Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا واقعہ ناراضگی فاطمہ رضی اللہ عنہا

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

جلاء العیون اردو صفحہ 62، 63 میں ہے امام صادق سے روایت ہے کہ ایک شقی جناب سیدہ کے پاس آیا اور کہا کہ علی بن ابی طالب نے دختر ابوجہل کی خوستگاری کی ہے جناب سیدہ نے اس شقی سے کہا کہ تو قسم کھا۔ اس نے تین دفعہ قسمیں کھائیں کہ میں جو کچھ کہتا ہوں سچ ہے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بہت غیرت آئی اس لیے کہ حق تعالیٰ نے عورتوں کے ضمیر میں غیرت قرار دی ہے جس طرح کے مردوں پر جہاد واجب کی ہے اور اس عورت کے واسطے جو باوجود غیرت صبر کرے ایک ثواب مقرر کیا ہے مثل اس شخص کے وہ مسلمانوں کی سرحد پر خدا کے واسطے نگہبانی کرے۔ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صدمہ ہوا اور متفکر رہیں یہاں تک کہ رات ہوئی جب رات ہوئی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کو کندھے پر بٹھایا اور بایاں ہاتھ کلثوم کا اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ گھر تشریف لے گئیں جب جناب امیر گھر میں آئے اور جناب سیدہ کو وہاں نہ دیکھا بہت غم ہوا اور سخت دشوار ہوا مگر تشریف لے جانے کا سبب نہ معلوم ہوا بزرگوار کہ گھر سے بلائیں؟ پس گھر سے باہر نکل آئے اور مسجد میں جا کر بہت نمازیں ادا کیں اور تودہ خاک جمع کر کے اس پر تکیہ فرمایا جب جناب رسول اللہﷺ نے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو محزون پایا غسل کیا اور لباس پہن کر مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھنی شروع کی مشغول رکوع سجود تھے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہ کے حزن کو دور کر دے اس لیے کہ جب گھر سے باہر آئے تھے جناب فاطمہ کو دیکھ آئے تھے کہ آپ کروٹیں لیتی اور نالہ ہائے بلند کھینچتی تھیں جب حضرت رسول اللہﷺ نے دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نیند نہیں آتی اور بے قرار ہیں فرمایا اے دختر گرامی اے فاطمہ اٹھو فاطمہ رضی اللہ عنہا اٹھی اور جناب رسول اللہﷺ نے امام حسن علیہ السلام کو اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے امام حسین کو اٹھایا اور ام کلثوم کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے جانب مسجد تشریف لائے یہاں تک نزدیک جناب امیر پہنچے اس وقت جناب امیر رضی اللہ عنہ آرام فرما رہے تھے پس حضرت رسول اللہﷺ نے اپنا پاؤں جناب امیر رضی اللہ عنہ کے پاؤں پر رکھ کر اور ہلا کر فرمایا اے ابو تراب اٹھو بہت گھر والوں کو تم نے اپنی جگہ سے جدا کیا ہے جاؤ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ پس جناب امیر گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لائے جب نزدیک رسول اللہﷺ حاضر ہوئے حضرت نے ارشاد کیا یا علی رضی اللہ عنہ مگر تم نہیں جانتے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ میری پارہ تن ہے اور میں فاطمہ سے ہوں جس نے اسے آزار دیا اس نے مجھے آزار دیا اور جس نے اسے میری وفات کے بعد آزار دیا یا مثل اس کے ہے کہ میری حیات میں آزار دیا اور جس نے اسے میری حیات میں آزار دیا ایسا ہے جیسے کہ میری ملاقات کے بعد آزار دیا تم کو کیا باعث ہوا کیسا کام کیا امیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بحق اس خدا کے کہ جس نے آپ کو براستی بھیجا ہے قسم کھاتا ہوں کہ فاطمہ سے کسی نے کہا ہے فی الواقع صحیح نہیں ہے اور میرے دل میں بھی وہ امور نہیں گزرے جناب رسول اللہﷺ نے کہا تم بھی سچ کہتے ہو اور وہ بھی سچ کہتی ہیں پس جناب فاطمہ رضی اللہ عنہ شاد و خوشحال ہوئیں 
اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت فاطمہؓ کسی کے حلفیہ کہہ دینے سے کہ جناب امیر دختر ابوجہل سے نکاح کرنا چاہتے ہیں غضبناک ہو گئیں اور جہاں تک بے صبری فرمائی کہ جناب امیر سے اس امر کا تفحص بھی نہ کیا اور بدوں اجازت بعدم موجودگی جناب امیر بال بچوں سمیت میکے چلی گئیں اور آپ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ رات کو نیند نہ پڑتی کروٹیں بدلتیں بے قراری اور بے چینی طاری تھی جناب رسول اللہﷺ سخت بے آرام ہوئے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اور بال بچوں سمیت مسجد میں جناب امیر کے پاس تشریف لے گئے اور آپ نے فاروق رضی اللہ عنہ کو بلا کر جناب امیر کو ڈانٹا اور کلمات وعید فرمائے اگر اس واقعے سے جناب امیر رضی اللہ عنہ پر کوئی طعن نہیں آیا اور نہ ناراضگی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کوئی خراب نتیجہ نکلتا ہے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خفگی کے متعلق جو فرضی طور پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نسبت بیان کی جاتی ہے کیوں اس قدر شور و غل بپا کیا جاتا ہے۔