابا الحسن حدھا لی فقال حد من ھا جبل احد وحد من ھا عریش مصر وحد من سیف البحر وحد من ھا دومۃ الجندل فقال لہ کل ھذا قال نعم یا امیر المومنین ھذا کلہ فقال کثیر وانظر فیہ۔
ترجمہ: مہدی نے کہا اے ابوالحسن کی حد بتائیے امام نے کہا ایک کنارہ اس کا کوہِ احد (فدک کے حدود جو شیعوں کے امام معصوم موسیٰ کاظم نے خلیفہ مہدی سے بیان کیں حسبِ تشریح کتبِ شیعہ یوں ہیں ایک حد کوہِ احد ہے جو مدینہ منورہ سے قریباً تین میل مشرق کی جانب ہے دوسری حد عریش مصر ہے جو شام سے مصر کے راستے میں بحرِ روم کے کنارے عین سرحد مصر پر ہے (معجم البلدان الیاقوت) تیسری حد کنارہِ بحر جس کا اطلاق اکثر بحرِ عمان کے کنارے پر ہوتا ہے (صافی شرح کافی) چوتھی حدودمۃ الجندل ہے جو دمشق سے جنوب کو پانچ دن کی مسافت پر ہے اور مدینہ منورہ سے 15، 16 دن کی راہ پر ہے) اور دوسرا عریش مصر ایک گوشہ سمندر اور دوسرا دومۃ الجندل مہدی نے کہا کیا یہ سب فدک ہے امام نے کہا ہاں خلیفہ نے کہا یہ تو ایک ملک ہے اور میں اس بارے میں غور کروں گا۔
شیعہ کی اس حد شماری سے جو امام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے فدک آدھی دنیا کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ شیعہ کہا کرتے ہیں کہ فدک لاکھوں کی جائیداد تھی جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے دبا لی۔
اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ کیا رسول اللہﷺ دنیا طلبی کے لیے معبوث ہوئے تھے کہ نبوت کے لیے اقتدار سے جن ممالک پر قبضہ ہوا وہ سب دختر نیک اختر کے حوالہ کر دیا مخالفینِ اسلام اس بارے میں کیا کہیں گے کہ تمہارے رسول نے دعویٰ رسالت اس لیے کیا تھا کہ ملک ملک اینٹھ کر بہو بیٹیوں کے حوالے کرتے جائیں غور کرو اور پھر غور کرو ہمارے رسول اللہﷺ اور آپ کے اہلِ بیتؓ کی تو یہ حالت تھی کہ باوجود شہنشاہِ اعظم ہونے کے تین تین روز فاقے سے گزارتے تھے اور گیہوں کی روٹی کھانے کو نہ ہوتی تھی پھر جب آپﷺ کی وفات ہوئی تو آپﷺ کی زرا چند درہم کے عوض ایک یہودی کے پاس گروی تھی لاریب آپ کی صداقت کی یہی بڑی دلیل ہے آپ نے دولت دنیا کو ایک پریشہ کی وقعت نہ دے رکھی تھی اور آپ کے اہلِ بیتؓ بھی اس کے خوگر تھے کہ فاقے میں رہ کر یادِ خدا میں شب و روز مصروف رہتے تھے پیغمبر اسلام کے ذمے یہ ایک بہت بڑا افتراء ہے کہ آپ نے ایک بڑا ملک جو بغیر فوج کشی ہاتھ لگا فقراء مسکین امت کو محروم کر کے سارے کا سارا اپنی بیٹی کو دے دیا اور اس طرح لختِ جگر رسول فاطمہؓ پر یہ بہت بڑا بہتان ہے کہ آپ دنیائے حقیر کی اس قدر دلدادہ تھیں کہ متاع الدنیا کے لیے کچہریوں میں مقدمات لڑتی پھریں استغفر اللہ۔
فدک کے متعلق فیصلہ قرآن:
یہ عمر مسلمہ فریقین ہے کہ فدک مالِ فے تھا جو بغیر جنگ و جدال ہاتھ آیا تھا اس کے متعلق ہمیں قرآن پاک کی طرف رجوع کرنا چاہیے کہ مالِ فے کے متعلق قرآنی فیصلہ کیا ہے قرآن پاک میں پارہ 28 سورہ حشر میں ہے:
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ
(سورۃ الحشر: آیت 7)
لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ الخ۔
(سورۃ الحشر: آیت 8)
وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ الخ۔
(سورۃ الحشر: آیت 10)
ترجمہ: جو زمین اور جائیداد بطورِ فے اہلِ دیہات سے رسول کو ملی وہ خدا و رسول اور قرابت دارانِ رسول اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں اور فقراء مہاجرین اور ان سب مسلمانوں کے لیے (وقف) ہے جو آئندہ دنیا میں آئیں گے۔
اس آیت میں صریح فیصلہ موجود ہے کہ مالِ فے (جو بدوں لڑائی ہاتھ آئے) جب وہ غیر منقولہ ہو تو کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے بلکہ اس کے حقدار رسول اور قرابت دارانِ رسول کے علاوہ تمام مسلمان جو یتیم مسکین یا مسافر ہوں اور وہ مہاجرین محتاج جو اپنے گھروں سے جلا وطن کیے گئے اور جو آئندہ پیدا ہوں گے یکساں ہیں پھر شیعہ کا یہ خیال برخلاف فیصلہ قرآن کے (فدک مالِ فے) رسول اللہﷺ نے صرف سیدہ فاطمہؓ کی ملکیت میں دے دیا تھا نہ صرف قرآن کو ہی جھٹلانا ہے بلکہ حضورﷺ کے ذمے اتہام لگانا ہے کہ آپ نے حکمِ خداوندی پسِ پشت ڈال کر یہ مال وقف جو غریب مسلمانوں کا حق تھا اکیلا خاتونِ جنت کے قبضے میں دے دیا کیا فیصلہ قرآن سے بڑھ کر کوئی اور فیصلہ ناطق ہو سکتا ہے شیعہ جواب دے یا تو یہ ثابت کریں کہ فدک مالِ فے نہ تھا اور اگر یہ تسلیم ہے تو اس کے مصارف یہ لوگ کیوں نہیں جن کا ذکر آیتِ مذکورہ میں صراحت سے ہے۔
کیا فدک رسول اللہﷺ کی ذاتی جائیداد نہ تھی:
فدک کا سیدہ فاطمہؓ کی ذاتی جاگیر قرار دینے میں شیعہ کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کبھی کہتے ہیں فدک آپ کو بطورِ ہبہ ملا تھا اور کبھی کہتے ہیں کہ یہ وراثتاً ترکہ میں آیا لیکن یہ دونوں باتیں تب ثابت ہو سکتی ہیں کہ فدک رسول اللہﷺ کی ذاتی ملکیت ہوتی لیکن اس بات کا ثابت کرنا بالکل مشکل ہے اول تو یہ کہ آیتِ بالا اس کے مخالف ہے دوم یہ مانی ہوئی بات ہے کہ ذاتی جائیداد وہ ہوتی ہے جو کسی شخص کو وراثتاً ملے یا اس نے ذاتی کمائی سے اسے خریدا ہو یہاں دونوں باتیں مفقود ہیں نہ حضورﷺ کو آباو اجداد سے فدک ترکہ میں ملا اور نہ حضورﷺ نے اس کو اپنی کسی ذاتی آمدنی سے پیدا کیا یہ مسلم امر ہے کہ بادشاہ یا امام یا نبی کو جو جائیداد حکومت یا امامت نبوت کے اثر سے حاصل ہوئی ہو وہ بادشاہ یا امام یا نبی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی بادشاہ حکومت کے اقتدار سے جو ملک یا زمین یا سرحد فتح کرتا ہے وہ اس کی گورنمنٹ کی ملکیت ہوتی ہے نہ بادشاہ کی ذاتی جائیداد اور ایسی ہی جو اراضیات امام یا نبی کے قبضے میں آئی ہیں وہ اس کے وارثوں کو وراثت میں نہیں ملا کرتیں بلکہ اس کے خلیفہ یا جانشین کو ملا کرتی ہیں۔
علامہ شبلی رحمۃاللہ نے اس کے متعلق حسبِ ذیل ریمارک کیا ہے جو ہر ایک ذی بصیرت کے سمجھ میں آ سکتا ہے۔
