فدک کی تعریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فدک کی تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3
سو فدک جیسا کہ قاموس میں ہے ایک چھوٹے سے قریہ کا نام ہے جو خیبر کے نواح میں ہے اور جو یہود کے قبضے میں تھا جب حضرت محمدﷺ کی فتح خیبر سے واپس ہوئی تو محیصہ بن مسعود انصاری کو اہلِ فدک کے پاس آپ نے تبلیغِ اسلام کے لیے بھیجا اس بستی کا سردار یوسف بن نون نام ایک یہودی تھا یہودیوں نے حضورﷺ کے پاس صلح کا پیغام بھیجا اور صلح کے عوض فدک کی آدھی زمین دینی منظور کی اس وقت سے یہ باغ اسلام کے قبضے میں آیا چونکہ یہ جائیداد قبضہ اسلام میں بدوں لڑائی بطورِ صلح آئی تھی اس لیے اسے فَے کہتے ہیں اور فَے کے متعلق جو حکم قرآن میں ہے وہی قابلِ عمل ہوگا فی الحقیقت فدک کی کل کائنات چند کھجوریں ہیں جن کے متعلق اس قدر دوہائی مچائی جاتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خاتونِ جنت کی جائیداد چھین لی خاتونِ جنت نے مقدمہ بازی کی معتبر شہادت گزاری جو مسترد کی گئی اور دعویٰ خارج کیا گیا لیکن شیعہ کے نزدیک فدک ایک ملک کا نام ہے جو ایک لاکھ 24 ہزار روپے کی مالیت کا ہے یعنی اس کی آمدنی اتنی ہے۔
فدک کی حقیقت شیعی نقطہ خیال سے:
شیعہ کے معتبر کتاب اصولِ کافی: صفحہ، 355 میں ایک طولانی حدیث لکھی ہے جس میں حضرت ابو الحسن موسیٰ نے خلیفہ مہدی سے فدک کی واپسی کے متعلق مکالمہ کیا ہے اس میں لکھا ہے: 
فقال لہ المھدی یا ابا الحسن حدھا لی فقال حد من ھا جبل احد وحد من ھا عریش مصر وحد من سیف البحر وحد من ھا دومۃ الجندل فقال لہ کل ھذا قال نعم یا امیر المومنین ھذا کلہ فقال کثیر وانظر فیہ۔
ترجمہ: مہدی نے کہا اے ابوالحسن کی حد بتائیے امام نے کہا ایک کنارہ اس کا کوہِ احد (فدک کے حدود جو شیعوں کے امام معصوم موسیٰ کاظم نے خلیفہ مہدی سے بیان کیں حسبِ تشریح کتبِ شیعہ یوں ہیں ایک حد کوہِ احد ہے جو مدینہ منورہ سے قریباً تین میل مشرق کی جانب ہے دوسری حد عریش مصر ہے جو شام سے مصر کے راستے میں بحرِ روم کے کنارے عین سرحد مصر پر ہے (معجم البلدان الیاقوت) تیسری حد کنارہِ بحر جس کا اطلاق اکثر بحرِ عمان کے کنارے پر ہوتا ہے (صافی شرح کافی) چوتھی حدودمۃ الجندل ہے جو دمشق سے جنوب کو پانچ دن کی مسافت پر ہے اور مدینہ منورہ سے 15، 16 دن کی راہ پر ہے) اور دوسرا عریش مصر ایک گوشہ سمندر اور دوسرا دومۃ الجندل مہدی نے کہا کیا یہ سب فدک ہے امام نے کہا ہاں خلیفہ نے کہا یہ تو ایک ملک ہے اور میں اس بارے میں غور کروں گا۔ 
شیعہ کی اس حد شماری سے جو امام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے فدک آدھی دنیا کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ شیعہ کہا کرتے ہیں کہ فدک لاکھوں کی جائیداد تھی جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے دبا لی۔ 
اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ کیا رسول اللہﷺ دنیا طلبی کے لیے معبوث ہوئے تھے کہ نبوت کے لیے اقتدار سے جن ممالک پر قبضہ ہوا وہ سب دختر نیک اختر کے حوالہ کر دیا مخالفینِ اسلام اس بارے میں کیا کہیں گے کہ تمہارے رسول نے دعویٰ رسالت اس لیے کیا تھا کہ ملک ملک اینٹھ کر بہو بیٹیوں کے حوالے کرتے جائیں غور کرو اور پھر غور کرو ہمارے رسول اللہﷺ اور آپ کے اہلِ بیتؓ کی تو یہ حالت تھی کہ باوجود شہنشاہِ اعظم ہونے کے تین تین روز فاقے سے گزارتے تھے اور گیہوں کی روٹی کھانے کو نہ ہوتی تھی پھر جب آپﷺ کی وفات ہوئی تو آپﷺ کی زرا چند درہم کے عوض ایک یہودی کے پاس گروی تھی لاریب آپ کی صداقت کی یہی بڑی دلیل ہے آپ نے دولت دنیا کو ایک پریشہ کی وقعت نہ دے رکھی تھی اور آپ کے اہلِ بیتؓ بھی اس کے خوگر تھے کہ فاقے میں رہ کر یادِ خدا میں شب و روز مصروف رہتے تھے پیغمبر اسلام کے ذمے یہ ایک بہت بڑا افتراء ہے کہ آپ نے ایک بڑا ملک جو بغیر فوج کشی ہاتھ لگا فقراء مسکین امت کو محروم کر کے سارے کا سارا اپنی بیٹی کو دے دیا اور اس طرح لختِ جگر رسول فاطمہؓ پر یہ بہت بڑا بہتان ہے کہ آپ دنیائے حقیر کی اس قدر دلدادہ تھیں کہ متاع الدنیا کے لیے کچہریوں میں مقدمات لڑتی پھریں استغفر اللہ۔
فدک کے متعلق فیصلہ قرآن:
یہ عمر مسلمہ فریقین ہے کہ فدک مالِ فے تھا جو بغیر جنگ و جدال ہاتھ آیا تھا اس کے متعلق ہمیں قرآن پاک کی طرف رجوع کرنا چاہیے کہ مالِ فے کے متعلق قرآنی فیصلہ کیا ہے قرآن پاک میں پارہ 28 سورہ حشر میں ہے:
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ‌ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌ 
(سورۃ الحشر: آیت 7) 
لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ الخ۔
(سورۃ الحشر: آیت 8)
وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ الخ۔
(سورۃ الحشر: آیت 10)  
ترجمہ: جو زمین اور جائیداد بطورِ فے اہلِ دیہات سے رسول کو ملی وہ خدا و رسول اور قرابت دارانِ رسول اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں اور فقراء مہاجرین اور ان سب مسلمانوں کے لیے (وقف) ہے جو آئندہ دنیا میں آئیں گے۔
اس آیت میں صریح فیصلہ موجود ہے کہ مالِ فے (جو بدوں لڑائی ہاتھ آئے) جب وہ غیر منقولہ ہو تو کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے بلکہ اس کے حقدار رسول اور قرابت دارانِ رسول کے علاوہ تمام مسلمان جو یتیم مسکین یا مسافر ہوں اور وہ مہاجرین محتاج جو اپنے گھروں سے جلا وطن کیے گئے اور جو آئندہ پیدا ہوں گے یکساں ہیں پھر شیعہ کا یہ خیال برخلاف فیصلہ قرآن کے (فدک مالِ فے) رسول اللہﷺ نے صرف سیدہ فاطمہؓ کی ملکیت میں دے دیا تھا نہ صرف قرآن کو ہی جھٹلانا ہے بلکہ حضورﷺ کے ذمے اتہام لگانا ہے کہ آپ نے حکمِ خداوندی پسِ پشت ڈال کر یہ مال وقف جو غریب مسلمانوں کا حق تھا اکیلا خاتونِ جنت کے قبضے میں دے دیا کیا فیصلہ قرآن سے بڑھ کر کوئی اور فیصلہ ناطق ہو سکتا ہے شیعہ جواب دے یا تو یہ ثابت کریں کہ فدک مالِ فے نہ تھا اور اگر یہ تسلیم ہے تو اس کے مصارف یہ لوگ کیوں نہیں جن کا ذکر آیتِ مذکورہ میں صراحت سے ہے۔
کیا فدک رسول اللہﷺ کی ذاتی جائیداد نہ تھی:
صفحہ 1 از 3