Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جناب سیدہ رضی اللہ عنہا کی نازک مزاجی

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

چونکہ سیدہ فاطمہؓ بوجہ صاحبزادگی نازک مزاج تھیں اس لیے معمولی باتوں سے رنجیدہ خاطر ہو جانا کچھ بڑی بات نہ تھی شیعہ حضرات نے تو سیدہ فاطمہؓ کے متعلق جو ناجائز روایت لکھی ہے اس سے آپ کی تنگ حوصلگی غیر مال اندیشی اور خفیف الحرکتی کا ثبوت ملتا ہے لیکن ہم اہلِ سنت و الجماعت شیخ کی ایسی روایات کو محض خرافات سمجھتے ہیں۔ 

روایاتِ شیعہ:

شیعہ صاحبان جو نقشہ اخلاق و اعداد سیدہ فاطمہؓ کا پیش کرتے ہیں اس کے لکھنے سے بھی شرم آتی ہے مگر بوجہ اس کے نقل کفر کفر نباشد ناظرین کی توجہ کے لیے ذیل میں درج کرتے ہیں۔

جلاء العیون اردو جلد 1 صفحہ 130 میں ہے: پس جب ارادہ تزویج فاطمہؓ ہمراہ علیؓ ہوا سیدہ فاطمہؓ سے پنہاں حضرت نے بیان کیا سیدہ فاطمہؓ نے کہا میرا آپ کو سٹار ہے لیکن زنانِ قریش کہتی ہیں کہ علی بزرگ و شکم اور بلند دست ہیں اور بند ہائے استخوان گندہ ہیں آگے سر کے بال نہیں ہیں آنکھیں بڑی ہیں اور ہمیشہ خندہ دہاں اور مفلس ہیں۔

کیا ایک شریف مجسم خاتون سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ بحالتِ کنوارگی اپنے سرورِ دو عالمﷺ کے سامنے ایسی کلام کریں کہ ابا جان مجھے عذر تو نہیں لیکن آپ کی داماد کی نسبت زنان قریش کہتی ہیں کہ وہ بڑے پیٹو ہیں ہڈیوں کے جوڑ نا موزوں ہیں اور سر سے گنجے ہیں یہ تو گنوار لڑکی سے بھی امید نہیں ہو سکتی۔

اس کتاب کے صفحہ 136 میں ہے کتاب کشف الغمہ میں سیدنا باقرؒ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدہ فاطمہؓ نے رسولِ خدا سے سیدنا امیرؓ کی شکایت کی جو کچھ وہ پیدا کرتے ہیں فقراء و مسکین کو تقسیم کر دیتے ہیں اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ ایسی طمع و حریص تھیں کہ جناب امیرؓ کا خدا کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا بھی ان کو ناپسند تھا 

جب شیعہ سیدہ فاطمہؓ کے متعلق ایسی نا ملائم حرکات کی نسبت کرنے سے دریغ نہیں کرتے جو ایک معمولی دنیادار کی بہو بیٹیوں کے لیے بھی باعث ننگ و شرم ہے تو یہ لوگ بات کا بتنگڑ بنا کر فدک کی چند کھجوروں کے لیے جناب سیدہ کو کچہریوں میں پھرانے کبھی حضرت عمرؓ سے دست گریبان ہونے کبھی حضرت ابوبکؓر پر خشمناک ہونے کی روایات کیوں نہ وضع کریں 

شیعہ کی کتابوں میں روایت موجود ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو دے کر سند بھی تحریر کر دی تھی جیسا کہ جلاء العیون اردو صفحہ 151 میں ہے 

بروایت دیگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نامہ لکھا اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیا عمر رضی اللہ عنہ نے راستے میں دست مبارک جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نامہ لے کر نامہ پر تھوکا اور نامہ پھاڑ دیا اس طرح اصول کافی صفحہ 355 میں بھی روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں خطہ کا فیصلہ لکھ دیا۔ علاوہ ازیں شعیوں کے شیخ ابن مطہر حلی نے بھی اپنی کتاب میں اسکا اعتراف کیا ہے جس کی عبارت یہ ہے۔

لما وعظت فاطمہ ابا بکر فی فدک کتب لھا کتاب وردھا علیھا(منھج الکرامہ)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فتح کے مقدمے میں وعظ نصیحت کی تو انہوں نے فدک کو ان کے نام لے کر فدک کو ان کے حوالے کر دیا 

جب تم تسلیم کرتے ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ کو فدک دے کر نامہ بھی لکھ دیا تو پھر بھی تم جناب صدیق رضی اللہ عنہ کا پیچھا نہیں چھوڑتے جب احسان فراموش ہو خدا تمہیں ہدایت کرے 

جناب سیدہ رضی اللہ عنہا کی رضامندی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شیعہ کے معتبر کتاب حجاج السالکین میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر نے جناب سیدہ کو راضی کر لیا اور آپ نے فیصلہ حضرت ابوبکر کو تسلیم کر لیا پھر جب صاحب حق راضی ہو گئے تو اب ناحق والے کیوں شور مچا رہے ہیں روایت یوں ہے۔ 

ان ابابکر لما رای ان فاطمہ انقضت عنہ وھجرتہ ولم تتکلم بعد ذلک فی امر فدک کبر ذلک عندہ فاراد استر ضاؤھا فاتاھا فقال لھا صدقت یا ابنۃ رسول اللہﷺ فیما ادعیت ولکنی رایت رسول اللہﷺ یقسمھا فیعظی الفقراء والمساکین وابن السبیل بعد ان یعطی منھا قوتکم والصانعین فقالت افعل فیھا کما کان ابی رسول اللہ یفعل فیھا قال اشھد اللہ علی ان افعل فیھا ماکان یفعل ابوک فقالت واللہ لتفعلن فقال واللہ لافعلن فقالت اللھم اشھد مرضیت بذلک واخذت العھد علیہ وکان ابوبکر یعطیھم منھا قوتھم فیعطی الفقراء والمسکین۔ 

ترجمہ: ابوبکرؓ نے جب دیکھا کہ سیدہ فاطمہؓ ان سے کشیدہ خاطر ہوگئی ہیں اور بات کرنا چھوڑ دیا ہے تو یہ ان پر شاق ہوا اور سیدہ فاطمہؓ کو رضامند کرنے کی غرض سے ان کے پاس گئے اور کہا آپ نے بے شک سچ کہا ہے اے بنتِ رسول اللہﷺ لیکن میں نے رسولِ اللہﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ فدک کی پیداوار کو تقسیم کر دیا کرتے تھے محتاجوں مسکینوں اور مسافروں کو دے دیا کرتے تھے جب پہلے تم اہلِ بیتؓ کو خرچ دیتے تھے اور کام کرنے والے کو بھی اس سے دیتے تھے سیدہ فاطمہؓ نے کہا تم بھی ایسا ہی کرو جیسے میرے والد ماجد رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے تو ابوبکرؓ نے کہا میں خدا کو گواہ کرتا ہوں کہ میں ایسے ہی کروں گا جیسے رسولِ اللہﷺ کیا کرتے تھے سیدہ فاطمہؓ نے فرمایا باخدا تم ایسا کرو گے ابوبکرؓ نے کہا باخدا ایسے ہی کروں گا سیدہ فاطمہؓ نے کہا خدا اس پر گواہ رہنا پھر سیدہ فاطمہؓ اس بات پر رضامند ہوگی اور عہد لے لیا ابوبکر صدیقؓ پہلے ان کو خرچ دیا کرتے تھے اور بعد میں غرباء و مساکین کو دیتے تھے۔