یہ بحث اگرچہ طرفین کی طبع آزمائیوں میں بہت بڑھ گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بات نہایت مختصر تھی اور اب جب کہ سیاست مدن کے اصول زیادہ صاف اور عام فہم ہو گئے ہیں یہ مسئلہ اس قابل ہی نہیں رہا کہ بحث کے دائرے میں لایا جائے کیونکہ نبی یا امام یا بادشاہ کے قبضہ میں جو مال جائیداد ہوتی ہے اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک مملوکہ خاص جس کا حاصل ہونے میں نبوت اور امامت یا بادشاہت کے منصب کو کچھ دخل نہیں ہوتا مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام زرہ بنا کر معاش حاصل کرتے تھے جب بادشاہ عالمگیر قرآن لکھ کر بسر کرتا تھا یہ آمدنی ان کی ذاتی آمدنی تھی اور اس پر ان کو ہر طرح اختیار تھا دوسری مملوکہ حکومت مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام کے مقبوضہ ممالک جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضے میں آئے اس دوسری قسم میں وراثت جاری نہیں ہوتی جو شخص پیغمبری یا امامت یا بادشاہت کی حیثیت سے جانشین ہوتا ہے وہی اس کا مالک یا متولی ہوتا ہے یہ مسئلہ آج کل کے مذاق کے موافق ایک بدیہی بات ہے مثلاً سلطان عبدالحمید خان کے بعد ان کے ممالک مقبوضہ یا ان کی جاگیر خاصہ ان کے بیٹے بھائی ماں بہن وغیرہ میں تقسیم نہ ہوگی بلکہ جو تخت نشین ہوگا اس پر قابض ہوگا مذہبی حیثیت سے بھی مسلمانوں کے ہر فرقہ میں یہ قاعدہ مسلم رہا مثلاً جو لوگ باغِ فدک کو درجہ بدرجہ ائمہ عشر کا حق سمجھتے ہیں وہ بھی اس میں وراثت کا قاعدہ جاری نہیں کرتے مثلاً حضرت علی المرتضیٰؓ اپنے زمانہ میں اس کے مالک یہ تو یہ نہیں ہوا کہ ان کی وفات کے بعد وراثت کا قاعدہ جاری ہوتا اور حسنین رضی اللہ عنہم عباس رضی اللہ عنہ محمد حنفیہ و زینبؓ وغیرہ کو جو سیدنا علیؓ کے وارث تھے اس کا کچھ حصہ مہام کے پڑتہ سے ملتا بلکہ صرف حضرت حسینؓ کے قبضہ میں آیا کیونکہ امامت کی حیثیت سے وہی حضرت کے جانشین تھے۔ (الفاروق: جلد، 2 صفحہ، 171)
ایک عجیب قصہ:
ہبہ فدک کے متعلق شیعہ حضرات نے ایک عجیب قصہ تراش رکھا ہے جس کا ذکر اصولِ کافی: صفحہ 255 میں ہے: ان اللہ تبارک و تعالی لما فتح علی نبیہﷺ فدک وما والاھا لم یوجف علیہ بخیل ولا رکاب فانزل اللہ علی نبیہ ﷺ وات ذالقربی حقہ ولم ید رسول اللہﷺ من ھم فراجع فی ذلک جبرائیل وراجع جبرائیل ربہ فاوحی اللہ الیہ ان ارفع فدک الی فاطمۃ فدعاھا رسول اللہﷺ فقال لھا یا فاطمۃ ان اللہ امرنی ان اذفع الیک فدک فقالت قد قبلت یا رسول اللہﷺ من اللہ و منک۔
ترجمہ: ابن الحسن نے کہا خدا نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر فدک وغیرہ فتح کیے جن کے متعلق فوج کشی نہ کی گئی تو خدا نے آیت:
وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ الخ۔
(سورۃ الاسراء: آیت 26) دے رشتہ دار کو اس کا حق) نازل کی تو رسول کو معلوم نہ ہو سکا کہ ذَا الۡقُرۡبٰى سے کیا مراد ہے آپ نے اس کے متعلق جبرائیل سے استفسار کیا اور جبرائیل نے اللہ رب العزت سے استصواب کیا تو خدا نے وہی بھیجی مراد یہ ہے کہ فدک فاطمہؓ کو دے دیجیے تب رسول اللہﷺ نے بلا کر کہا فاطمہؓ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ فدک تجھے دے دوں فاطمہؓ نے کہا میں نے خدا اور رسول سے یہ عطیہ قبول کیا۔
