Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غزوۂ موتہ میں جعفر بن عبداللہ ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت

  علی محمد الصلابی

یحییٰ بن ابویعلیٰ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے، مجھے یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ کے پاس آ کر والد کی شہادت کی خبر دی، میں آپﷺ کی جانب دیکھ رہا تھا، آپ ﷺمیرے اور میرے بھائی کے سر پر دستِ شفقت پھیر رہے تھے، آپﷺ کی آنکھیں اشکبار تھیں، داڑھی سے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر فرمایا: اے اللہ! بلاشبہ جعفر اچھے بدلے کی جانب جاچکے، اس لیے ان کے بچوں کی بہترین دیکھ ریکھ کر، پھر فرمایا: اے اسماء! کیا میں تمھیں خوشخبری نہ سناؤں، کہا: کیوں نہیں؟ آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جعفر کو دو بازو عطا کردیے ہیں، جن سے وہ جنت میں اڑتے ہیں، یہ سن کر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپﷺ لوگوں میں اس کا اعلان کردیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، میرا ہاتھ پکڑا سرپردستِ شفقت پھیرتے رہے، منبر پر چڑھ کر مجھے اپنے سامنے بیٹھایا، آپﷺ پر غم کے آثار نمایاں تھے، گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: سن لو، بلاشبہ جعفر شہید ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دو بازو عطا کردیے ہیں جن سے وہ جنت میں اڑتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے، مجھے لے کر اپنے گھر میں گئے، میرے گھر والو ں کے لیے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ تیار کیا گیا، میرے بھائی کو بھی بلا بھیجا، ہم نے آپﷺ کے پاس اچھا اور بابرکت کھانا کھایا، آپﷺ کی خادمہ سلمیٰ نے جو لے کر پیسے، پھر چھلنی سے چھانا، پھر پکایا، میں اور میرے بھائی نے آپﷺ کے ساتھ کھانا کھایا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 2 صفحہ 8، اس کی سند ضعیف ہے، اس کے بعض شواہد ہیں۔)