اہلسنت کا خدا اونٹ پر چڑھ کر گھومتا بھی تھا اور کبھی کبھی…

اہلسنت کا خدا اونٹ پر چڑھ کر گھومتا بھی تھا اور کبھی کبھی مریض بھی ہو جاتا تھا(معاذاللہ)!

  راجہ وقاص علی حیدری

صفحہ 2 از 2
زید (النرسی) عن عبدالله بن سنان قال: سمعت ابا عبدالله يقول: إن الله ينزل فی يوم عرفة فی اول الزوال الی الارض علی جمل أفرق
ترجمہ: عبداللہ ابنِ سنان کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ سے سنا "وہ کہہ رہے تھے: بے شک اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن زوال کے بعد ایک کشادہ کوہان والے اونٹ پر بیٹھ کر زمین پر اترتے ہیں۔"
(كتاب الأصول الستة عشر: صفحہ، 54 أصل زيد النرسى كتاب زيد النرسى، ریاض العلماء: جلد، 2 صفحہ، 404)
4: شیعہ کا خدا ہنستا بھی ہے ظاہر سی بات ہے اس کے دانت بھی ضروری ہیں۔
عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد بن خالد، عن ابن فضال، عن أبی جميلة، عن سعد بن طريف، عن الأصبغ بن نباتة قال: قال أمير المؤمنين (صلوات الله عليه): يضحك الله عز وجل إلى رجل فی كتيبة يعرض لهم سبع أو لص فحماهم أن يجوزوا
(اصول کافی: جلد، اول)
شیعہ کے ہاں خدا کی باقاعدہ انگلیاں ہیں انسانوں کے قلوب اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد عن ابيه عن محمد بن احمد عن موسى بن عمر عن ابن سنان عن ابی سعيد القماط عن حمران، قال: سمعت ابا جعفر (ع) يقول: اذا كان الرجل على يمينك على رای ثم تحول الى يسارك فلا تقل الا خيرا ولا تبرأ منه حتى تسمع منه ما سمعت وهو على يمينك فان القلوب بين إصبعين من أصابع الله يقلبها كيف يشاء ساعة كذا وساعة كذا وان العبد ربما وفق للخير(علل الشرایع: جلد، اول)
شیعہ کے ہاں اللہ کے دو ہاتھوں کا ذکر جو دائیں طرف ہیں۔
کلینی امام ابو جعفر سے ایک روایت نقل کرتا ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اللہ کے عرش کے سائے میں اس کے دائیں طرف ہوں گے اور اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں طرف ہیں۔
عنه، عن محمد بن علی، عن عمر بن جبلة الاحمسی، عن ابی الجارود، عن ابی جعفر (عليه السلام) قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): المتحابون فی الله يوم القيامة على ارض زبر جدة خضراء، فی ظل عرشه عن يمينه وكلتا يديه يمين وجوههم اشد بياضا واضوء من الشمس الطالعة، يغبطهم بمنزلتهم كل ملك مقرب وكل نبی مرسل، يقول الناس: من هؤلاء؟ فيقال: هؤلاء المتحابون فی اللهفی ظل عرشه عن يمينه وكلتا يديه يمين
ترجمہ: اس کے عرش کے سائے میں اس کے دائیں طرف اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں طرف ہیں۔ مجلسی نے روایت کو حسن کہا ہے۔
(اصول کافی: جلد، اول)
شیعہ کے نزدیک اللہ پوری زمین پر مستوی ہے چنانچہ پوچھا گیا کہ
اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰى ۞ (سورۃ طه: آیت، 5)
کا کیا مطلب ہے تو جواب دیا گیا۔
استوی علی کل شیء
اللہ ہر چیز پر مستوی ہے۔
(اصول کافی: جلد، اول کتاب التوحید باب حرکت والانتقال رقم روایت نمبر، 329 صفحہ، 59)
اس میں شیعہ کے پاسپورٹ تاویل کے بغیر امام کو بچانا مشکل ہے۔
شیعہ کے ہاں ائمہ اللہ کا چہرہ، آنکھیں اور ہاتھ ہیں۔
چنانچہ سورة رحمان کی آیت کے تحت امام جعفر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ:
ونحن وجھہ اللہ نتقلب فی الارض بین اظھرکم ونحن عین اللہ فی خلقہ ویدہ المبسوطتہ
ترجمہ: ہم اللہ کا چہرہ ہیں ہم ہی اللہ کی آنکھیں ہیں اور ہم اللہ کے ہاتھ ہیں۔
(اصول کافی: جلد، اول کتاب التوحید باب النوادر رقم روایت نمبر، 354 صفحہ، 66)
ائمہ خود خدا ہیں!
چنانچہ خلیفہ چہارم کا اقرار موجود ہے کہ
انا الذین مفاتیح الغیب وانا بکل شیء علیم۔ وان عذاب لھو العذاب العلیم انا دعوت الشمس والقمر فاجابی انا الذین بعثیت النبیین والمرسلین وان مت لم امت وان قتلت لم قتلت 
ترجمہ: میں ہی وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، میں ہر چیز پر قادر ہوں میں ہی عذاب دینے والا ہوں میں ہی سورج اور چاند کو چلانے والا ہوں جنہوں نے میری اطاعت کی میں نے ہی انبیاء علیہم السلام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا اگر مجھے موت دی جائے تو میں مروں نہیں اگر مجھے قتل کیا جائے تو میں قتل نہ ہو سکوں۔
(خطبتہ البیان مع شروع تقی مجلسی: صفحہ، 77 تا 90)
شیعہ کے اماموں کے صحابیوں کا عقیدہ کہ اللہ تیس سالہ نوجوان جس کا دھڑ ناف تک خالی ہے۔
چنانچہ ابراھیم بن خزار اور محمد بن الحسین نے بیان کیا کہ
ان محمد صلی اللہ علیہ وسلم رای ربہ فی صور الشباب الموفق فی سن الابناء ثلاثین سنہ وقلنا ان ھشام بن سالم صاحب الطاق والمیثمی ویقولون انہ اجوف الی السرہ والبقیہ
ہم دونوں امام رضا کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کو ایک تیس سالہ نوجوان کی شکل میں دیکھا اور ہم نے کہا کہہ ہشام، صاحب طاق اور میثمی (ہشام بن سالم وغیرہ شیعہ کے ہاں اماموں کے ثقہ صحابی ہیں جو یہ عقیدہ بیان کر رہے ہیں۔ حیدری) کہتے ہیں کہ اللہ کا دھڑ ناف تک خالی تھا اؤر اس سے نیچے یعنی قدموں تک سخت اور ٹھوس تھا۔
(اصول کافی: جلد، اول کتاب التوحید باب النھی عن الصفتہ بغیر ما وصف رقم روایت نمبر، 271 صفحہ، 39)

صفحہ 2 از 2