قصہ تراشنے والوں نے اپنے مطلب کی بات تو وضع کر لی لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس سے رسول اللہﷺ پر الزام آتا ہے کہ آپ باوجود علوم اولین و آخرین کے عالم ہونے اور حسبِ زعم شیعہ ماکان وما یکون (مصنف نے کتاب کے دوسرے مواقع میں غیر اللہ کے لیے علم ما کان وما یکون کے عقیدہ کا ابطال فرما دیا ہے چنانچہ صاف لکھا ہے یہ مسئلہ بھی مسلم ہے کہ علم ما کان وما یکون خاصہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے) سے آگاہ ہونے کے ذَا الۡقُرۡبٰى کے معنیٰ بھی نہ سمجھ سکے پھر اللہ تعالیٰ پر یہ الزام آتا ہے کہ اس نے باوجود اس قولِ پاک کے وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ الخ۔
(سورۃ القمر: آیت 17)
ترجمہ: ہم نے قرآن کو ذکر کے لیے بہت آسان کر دیا ہے۔
یہ حکم ایسے معمہ کے طور پر فرمایا کہ نہ اس کا معنیٰ صاحب الوحی سمجھ سکے نہ حاملِ وحی ہی کے سمجھ میں آیا کہ اس کے متعلق بلاوجہ نبیﷺ کو اس قدر تردد کرنا پڑا کہ جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا گیا پھر جبرائیل بارگاہِ اللہ رب العزت میں دوڑے گئے اور وہاں سے آیت کا معنیٰ پوچھ کر پھر رسول کو سمجھایا کتنا آسان تھا کہ پہلے ہی سے یوں فرما دیا جاتا وات فاطمۃ فدک، فاطمہؓ کو فدک دے دیجیے شیعہ صاحبان ایسی بودی باتیں کہہ کر ناحق جگ ہنسائی کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ (الایت ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ الخ۔
(سورۃ الاسراء: آیت 26) سورہ روم اور بنی اسرائیل میں ہے بالاتفاق دونوں صورتیں مکی ہیں 12 (مظہر حسین غفرلہ) مکی ہے اور مکہ میں کہاں تھا وہ تو ہجرت مدینہ کے بعد قبضہ اسلام میں آیا پھر جب تک ایک چیز ابھی تک ہاتھ ہی نہیں آئی تو اس کی بخشش ایک کیسی یا للعجب؟
دعوے ہبہ فدک:
یہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ نے فدک کے اپنے حق میں ہبہ ہونے کا مقدمہ دربارِ صدیقؓ میں دائر کیا اور دو نہایت ثقہ اور معتبر گواہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ام ایمنؓ کو پیش کیے لیکن ابوبکرؓ نے شہادت رد کر دی اور دعویٰ خارج کر دیا گیا سو اول تو اس واقعے کا ثبوت اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے نہیں ملتا دو مگر صحیح بھی ہو تو اس سے سیدنا ابوبکرؓ کے عامل بالشرع اور بے رو رعایت منصف حاکم ہونے کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ بحکمِ قرآن: وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُوۡنَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 282)
ترجمہ: دو مرد گواہ رکھو وہ نہ مل سکیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں۔
چونکہ صورتِ بالا میں نصابِ شہادت موجود نہ تھا نہ دو مرد نہ ایک مرد اور دو عورتیں ہی گواہ تھیں اس لیے اگر ابوبکر صدیقؓ اس شہادت پر فیصلہ بحق خاتونِ جنت کرتے تو لوگ کہتے کہ دخترِ رسول اللہﷺ کی خاطر غلط فیصلہ دے رہا ہے خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس قدر آزادی تھی کہ سرِ اجلاس ایک معمولی عورت بھی خلیفہ وقت کو ٹوک سکتی تھی کہ یوں نہیں ہونا چاہیے اور خلیفہ وقت خندہ پیشانی سے معترض کے اعتراض کو سن کر اگر واجبی ہوتا تو سر تسلیم خم کر دیتے۔
