Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غضب فاطمہ رضی اللہ عنہا

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں فدک کے متعلق دعویٰ کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نہ دیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا غضب ناک ہوئی اور حضرت ابوبکرؓ سے بات چیت نہ کی حتیٰ کہ فوت ہو گئیں غضبِ فاطمہؓ غضب خدا و رسول اللہﷺ ہے اس لیے سیدنا ابوبکرؓ جن پر سیدہ فاطمہؓ کا غضب ہوا قابلِ خلافت نہ تھے۔

جواب: اول صحیح بخاری کی جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ کوئی حدیث مرفوع نہیں ہے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے اور یہ قصہ روایتاً ناقابلِ تسلیم ہے اول اس لیے کہ سیدہ فاطمہؓ بنتِ رسول اللہﷺ سے جن کا لقب بتول تھا یہ توقع نہیں کہ وہ چند کھجوروں کے لیے مقدمہ بازی شروع کر کے کچہری میں نامحرموں کے پاس جا کر اصالتاً حاضر ہو کر مخاصمہ کریں اور باغ نہ ملنے پر یہاں تک غضبناک ہو جائیں کہ خلیفہ وقت سے بول چال بند کر دیں ایسے ہی سیدہ عائشہ صدیقہؓ جو راوی اس قصہ کی ہیں ان کو عدالت میں جانے اور مقدمہ سنی کی کب اجازت تھی کہ انہوں نے یہ واقعہ دیکھ کر روایت کی ہو 

دوم: بخاری اور مسلم کی حدیث میں لفظ وجدت ہے جس کے معنیٰ ندامت کے ہیں یعنی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپ نے معقول جواب سن لیا تو اپنا دعویٰ کرنے پر اپ کو ندامت ہوئی اور پھر اپنے مرنے تک اس کے متعلق کچھ گفتگو نہ کی جن روایتوں میں غضب کا لفظ ہے اس کا معنیٰ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپ اپنے نفس پر خفا ہوئیں 

سوم: اگر فرض محال تسلیم کر لیا جائے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس بات پر خفا ہو گئی تو یہ اقتضا بشریعت ہے جس حدیث میں وعید ہے اس میں لفظ من اغضبھا یعنی جس نے دانستہ اپ کو غضبناک کیا یا اگزاب نہیں ہے کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ آپ کو غضبناک کرنے کو نہیں کیا بلکہ تعمیل ارشاد رسول اللہﷺ اللہ علیہ وسلم و حکم قران ایسا کیا اس لیے اپ کا یہ فعل حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ناراض کرنے کے لیے نہیں بلکہ نیک نیتی سے بدتمل حکم خدا رسول تھا تقضائے بشریت ہے کہ بعض اوقات خواص اہل اللہ کو بھی کسی غلط فہمی کی بنا پر رنجیدگی لاحق ہو جاتی ہے اور اس سے کوئی برا نتیجہ اخذ کرنا نادانی ہے حضرت موسی ایک اول العزم رسول تھے جب کوئی طور سے چلا پورا کر کے واپس ائے تو قوم کو گوسالہ پرستی میں پایا غضب ناک ہوئیے کہ الواح مقدسہ کو زمین پر دے مارا اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو سر اور داڑھی سے پکڑ کر کھینچا۔ جس پر ہارون علیہ السلام نے اپنی بے قصوری کا عذر اپنے بھائی کے سامنے پیش کر کے کہا مجھے بے عزت کر کے دشمنوں کو ہنسی کا موقع نہ دیں (یہ قصہ قران پاک میں بالصراحۃ موجود ہے بخوف طوالت ایات نہیں لکھی گئی) جب ایک رسول کا اپنے بھائی نبی پر اس طرح کا ضبناک ہو کر دست بے گریبان ہونا طرفین میں سے کسی کے خطاکار ہونے کا باعث نہیں ہو سکتا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اگر غصہ کریں تو آپ کا یہ جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اس سے مجرم ہونا کس طرح ثابت ہو سکتا ہے؟

چہارم: شیعہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ 12 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مابین ایسے واقعات ہوئی ہیں کہ جناب خاتون جنت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر غصہ ہو کر ان کے گھر سے نکل کر اپنے والد ماجد رسالت مابﷺ اللہ علیہ وسلم کے گھر چلی گئی اور حضرت رسول اللہﷺ بھی اس واقعے سے سخت رنجیدہ خاطر ہویے اور اسی حالت میں آپ نے فرمایا۔ فاطمہ بضعۃ منی من اغضیھا فقد اغضبنی۔ (فاطمہ میری جگر گوشہ ہے جس نے اسے غصہ دلایا اس نے مجھے غضبناک کیا) تو جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے غضب ناک ہونے سے حضرت علی پر کوئی اعتراض نہیں اتا اور نہ وہ وعید کے ماتحت آ سکتے ہیں تو حضرت ابوبکر پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے ہم جلاء العیون مؤلفہ باقر مجلسی سے ذیل میں ایسے دو واقعات درج کرتے ہیں۔