Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امام بخاری کا مقام و مرتبہ

  ارشاد الحق اثری

حدیث پاک کے حفظ و ضبط اور صیانت و حفاظت میں جن نفوس قدسیہ نے لازوال خدمات سرانجام دیں ان میں ایک امام المحدثین امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ہیں۔
امام بخاری ۱۳ شوال، بعد از نماز جمعہ ۱۹۴ھ میں پیدا امام بخاری کا مقام و مرتبہ ہوۓ۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی ، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام و کیع بن جراح کی کتابوں کو از بر کیا اور فقہ اہل الرای پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ اور ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام محمد بن سلام جو خود کبار محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ ۵ ہزار احادیث انہیں یاد تھیں اور ۴۰ ہزار در ہم علم حدیث حاصل کرنے میں اور ۴۰ ہزار حدیث کی نشر و اشاعت میں خرچ کئے۔ علم کے ہر باب میں انہوں نے کتابیں لکھیں۔ جن و انس ان کے حلقہ تلمذ میں شامل رہے۔ یحیی بن یحیی فرماتے ہیں کہ خراسان میں علم کے دو خزانے ہیں۔ ایک امام اسحاق بن راہویہ اور دوسرے محمد بن سلام (التذکرہ، السیر، التهذیب وغیرہ)۔ یہی امام محمد بن سلام اپنے تلمیذ رشید امام بخاری سے فرماتے: میری کتاب دیکھو اور جو غلطی اس میں محسوس کرو اس کو درست کرتے جاؤ۔ حاضرین میں سے ایک نے کہا یہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ” هـذا الـذي لـيـس مـثـلہ“ یہ وہ ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔ سلیم بن مجاہد کا بیان ہے کہ میں امام محمد بن سلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا اس سے پہلے آتے تو تم ایک ایسا لڑکا دیکھتے جس کو ستر (۷۰) ہزار احادیث یاد ہیں۔ سلیم کہتے ہیں یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ اس کی تلاش میں نکلا۔ اتفاقا اس سے میری ملاقات ہو گئی میں نے کہا: اے نوجوان تمہارا دعوی ہے کہ تجھے ستر ہزار حدیثیں یاد ہیں۔ تو امام بخاری نے فرمایا بلا ریب مجھے ۷۰ ہزار احادیث یاد ہیں بلکہ جس حدیث کی نسبت سوال کریں گے ان میں اکثر راویوں کی وفات، جائے سکونت اور ان کے ضروری حالات بھی بتلا سکتا ہوں۔ یہی محمد بن سلام فرماتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل جب میرے حلقہ درس میں آتے ہیں تو میں متحیر ہو جاتا ہوں۔ اور مجھے خوف محسوس ہونے لگتا ہے کہ کہیں محمد بن اسماعیل کے سامنے غلطی نہ کر جاؤں۔ (ھدی الساری وغیرہ) اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ ابتدائی ایام طلب علم ہی میں امام بخاری کی پوزیشن کیا تھی اور حفظ و ضبط رجال و تاریخ میں ان کی معلومات کا دائرہ کتنا وسیع تھا۔ اس بات کا اندازہ اس سے بھی لگائیے کہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ امام بخاری کی عمراا سال تھی یعنی مکتب میں جانے اور شیوخ کی خدمت میں حاضر ہونے کو ابھی ایک سال ہوا کہ بخارا کے شیخ امام داخلی کی مجلس میں حاضر ہوئے شیخ نے ایک حدیث کی سند

"سـفـيـان عـن ابـي الـزبـيـر عـن ابـراهـيـم"

کے واسطہ سے پڑھی تو امام بخاری بول اٹھے کہ جناب ابوالزبیر نے ابراھیم سے کوئی روایت نہیں لی۔ امام داخلی ناراض ہوئے تو انہوں نے عرض کیا آپ کے پاس اصل مسودہ ہے تو مراجعت فرما لیجئے۔ امام داخلی گھر تشریف لے گئے اصل مسودہ کو دیکھا تو اپنی غلطی پر متبنہ ہوئے۔ گھر سے باہر آ کر انہوں نے امتحان کے طور پر اس سند کی تصیح کا سوال امام بخاری سے کر دیا کہ

”کیف ھو یا غلام"