عدالت و انصاف کا بڑا لازمہ عام مساوات کا لحاظ ہے ایوانِ عدالت میں شاہ و گدا امیر و غریب شریف و رزیل سب ہمرتبہ سمجھے جاتے ہیں اور کسی بڑے کی پاسداری سے اصولِ شریعت نہیں بدل سکتے چونکہ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا کا حکم عام ہے اسے کوئی مستثنیٰ نہیں ہو سکتا اس لیے عمل تو یہ ناممکن ہے کہ احکام شرح کی مہارت کے باوجود جناب امیرؓ اپنی زوجہ محترمہ کی طرف سے نامکمل شہادت لے کر ایوانِ عدالت میں حاضر ہوں اگر ایسا ہو گیا ہو تو خلیفہ رسول کا اہم فریضہ تھا کہ بہ حکمِ خدائے جلیل اس نامکمل شہادت کی بناء پر خاتونِ جنت کے حق میں ڈگری نہ دیں ایسے فیصلے سے جناب امیر اور خاتونِ جنت کو بجائے اس کے کہ ناراض ہوں حاکم شرح خلیفہ کی داد دینی چاہیے تھی کہ الٰہی فرمان کے مقابلے میں پاسداری کو ملحوظ نہیں رکھا گیا مثال کے طور پر ہم ایک واقعے کی طرف ناظرین کو توجہ دلاتے ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فصلِ خصومات کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو قاضی مقرر کیا تھا ایک دفعہ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کسی تنازعہ کے لیے جو آپ کا ابی بن کعب سے تھا اور ابی نے دعویٰ زید رضی اللہ عنہ کی عدالت میں دائر کر رکھا تھا۔ بطورِ مدعا علیہ حاضر ہوئیے زید رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت کی تعظیم کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تمہارا پہلا ظلم ہے یہ فرما کر ابی رضی اللہ عنہ کہ برابر بیٹھ گئے اور مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی ابی کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا اس نے قاعدے کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قسم لینی چاہیے زید نے فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے رتبے کا پاس کر کے درخواست کی کہ امیر المؤمنین کو قسم سے معاف رکھو حضرت عمر اس طرفداری سے سخت رنجیدہ ہوئے زید کی طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے جب تک تمہارے نزدیک ایک عام آدمی اور عمر دونوں برابر نہ ہو تو منصبِ قضاء کے تامل نہیں سمجھے جا سکتے۔
(الفاروق: جلد، 2 صفحہ، 45)
ایسا ہی شیعہ کی معتبر کتاب کشف الغمہ میں مذکور ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں اپنی ذرہ ایک یہودی کے پاس دیکھی اور اپنا دعویٰ قاضی شریخ کی عدالت میں دائر کیا قاضی نے حضرت امیر المؤمنین سے شہادت طلب کی جناب امیرؓ نے سیدنا حسنؓ اور اپنے غلام قنبر کو شہادت میں پیش کیا قاضی نے گواہی نہ منظور کی کیونکہ ایک حضرت امیرؓ کے صاحبزادے تھے اور دوسرا غلام ایسا ہی من لا یحضرہ الفقیہ کتابِ قضاء میں مرقوم ہے جناب امیرؓ قاضی مدینہ کے اس فیصلے سے ناراض نہ ہوئے نہ اس کو قضاء سے معزول کیا بلکہ اس کے انصاف کی داد دی اور اس کے حق میں دعائے خیر کی۔
الغرض دعویٰ ہںہ فدک کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے نہ حضورﷺ باقی اقرباء کو محروم کر کے اکیلے سیدہ فاطمہؓ کو یہ جائیداد دے سکتے تھے اور دیتے کس طرح جب جائیداد آپ کی ملکیت نہ تھی۔