Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اے کشتی والو تمھاری دو ہجرتیں ہیں

  علی محمد الصلابی

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: لوگ ہم سے کہتے تھے کہ ہم ہجرت میں تم پر سبقت لے گئے، اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئیں، وہ نجاشی کی جانب ہجرت کرنے والی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جب کہ اسماء رضی اللہ عنہا ان کے پاس تھیں، اسماء رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر پوچھا، یہ کون ہیں؟ جواب دیا: عمیس کی بیٹی اسماء ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی حبشہ کی جانب سمندری راستے سے ہجرت کرنے والی ہیں؟ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ہجرت میں تم لوگوں پر سبقت لے گئے، اس لیے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تم سے زیادہ حق دار ہیں، یہ سن کر وہ ناراض ہوگئیں اور کہا: اللہ کی قسم ہرگز نہیں، تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ بھوکے کو کھانا کھلاتے تھے، جاہل کو وعظ و نصیحت کرتے تھے، اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہم حبشہ کی دور دراز اور ناپسندیدہ سرزمین میں تھے، اللہ کی قسم میں کھاؤں اور پیوں گی نہیں تاآنکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک آپ کی بات پہنچا کر آپ سے پوچھ نہ لوں، اللہ کی قسم نہ تو میں جھوٹ بولوں گی نہ ہیرا پھیری کروں گی، نہ بات میں کچھ اضافہ کروں گی، چنانچہ جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ایسی اور ایسی بات کہی، تو آپﷺ نے فرمایا: وہ میرے تم سے زیادہ حقدار نہیں ہیں، ان کی اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم کشتی والوں کی دو ہجرتیں ہیں۔

(صحیح البخاری: کتاب المغازی حدیث نمبر 4231)

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی والدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے یہ پیغامِ مسرت ان کے وفد میں شریک تمام لوگوں تک جہاں بھی تھے پہنچا دیا،

(فقہ السیرۃ للغضبان: صفحہ 535)

 جیسا کہ وہ خود بیان کرتی ہیں: لوگ گروہ در گروہ میرے پاس آ کر اس حدیث کے بارے میں پوچھتے تھے، ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے زیادہ خوش کرنے والی اور اس سے قیمتی کوئی چیز نہیں تھی،

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2502، 2503) 

فتح خیبر میں شریک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اجازت لے کر آپ نے ان لوگوں کو مال غنیمت میں شریک کیا۔

(الصراع مع الیہود لابی فارس: جلد 3 صفحہ 96)