اے لڑکے یہ سند کیسے ہے؟ تو امام بخاری نے عرض کی صحیح سند یوں ہے

"الـزبـيـر هـو ابـن عـدى عـن ابـراهـيـم"

یعنی سند میں ابو الزبیر نہیں زہیر ہے اور وہ زہیر بن عدی ہیں۔ یہ سن کر امام داخلی نے قلم سے کتاب کی۔ جس کی وہ قراء ت کر رہے تھے۔ تصحیح کر لی۔
مشائخ بخارا سے تقریباً چھ سال استفادہ کر لینے کے بعد ۲۱۰ھ میں، جبکہ امام بخاری کی عمر پندرہ (۱۵) سولہ (۱۶) سال تھی، اپنی والدہ محترمہ اور بھائی احمد کے ہمراہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ والدہ اور بھائی واپس بخارا آ گئے اور امام بخاری وہیں حصول علم میں مصروف ہو گئے۔ حرمین شریفین کے علاوہ شام، بصرہ، عراق، مصر، جزیرہ، نیساپور، واسط ، عسقلان وغیرہ بلاد اسلامیہ کی خاک چھان کر ایک ایک حدیث کو جمع کیا۔ خود ان کا بیان ہے کہ شام، مصر اور جزیرہ میں دوبار بصرہ میں چار مرتبہ گیا حجاز مقدس میں چھ سال رہا۔ کوفہ اور بغداد میں متعدد بار جانا ہوا۔ (ھدی الساری)
مت سمجھئے کہ اس دوران محض انھوں نے اپنے شیوخ سے استفادہ کیا۔ بلکہ اس مدت میں اللہ تعالی کی طرف سے عطاء کردہ بے پناہ سعادتوں کی بنا پر وہ حدیث کا درس بھی دیتے رہے اور سلسلہ تصنیف بھی جاری رکھا۔ اور اپنے شیوخ سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔ چنانچہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ابو بکر بن عیاش الاعین کا بیان ہے کہ ہم نے امام محمد بن یوسف الفریابی۔ جو کہ امام بخاری کے استاد ہیں۔کے دروازے پر محمد بن اسماعیل بخاری سے احادیث لکھیں۔ انہیں ابھی داڑھی بھی نہیں آئی تھی۔ اندازہ کیجئے کہ امام فریابی ربیع الاول ۲۱۲ھ میں فوت ہوئے۔ ۲۱۰ھ میں امام بخاری گھر سے چلے امام فریابی سے استفادہ ظاہر ہے ۲۱۱ھ، ۲۱۲ھ میں ۱۷-۱۸ سال کی عمر میں ہی کیا ہو گا۔ اور اسی دوران وہ حلقہ یاران علم کو درس بھی دیتے ہیں۔
۲۱۸ھ ہی میں انہوں نے

"قـضـايـا الـصـحـابـة والـتـابـعـين"

لکھی اور پھر

"الـتـاريـخ الـكـبـيـر"

