فدک کی تعریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فدک کی تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3
فدک کا سیدہ فاطمہؓ کی ذاتی جاگیر قرار دینے میں شیعہ کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کبھی کہتے ہیں فدک آپ کو بطورِ ہبہ ملا تھا اور کبھی کہتے ہیں کہ یہ وراثتاً ترکہ میں آیا لیکن یہ دونوں باتیں تب ثابت ہو سکتی ہیں کہ فدک رسول اللہﷺ کی ذاتی ملکیت ہوتی لیکن اس بات کا ثابت کرنا بالکل مشکل ہے اول تو یہ کہ آیتِ بالا اس کے مخالف ہے دوم یہ مانی ہوئی بات ہے کہ ذاتی جائیداد وہ ہوتی ہے جو کسی شخص کو وراثتاً ملے یا اس نے ذاتی کمائی سے اسے خریدا ہو یہاں دونوں باتیں مفقود ہیں نہ حضورﷺ کو آباو اجداد سے فدک ترکہ میں ملا اور نہ حضورﷺ نے اس کو اپنی کسی ذاتی آمدنی سے پیدا کیا یہ مسلم امر ہے کہ بادشاہ یا امام یا نبی کو جو جائیداد حکومت یا امامت نبوت کے اثر سے حاصل ہوئی ہو وہ بادشاہ یا امام یا نبی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی بادشاہ حکومت کے اقتدار سے جو ملک یا زمین یا سرحد فتح کرتا ہے وہ اس کی گورنمنٹ کی ملکیت ہوتی ہے نہ بادشاہ کی ذاتی جائیداد اور ایسی ہی جو اراضیات امام یا نبی کے قبضے میں آئی ہیں وہ اس کے وارثوں کو وراثت میں نہیں ملا کرتیں بلکہ اس کے خلیفہ یا جانشین کو ملا کرتی ہیں۔ 
علامہ شبلی رحمۃاللہ نے اس کے متعلق حسبِ ذیل ریمارک کیا ہے جو ہر ایک ذی بصیرت کے سمجھ میں آ سکتا ہے۔
یہ بحث اگرچہ طرفین کی طبع آزمائیوں میں بہت بڑھ گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بات نہایت مختصر تھی اور اب جب کہ سیاست مدن کے اصول زیادہ صاف اور عام فہم ہو گئے ہیں یہ مسئلہ اس قابل ہی نہیں رہا کہ بحث کے دائرے میں لایا جائے کیونکہ نبی یا امام یا بادشاہ کے قبضہ میں جو مال جائیداد ہوتی ہے اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک مملوکہ خاص جس کا حاصل ہونے میں نبوت اور امامت یا بادشاہت کے منصب کو کچھ دخل نہیں ہوتا مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام زرہ بنا کر معاش حاصل کرتے تھے جب بادشاہ عالمگیر قرآن لکھ کر بسر کرتا تھا یہ آمدنی ان کی ذاتی آمدنی تھی اور اس پر ان کو ہر طرح اختیار تھا دوسری مملوکہ حکومت مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام کے مقبوضہ ممالک جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضے میں آئے اس دوسری قسم میں وراثت جاری نہیں ہوتی جو شخص پیغمبری یا امامت یا بادشاہت کی حیثیت سے جانشین ہوتا ہے وہی اس کا مالک یا متولی ہوتا ہے یہ مسئلہ آج کل کے مذاق کے موافق ایک بدیہی بات ہے مثلاً سلطان عبدالحمید خان کے بعد ان کے ممالک مقبوضہ یا ان کی جاگیر خاصہ ان کے بیٹے بھائی ماں بہن وغیرہ میں تقسیم نہ ہوگی بلکہ جو تخت نشین ہوگا اس پر قابض ہوگا مذہبی حیثیت سے بھی مسلمانوں کے ہر فرقہ میں یہ قاعدہ مسلم رہا مثلاً جو لوگ باغِ فدک کو درجہ بدرجہ ائمہ عشر کا حق سمجھتے ہیں وہ بھی اس میں وراثت کا قاعدہ جاری نہیں کرتے مثلاً حضرت علی المرتضیٰؓ اپنے زمانہ میں اس کے مالک یہ تو یہ نہیں ہوا کہ ان کی وفات کے بعد وراثت کا قاعدہ جاری ہوتا اور حسنین رضی اللہ عنہم عباس رضی اللہ عنہ محمد حنفیہ و زینبؓ وغیرہ کو جو سیدنا علیؓ کے وارث تھے اس کا کچھ حصہ مہام کے پڑتہ سے ملتا بلکہ صرف حضرت حسینؓ کے قبضہ میں آیا کیونکہ امامت کی حیثیت سے وہی حضرت کے جانشین تھے۔ (الفاروق: جلد، 2 صفحہ، 171)
