حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عمل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہجی امر شیعہ کے دعویٰ کے بطلان کی صریح دلیل ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں بھی فدک ورثاء سیدہ فاطمہؓ میں تقسیم نہیں کیا بلکہ بددستور سابق عامۃ المسیمین کے لیے وقف رہا اس بات کو شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں کوئی دست اندازی نہیں کی بلکہ بددستور رہنے دیا اس کے متعلق ہم فروعِ کافی: جلد، 3 کتاب الروضہ: صفحہ، 29، 30 سے ایک خطبہ جناب امیرؓ کا درج کر دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب امیرؓ نے اپنے وقت میں فتح کی ورثاء فاطمہؓ کو نہ دیا بلکہ اور بھی بہت سی باتیں جو کرنی چاہیے تھی نہ کی بلکہ حلت متعہ کا فتویٰ بھی نہ دے سکے پانچ تکبیر جنازہ نہ پڑھا سکے نہ نمازِ تراویح کو ہی موقوف کرا سکے:
ثم اقبل بوجھہ وحولہ ناس مں اھل بیتہ و خاصتہ وشیعتہ فقال قد علمت الولاۃ قبلی اعمالا خالفوا فیھا متعمدین لخلافہ ناقضین بعھدہ مغیرین لسنتہ ولو حملت الناس علی ترکھا وحولتھا الی مواضعھا والی ما کانت فی عھد رسول اللہﷺ لتفرق عنی حتیٰ ابقی وحدی او قلیل من شیعتی الذین عرفوا فضلی وفرض امامتی من کتاب اللہ عز ذکرہ و سنتہ نبیہ اریتم لو امرت بمقام ابراھیم علیہ السلام فردفتہ الی المواضع الذی و ھنعہ فیہ رسول اللہﷺ وروت فدک الی وورثہ فاطمہ علیھما السلام وردذت صاع رسول اللہﷺ کما کان الی ان قال وامرت باحلال المتعین و امرت بالتکبیر علی الجنازہ خمستہ تکبیرات الی ان قال اذ تفرقوا عنی واللہ لقد امرت الناس الا یجتمعوا فی شھر رمضان الا فی فریضتہ واعلمتھم ان اجتماعھم فی النوافل بدعۃ فنادی بعض الی اقل عسکری ممن یقاتل معی یا اھل الاسلام یغیر سنہ عمر ویتھا نافی شھر رمضان تطوعا۔
ترجمہ: سیدنا امیرؓ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے جب کہ آپ کے گرد آپ کے اہلِ بیتؓ اور شیعہ بیٹھے ہوئے تھے پہلے خلیفوں نے مجھ سے پہلے ایسے کام کیے ہیں جن میں رسول اللہﷺ کی مخالفت کی گئی ہے اور دانستہ خلاف کیا ہے عہد توڑا گیا رسول کی سنت تبدیل کی گئی ہے اور اگر لوگوں کو وہ کام چھوڑنے کے لیے کہہ کر اصلی حالت پر لانا چاہوں جیسا کہ رسول کے وقت میں تھا تو میرا لشکر مجھ سے علیحدہ ہو جائے اور میں صرف اکیلا رہ جاؤں یا چند شیعہ رہ جائیں جو میری فضیلت اور میری خلافت و امامت کی فرضیت اور قرآن و حدیث رسول اللہﷺ سے جانتے ہیں اگر میں کہوں مقامِ ابراہیم علیہ السلام اس طرح کر دیا جائے جیسا کہ حضرت محمدﷺ کے وقت میں تھا اور باغِ فدک کو ورثا فاطمہؓ کو دلا دوں اور صاع کو ایسا ہی کر دوں جیسا کہ رسول کے وقت تھا اور لوگوں کا متعہ کا حق دے دوں اور پانچ تکبیر جنازہ پڑھنے کا حکم دوں تو لوگ مجھ سے علیحدہ ہو جائیں بخدا میں نے لوگوں کو کہا کہ ماہِ رمضان میں بغیر نماز فرض کے جمع نہ ہوں (نماز تراویح نہ پڑھیں) اور میں نے انہیں بتایا کہ نوافل (تراویح) کے لیے مجتمع ہونا بدعت ہے تو میرے سپاہیوں نے جو میرے ساتھ مل کر لڑائی کر رہے ہیں منادی کر دی کہا اے مسلمانو سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عمر فاروقؓ کے سنت کو بدلنا چاہتا ہے اور ہمیں ماہِ رمضان میں نماز نفل تراویح پڑھنے سے منع کرتا ہے۔
