فدک کی تعریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فدک کی تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3
یہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ نے فدک کے اپنے حق میں ہبہ ہونے کا مقدمہ دربارِ صدیقؓ میں دائر کیا اور دو نہایت ثقہ اور معتبر گواہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ام ایمنؓ کو پیش کیے لیکن ابوبکرؓ نے شہادت رد کر دی اور دعویٰ خارج کر دیا گیا سو اول تو اس واقعے کا ثبوت اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے نہیں ملتا دو مگر صحیح بھی ہو تو اس سے سیدنا ابوبکرؓ کے عامل بالشرع اور بے رو رعایت منصف حاکم ہونے کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ بحکمِ قرآن: وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُوۡنَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 282)
ترجمہ: دو مرد گواہ رکھو وہ نہ مل سکیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں۔
چونکہ صورتِ بالا میں نصابِ شہادت موجود نہ تھا نہ دو مرد نہ ایک مرد اور دو عورتیں ہی گواہ تھیں اس لیے اگر ابوبکر صدیقؓ اس شہادت پر فیصلہ بحق خاتونِ جنت کرتے تو لوگ کہتے کہ دخترِ رسول اللہﷺ کی خاطر غلط فیصلہ دے رہا ہے خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس قدر آزادی تھی کہ سرِ اجلاس ایک معمولی عورت بھی خلیفہ وقت کو ٹوک سکتی تھی کہ یوں نہیں ہونا چاہیے اور خلیفہ وقت خندہ پیشانی سے معترض کے اعتراض کو سن کر اگر واجبی ہوتا تو سر تسلیم خم کر دیتے۔ 
عدالت و انصاف کا بڑا لازمہ عام مساوات کا لحاظ ہے ایوانِ عدالت میں شاہ و گدا امیر و غریب شریف و رزیل سب ہمرتبہ سمجھے جاتے ہیں اور کسی بڑے کی پاسداری سے اصولِ شریعت نہیں بدل سکتے چونکہ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا کا حکم عام ہے اسے کوئی مستثنیٰ نہیں ہو سکتا اس لیے عمل تو یہ ناممکن ہے کہ احکام شرح کی مہارت کے باوجود جناب امیرؓ اپنی زوجہ محترمہ کی طرف سے نامکمل شہادت لے کر ایوانِ عدالت میں حاضر ہوں اگر ایسا ہو گیا ہو تو خلیفہ رسول کا اہم فریضہ تھا کہ بہ حکمِ خدائے جلیل اس نامکمل شہادت کی بناء پر خاتونِ جنت کے حق میں ڈگری نہ دیں ایسے فیصلے سے جناب امیر اور خاتونِ جنت کو بجائے اس کے کہ ناراض ہوں حاکم شرح خلیفہ کی داد دینی چاہیے تھی کہ الٰہی فرمان کے مقابلے میں پاسداری کو ملحوظ نہیں رکھا گیا مثال کے طور پر ہم ایک واقعے کی طرف ناظرین کو توجہ دلاتے ہیں۔ 
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فصلِ خصومات کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو قاضی مقرر کیا تھا ایک دفعہ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کسی تنازعہ کے لیے جو آپ کا ابی بن کعب سے تھا اور ابی نے دعویٰ زید رضی اللہ عنہ کی عدالت میں دائر کر رکھا تھا۔ بطورِ مدعا علیہ حاضر ہوئیے زید رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت کی تعظیم کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تمہارا پہلا ظلم ہے یہ فرما کر ابی رضی اللہ عنہ کہ برابر بیٹھ گئے اور مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی ابی کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا اس نے قاعدے کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قسم لینی چاہیے زید نے فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے رتبے کا پاس کر کے درخواست کی کہ امیر المؤمنین کو قسم سے معاف رکھو حضرت عمر اس طرفداری سے سخت رنجیدہ ہوئے زید کی طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے جب تک تمہارے نزدیک ایک عام آدمی اور عمر دونوں برابر نہ ہو تو منصبِ قضاء کے تامل نہیں سمجھے جا سکتے۔
(الفاروق: جلد، 2 صفحہ، 45)
ایسا ہی شیعہ کی معتبر کتاب کشف الغمہ میں مذکور ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں اپنی ذرہ ایک یہودی کے پاس دیکھی اور اپنا دعویٰ قاضی شریخ کی عدالت میں دائر کیا قاضی نے حضرت امیر المؤمنین سے شہادت طلب کی جناب امیرؓ نے سیدنا حسنؓ اور اپنے غلام قنبر کو شہادت میں پیش کیا قاضی نے گواہی نہ منظور کی کیونکہ ایک حضرت امیرؓ کے صاحبزادے تھے اور دوسرا غلام ایسا ہی من لا یحضرہ الفقیہ کتابِ قضاء میں مرقوم ہے جناب امیرؓ قاضی مدینہ کے اس فیصلے سے ناراض نہ ہوئے نہ اس کو قضاء سے معزول کیا بلکہ اس کے انصاف کی داد دی اور اس کے حق میں دعائے خیر کی۔ 
الغرض دعویٰ ہںہ فدک کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے نہ حضورﷺ باقی اقرباء کو محروم کر کے اکیلے سیدہ فاطمہؓ کو یہ جائیداد دے سکتے تھے اور دیتے کس طرح جب جائیداد آپ کی ملکیت نہ تھی۔

صفحہ 3 از 3