ایک عجیب قصہ:
ہبہ فدک کے متعلق شیعہ حضرات نے ایک عجیب قصہ تراش رکھا ہے جس کا ذکر اصولِ کافی: صفحہ 255 میں ہے: ان اللہ تبارک و تعالی لما فتح علی نبیہﷺ فدک وما والاھا لم یوجف علیہ بخیل ولا رکاب فانزل اللہ علی نبیہ ﷺ وات ذالقربی حقہ ولم ید رسول اللہﷺ من ھم فراجع فی ذلک جبرائیل وراجع جبرائیل ربہ فاوحی اللہ الیہ ان ارفع فدک الی فاطمۃ فدعاھا رسول اللہﷺ فقال لھا یا فاطمۃ ان اللہ امرنی ان اذفع الیک فدک فقالت قد قبلت یا رسول اللہﷺ من اللہ و منک۔ 
ترجمہ: ابن الحسن نے کہا خدا نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر فدک وغیرہ فتح کیے جن کے متعلق فوج کشی نہ کی گئی تو خدا نے آیت: 
وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ الخ۔
(سورۃ الاسراء: آیت 26) دے رشتہ دار کو اس کا حق) نازل کی تو رسول کو معلوم نہ ہو سکا کہ ذَا الۡقُرۡبٰى سے کیا مراد ہے آپ نے اس کے متعلق جبرائیل سے استفسار کیا اور جبرائیل نے اللہ رب العزت سے استصواب کیا تو خدا نے وہی بھیجی مراد یہ ہے کہ فدک فاطمہؓ کو دے دیجیے تب رسول اللہﷺ نے بلا کر کہا فاطمہؓ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ فدک تجھے دے دوں فاطمہؓ نے کہا میں نے خدا اور رسول سے یہ عطیہ قبول کیا۔
قصہ تراشنے والوں نے اپنے مطلب کی بات تو وضع کر لی لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس سے رسول اللہﷺ پر الزام آتا ہے کہ آپ باوجود علوم اولین و آخرین کے عالم ہونے اور حسبِ زعم شیعہ ماکان وما یکون (مصنف نے کتاب کے دوسرے مواقع میں غیر اللہ کے لیے علم ما کان وما یکون کے عقیدہ کا ابطال فرما دیا ہے چنانچہ صاف لکھا ہے یہ مسئلہ بھی مسلم ہے کہ علم ما کان وما یکون خاصہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے) سے آگاہ ہونے کے ذَا الۡقُرۡبٰى کے معنیٰ بھی نہ سمجھ سکے پھر اللہ تعالیٰ پر یہ الزام آتا ہے کہ اس نے باوجود اس قولِ پاک کے وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ الخ۔
(سورۃ القمر: آیت 17)
 ترجمہ: ہم نے قرآن کو ذکر کے لیے بہت آسان کر دیا ہے۔ 
یہ حکم ایسے معمہ کے طور پر فرمایا کہ نہ اس کا معنیٰ صاحب الوحی سمجھ سکے نہ حاملِ وحی ہی کے سمجھ میں آیا کہ اس کے متعلق بلاوجہ نبیﷺ کو اس قدر تردد کرنا پڑا کہ جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا گیا پھر جبرائیل بارگاہِ اللہ رب العزت میں دوڑے گئے اور وہاں سے آیت کا معنیٰ پوچھ کر پھر رسول کو سمجھایا کتنا آسان تھا کہ پہلے ہی سے یوں فرما دیا جاتا وات فاطمۃ فدک، فاطمہؓ کو فدک دے دیجیے شیعہ صاحبان ایسی بودی باتیں کہہ کر ناحق جگ ہنسائی کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ (الایت ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ الخ۔
(سورۃ الاسراء: آیت 26) سورہ روم اور بنی اسرائیل میں ہے بالاتفاق دونوں صورتیں مکی ہیں 12 (مظہر حسین غفرلہ) مکی ہے اور مکہ میں کہاں تھا وہ تو ہجرت مدینہ کے بعد قبضہ اسلام میں آیا پھر جب تک ایک چیز ابھی تک ہاتھ ہی نہیں آئی تو اس کی بخشش ایک کیسی یا للعجب؟
دعوے ہبہ فدک:
صفحہ 2 از 3