رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کی شکایت
علی محمد الصلابیعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، آپﷺ نے چپکے سے مجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کی جسے میں کبھی کسی سے بیان نہ کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے وقت پردے کے لیے کسی اونچی عمارت یا کھجور کے گھنے باغ کو پسند کرتے تھے، چنانچہ ایک دن آپﷺ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک بیٹھے ہوئے اونٹ نے آواز نکالی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کی پیٹھ اور کان پر ہاتھ پھیرنے لگے، تو وہ پرسکون ہو گیا، آپﷺ نے پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ میرا ہے، آپﷺ نے فرمایا: کیا تم اس جانور کے سلسلے میں اللہ سے نہیں ڈرتے، جس نے تمھیں اس کا مالک بنا دیا ہے، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور تھکا دیتے ہو۔
(الطبقات بتحقیق السلمی: جلد 2 صفحہ 13، 14، اس کی سند صحیح ہے۔)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر دس سال تھی۔
(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 37)
آپ کا صحابی رسول ہونا ثابت ہے، آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں، آپ نے اپنی والدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور چچا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے حدیثوں کو روایت کیا ہے۔ آپ سے آپ کے بچے اسماعیل، اسحاق، معاویہ اور محمد بن علی بن حسین، قاسم بن محمد، عروہ بن زبیر، سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن ملیکہ، عبداللہ بن شداد بن الہاد، شعبی، عباس بن سہل بن سعد، مورق عجلی، خالد بن سارہ، محمد بن عبدالرحمٰن بن ابورافع نے روایت کیا ہے۔
(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 169)