اس خطبہ سے ثابت ہوا کہ جناب امیرؓ جماعت کے افتراق کے خوف سے نہ تو فدک ورثاء فاطمہؓ کو واپس دلا سکے نہ متعہ جیسے کارِ ثواب کی ترویج کر سکے نہ پانچ تکبیر جنازہ لوگوں کو پڑھا سکے نہ بدعت کو ہی موقوف کر سکے تو اب سوال یہ ہے کہ امیرؓ کی خلافت و امامت کس کام کی تھی وہی بدعات جو پہلے خلفاء نے جاری کر رکھی تھی ہوتی رہیں احکام جور و جفا جو نافذ کر گیا بدستور جاری رہے یہاں تک بے بس تھے کہ باغِ فدک وغیرہ حسنینؓ کو نہ دلا سکے متعہ جیسے فضیلت کے کام کی گرم بازاری بھی نہ ہوسکی نمازِ تراویح بھی بدستور لوگ پڑھتے رہے پھر آپ کی خلافت سے آپ کے شیعہ کو فائدہ ہی کیا پہنچا یہ بھی تعجب ہے کہ خلفاءِ ثلاثہؓ کی زندگی میں تو درہ عمرؓ تیغِ صدیقی لوگوں کو خوف تھا بعد وفات ان کے لوگوں کو کیا کھٹکا تھا کہ ان کے ہی نقش قدم پر چلتے رہے کیا جناب امیرؓ کے خطباتِ بلیغہ کا بھی ان کے دلوں پر کچھ اثر نہ ہو سکا نہ ذوالفقار حیدری کی ہیبت ان کے دلوں پر طاری ہو سکی کیا صداقت تھی جو دلوں کو فتح کر چکی تھی اور وہ نقش کا لحجر کسی تدبیر سے بھی قلوبِ مؤمنین سے نہ مٹ سکتا تھا۔
خلاصہ یہ کہ حدیث بالا سے ثابت ہو گیا کہ سیدنا علیؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں باغِ فدک کے متعلق فیصلہ خلفاء بحال رکھا اس میں کچھ دست اندازی نہ کی گئی نہ ورثاءِ فاطمہؓ اس سے بہرہ یاب ہوئے اور ظاہر ہے کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں کہ لوگوں کے افتراق کا خوف تھا یا مصلحتِ وقت کا اقتضاء تھا حقیقت یہ ہے کہ فدک کے متعلق جناب امیرؓ کو خوب معلوم تھا کہ فیصلہ خلفاءِ مطابقِ قرآن اور حدیثِ رسول اللہﷺ تھا اس وجہ سے اس میں تغیر و تبدل مشکل تھا تو جب حضرت امیرؓ نے اپنے طرزِ عمل سے فیصلہ صدیقؓ کی تصدیق کر دی تو اب شیعہ کا کیا حق ہے کہ ناحق شور مچاتے ہیں۔
اس کے جواب میں شیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے وقت میں فدک اس لیے واپس نہیں دلایا کہ مقبوضہ چیز کا واپس لینا شانِ امامت کے خلاف تھا۔
جواب الجواب: ہم کہتے ہیں درست نہیں اگر مغصوبہ چیز کا لینا درست نہ تھا تو خلافتِ مغصوبہ کیوں واپس لی گئی جناب امیرؓ نے اپنے فائدے کی چیز تو لے لی لیکن ورثاءِ فاطمہؓ کی حق تلفی رواں رکھی گئی لیکن شیعہ کے خلاف یہ ناطق حجت اور قطعی دلیل ہے کہ فدک خاتونِ جنت کا ہرگز حق نہ تھا اور جناب امیرؓ اپنے زمانہ اقتدار میں حق بحقدار رسید کا معاملہ کر کے حسنینؓ اور دیگر ورثاءِ خاتونِ جنت کو ضرور بضرور دے دیتے جب آپؓ نے اور نہ سیدنا حسنؓ نے فدک واپس لیا تو ظاہر ہے کہ فیصلہ خلفا ما سبق کو ناطق سمجھ کر اس کی مخالفت نہ کی۔
مدعی لاکھ پہ بھاری شاہد ہے شہادت تیری جناب امیرؓ اور حضرت حسنؓ کے اس طرزِ عمل نے شیعہ کی چوں چراں کا راستہ بالکل بند کر دیا ہے اور انہیں اب طوعاً و کرہاً یہ کہہ لینا چاہیے کہ:
سر تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