Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معقولی بحث

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اب ہم نقلی بحث کو چھوڑ کر اس معاملہ میں عقلی بحث کرتے ہیں کہ کیا رسولِ خدا نے فدک سچ مچ سیدہ زہراؓ کو ہبہ کر دیا تھا، کیا یہ ممکن تھا کہ اتنی بڑی جاگیر جس کی آمدنی (بقول شیعہ) ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ سالانہ بیان کی جاتی ہے پیغمبرِ خدا نے سیدہ فاطمہؓ کے سپرد کر دی ہو اور مسلمانوں کی ضروریات کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ یہ اسوہ حسنہ رسولﷺ سے توقع کی جا سکتی ہے کہ مسلمان تو روٹی کے محتاج رہیں گھروں سے مستغنی ہو کر اصحابِؓ صفہ کا لقبہ پائیں۔ کفار کے حملوں سے ایک لحظہ بھی چین نہ پڑے بلکہ خود رسولﷺ کا یہ حال ہو کہ صبح کے طعام کے بعد نانِ شبینہ کے لیے توکل پر سہارا ہو۔ امہات المومنینؓ مسکینی میں بسر کر رہی ہوں، نو مسلم فاقوں سے پیٹ کی تواضع کریں اور رحمت للعالمینﷺ جو کسی مسلمان کی ذرا بھر تکلیف سے بھی بے چین ہو جاتے تھے۔ یہ سب کچھ ٹھنڈے دل سے برداشت کرتے رہیں اور اتنی بڑی جاگیر سے نہ تو خود اور نہ کسی اور مسلمان کو متمتع ہونے دیں۔ بلکہ اسے اپنی اولاد کے عیش و آرام کے لیے مخصوص کر دیں۔ کیا رسولﷺ برحق کے لیے جو فقیروں کا ملجا غربا کا سہارا غلاموں کا مولیٰ، یتیموں کا والی اور اخلاق حمیدہ کا مجسم تھا۔ یہ تمام باتیں محالات و غیر ممکنات سے نہ تھیں۔ کیا وہ اپنی امت سے اس قدر مستغنی المزاج ہو گیا تھا کہ ان کے دکھ سکھ سے اس سے کوئی تعلق ہی نہ تھا بلکہ جو کچھ کرتا تھا۔ وہ محض نفع ذاتی اور اپنی اولاد کے لیے کرتا تھا۔ کیا احسان کا یہی بدلہ تھا کہ وہ مہاجرین جنہوں نے فی سبیل اللہ اپنے گھر اور مالوں کو راہ خدا میں قربان کیا ہجرت کے مصائب برداشت کیے اور خوشی سے فکر و فاقہ قبول کر کے اسلام کے لیے شمشیر بکف رہے۔ نان جویں کو بھی ترسیں اور رسول کریمﷺ کا ابرِ کرم اپنی صاحبزادی کے سوا کسی پر نہ برسے۔ کیا اس سالارِ اعظمؓ نے جس کے خیال میں انتہائی درجہ کی وسعت اور اولو العزمی تھی۔ اور جو گروہِ مسلمین کی خیر خواہی اور ہمدردی کا دعویدار تھا، یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ان تمام اغراض و مقاصد سے جو اس کے پیش نظر ہوں اغماض کو کام میں لا کر اور امرِ الٰہی سے تجاوز کر کے تمام حقوق بلاوجہ تلف کر دے، کیا ممکن ہو سکتا ہے کہ اس زمانے کے مسلمان اس قدر سادہ لوح تھے کہ باوجود اس صریح بے انصافی کے جو ان کے حق میں روا رکھی گئی ہو، ذرا بھی متاثر نہ ہوتے ہوں۔ کیا دشمنانِ اسلام ان حالات کی موجودگی میں ببانگِ دہل اس امر کا اعلان نہ کریں گے کہ وہ نبی جس کا مذہب خود غرضی اور نفس پروری کا دفعیہ، ایثار و اخلاق مکارم کی تکمیل کا ذریعہ بنا نعوذ باللہ میدانِ عمل میں اس کے خلاف کرے، کیا ہم سیدنا امیر معاویہؓ یا خاتونِ جنتؓ کے اخلاق و اسوہ حسنہ سے یہ امید کر سکتے ہیں کہ ان کے باپ کی پیاری امت تو اس رنج و صعوبت میں گرفتار ہو اور وہ اتنی بڑی صاحب جاگیر ہو کر ذرہ بھر بھی امداد نہ کریں؟