مدینہ منورہ میں روضہ اقدس کے پاس راتوں کو چاند کی روشنی میں مرتب کی۔۲۱۸ھ ہی کا واقعہ خود امام صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ایک روز امام حمیدی کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کی ایک اور محدث کے ساتھ ایک حدیث کے بارے میں بحث و تکرار ہو رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے فرمایا ہم اپنا فیصلہ محمد بن اسماعیل سے کراتے ہیں۔ چنانچہ میں نے دونوں کی گفتگو سن کر امام حمیدی کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ ان کا موقف ہی درست تھا۔
اس داستان سرائی کا مقصد صرف یہ تھا کہ عنفوان شباب ہی میں امام بخاری کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا گیا۔ حفظ حدیث اور معرفت علل و رجال میں ان کے اقوال کو قول فیصل کے طور پر قبول کیا گیا۔ حدیث کا شغف رکھنے والوں نے مختلف انداز میں ان کا امتحان لیا تو ہر بار وہ اس میں کامیاب ہوئے۔ اور ان کے تبحر علمی کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ بلکہ ان کے فضل و کمال کا اعتراف ان کے اساتذہ کرام نے بھی کیا معاصرین نے بھی اور متاخرین نے بھی۔ امام قتیبہ بن سعید کا شمار امام بخاری کے مشہور اساتذہ میں ہوتا ہے اور وہ امام احمد ، امام علی بن مدینی ، امام یحیی بن معین ، امام ابن ابی شیبہ، امام زهیر بن حرب، امام دارمی، امام الذھلی امام ابو زرعہ اور امام ابو حاتم رحم اللہ کے بھی استاذ ہیں اور امام مالک ...... امام لیث وغیرہ کے شاگرد ہیں۔ امام بخاری نے الجامع صحیح میں ان سے ۳۰۸ احادیث روایت کی ہیں۔ یہی امام قتیبہ امام بخاری کے بارے میں فرماتے ہیں۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے محمد بن اسماعیل بخاری جیسا کسی کو نہیں دیکھا وہ اپنے زمانہ میں ایسے تھے جیسے حضرت عمر فاروق صحابہ کرام میں۔ اگر وہ صحابہ کرام کے زمانہ میں ہوتے تو اللہ تعالی کی ایک نشانی ہوتے۔ امام قتیبہ سے ایک مرتبہ یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے۔ اتفاق سے وہاں امام بخاری بھی پہنچ گئے انہیں آتا دیکھ کر امام قتیبہ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سائل سے فرمایا: وہ دیکھو احمد بن حنبل ، اسحاق بن راہویہ اور علی بن مدینی کو اللہ تعالی نے تمہارا مسئلہ حل کرنے کے لئے بھیج دیا ہے۔ ان سے مسئلہ پوچھو۔ امام قتیبہ ہی کا بیان ہے کہ میرے پاس علم حاصل کرنے کے لئے مشرق و مغرب سے لوگ آئے مگر محمد بن اسماعیل بخاری جیسا میرے پاس کوئی نہیں آیا۔
امام بخاری کے شیوخ میں ایک امام علی بن مدینی وہ استاد ہیں جن کے بارے میں خود امام بخاری نے فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ میں نے اپنے آپ کو کسی بھی صاحب علم کی مجلس میں چھوٹا اور حقیر نہیں پایا۔ حامد بن احمد کہتے ہیں کہ جب امام بخاری کے اس قول کا ذکر امام علی بن مدینی سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا

" دع قـولـه هـو مـارأى مـثـل نـفـسـه"

اس کی بات کو چھوڑو اس نے تو اپنے جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔
امام اسحاق بن راہویہ کا شمار بھی امام بخاری کے اساتذہ میں ہو تا ہے۔ یہ وہی استاد ہیں جنھوں نے امام بخاری کو صحیح احادیث جمع کرنے کی ترغیب دی۔ اور انھوں نے ہی امام بخاری کے بارے میں فرمایا

"لـوكـان فـي زمـن الـحـسـن الـبـصـرى لاحـتـاج الـيـه لـمـعـرفـتـه بـالـحـديـث وفـقـهـه“

کہ اگر یہ حسن بصری کے زمانہ میں ہوتے تو معرفت حدیث اور فقہ کی بناء پر حسن بصری ان کے محتاج ہوتے۔
امام احمد سے زمانہ واقف ہے امام بخاری کے وہ بھی استاد ہیں۔ فرماتے ہیں کہ خراسان کی سرزمین میں امام بخاری جیسا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ امام عبداللہ بن محمد مسندی جو امام بخاری کے بخارا میں ابتدائی استاد تھے ۲۲۹ھ میں فوت ہوئے اور امام بخاری نے الجامع الصحیح میں ان سے (۴۴) چوالیس احادیث بیان کی ہیں۔ یہی امام مسندی فرماتے ہیں محمد بن اسماعیل بخاری امام ہیں جو انہیں امام نہیں مانتا اسے جھوٹا سمجھو۔ امام رجاء بن مرجی محدث سمرقند فرماتے ہیں امام بخاری کو لوگوں پر وہی فوقیت حاصل ہے جو مردوں کو عورتوں پر ہے وہ تو زمین پر اللہ تعالی کی چلتی پھرتی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ (ہدی الساری وغیرہ)
امام بخاری کے دیگر معاصرین ان کے تلامذہ مثلا امام مسلم ، امام دارمی امام ترمذی وغیرہ اور دیگر متاخرین کے اقوال ہدی الساری، السیر، التذکرہ، التاریخ الذہبی وغیرہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ اگر میں ان کی مدح و توصیف میں متاخرین کے اقوال کا دروازہ کھول دوں تو کاغذ ختم ہو جائیں اور عمر بھی تمام ہو جائے وہ تو ایک سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ (ہدی الساری ص ۴۷۵)